عدلیہ اپنے وقار پر لگا داغ دھوئے، ثاقب نثار کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھائے، میرے پاس تمام شواہد موجود ہیں: مریم نواز

      عدلیہ اپنے وقار پر لگا داغ دھوئے، ثاقب نثار کے گناہوں کا بوجھ نہ ...

  

        اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مسلم لیگ(ن)کی ناب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گناہوں کا بوجھ عدلیہ نہ اٹھائے،میرے پاس تمام تر شواہد موجود ہیں لیکن عدلیہ اپنے وقار پر لگے داغ کو خود دھوئے،ثاقب نثارنے انصاف کا قتل کیا، ان کی آڈیو گناہوں کا اعتراف ہے، انکی سازش کیخلاف قدرت کا نظام حرکت میں آچکا، ججز کے ہاتھ میں ہے نواز شریف کو انصاف دیں اور اپنے چہرے سے اس دھبے کو دھوئیں، معزز جج صاحبان سے اپیل  ہے کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں کیونکہ انگلیاں ان پر اٹھی ہیں،  آج نہیں تو کل قوم کو سچ  بتانا پڑے گا ۔بدھ کو مسلم لیگ (ن)کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال،مریم اورنگزیب   ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ثاقب نثار کی آڈیو منظر عام پر آنے کے بعد فوری  پراپگینڈا شروع  ہو گیا،آڈیو میں جملے فلاں تقریر سے اٹھائے ہیں  اور بہت کچھ ہوا،میں بڑے آدب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ  ہو سکتا ہے کہ یہ انکا تکیہ کلام ہوا،جس طرح عمران خان ہر روز تقریر میں کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے آپ  ویسٹ کو اتنا نہیں  جانتے جتنا میں جانتا ہوں،وہ ہر تقریر میں  یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔اس موقع پر مریم  نواز نے لیک آڈیو میں ہونے والی گفتگو پڑھ کر سنائی،   انہوں نے کہا میں اس چینل سے سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ  جو اصل جملے ہیں جو آپ کھا گئے ہیں اور ہضم کر گئے ہیں،وہ جملے جو ثاقب نثار کیخلاف چارج شیٹ ہیں، جو پہلے 3جملے ثاقب نثار صاحب کی آواز ہیں تو کیا یہ آخری جملے بھی ثاقب نثار صاحب کی آواز نہیں ہیں،جو بات آپکو پسند ہیں وہ انکی آواز ہے اور جو آپ کو پسند نہیں وہ ثاقب نثار کی آواز نہیں ہے،میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو،ایسا نہیں چلے گئے،اصل جملے اگر ثاقب نثار کی کسی تقریر سے لئے گئے ہیں تو ہمیں بتا دیں تاکہ ہمیں بھی پتا چلے۔مریم نواز نے کہا کہ   نواز شریف کو سزا دینے والے جج ارشد ملک صاحب کی ویڈیو میں نے ریلیز کی تھی دنیا کے سامنے،ارشد ملک صاحب کو  سچ بولنے کی پاداش میں نکال دیا گیا،اس وقت کے چیف جسٹس صاحب نے ارشد ملک سے متعلق کہا کہ یہ عدلیہ پر کالا دھبہ ہیں  تو وہ کالا دھبہ انہوں نے اسطرح دھویا کہ انہوں نے اس جج کو نکال دیا مگر انکا فیصلہ آج بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج  صاحب کا بیان حلفی سامنے آیا،آڈیو  اور ویڈیو  پر شکوک شبہات ہو سکتے ہیں مگر  بیان حلفی پر تو نہیں،میر  امطالبہ ہے کہ شوکت عزیز صدیقی، گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم  کو بلایا جائے اور ان سے تصدیق کی جائے۔بیان حلفی سامنے آنے کے بعد ثاقب نثار صاحب نے کہا کہ میں پاگل ہوں جو میں کورٹ کچہری کے چکر لگاتا رہوں،میں ثاقب نثار سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ 3بار کے منتخب وزیر اعظم کیا پاگل تھا جو قانون کا احترام کرتے ہوئے بیٹی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوتے رہے،اپنی3نسلوں کا حساب دیا،ثاقب نثار صاحب کو کہنا چاہتی ہوں کہ آج نہیں تو کل قوم کو سچ  بتانا پڑے گا کہ کس نے آپ کو مجبور کیا کہ نواز شریف کو سزا دیں،کس نے آپکو مجبور کیا  کہ مریم نواز کی سزا نہیں بھی بنتی تو پھر بھی سزا دیں،کس نے آپ کو کہا کہ ہمیں عمران خان کو لانا ہے،وہ کون تھا جسکو آپ چیف جسٹس ہونے کے باوجود بھی انکار نہیں کر سکے،آپ کیوں غیر آئینی اور غیر قانونی احکامات ماننے پر مجبور ہوئے اسکا جواب قوم کوبتانا ہوگا۔مریم نواز نے کہا کہ   جسٹس شوکت عزیز صدیقی، جج ارشد ملک، چیگ جج رانا شمیم،سابق ڈی جی ایف آئی اے  کے بعدیہ5ویں شہادت نواز شریف کے حق میں آئی ہے،گزشتہ5سالوں میں قوم کے سامنے جو واقعات ہوئے کیا وہ قوم بھلا دے گی،پانامہ میں 450لوگوں کے نام آئے کس کو کچھ نہیں کہا گیا،نواز شریف جس کا پانامہ میں نام بھی نہیں تھا اس کو نشانہ بنایا گیا اور جب کچھ نہ ملا تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر  نکال دیا۔عوام کے منتخب وزیر اعظم کو ایک سازش کے تحت عہدے سے ہٹایا گیا، نواز شریف کے کیس میں تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ خود اتھارٹی بنی اور نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کیے گئے۔جب پنڈورا پیپرز آئے تو اس وقت جے آئی ٹی کہاں تھی؟ پاکستان کی تاریخ میں کونسا ایسا کیس ہے جس میں سپریم کورٹ، نیب کو ریفرنس بھیجتا ہے اور اس پر ایک مانیٹرنگ جج بٹھایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب عمران خان پر کیس فائل ہوا،تو اس میں جھوٹے بیان حلفی،جھوٹی منی ٹریل دی گئی،عمران خان کے خاندان میں سے کسی کو نہیں بلایا گیا،جھوٹی منی ٹریل کو  سچ مان لیا گیا،عمران خان کی طرف سے جمع کرائی گئی جھوٹی منی ٹریل  پر کیا کوئی جے آئی ٹی بنی؟ عمران خان کیس میں  اس وقت یونین کونسل نے عدالت کو بتایا کہ جس وقت کا کمپیوٹرائزڈ اجازت  نامہ پیش کیا گیا ہے،اس وقت تو یونین کونسل میں کمپیوٹر تھا ہی نہیں۔جو کو صادق آمین کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا وہ پوری قوم کے سامنے ایکسپوز ہو گیا اور صادق آمین کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے بھی ایکسپوز ہو گئے،یہ قدرت کا نظام ہے، ثاقب نثارنے انصاف کا قتل کیا، ان کی آڈیو گناہوں کا اعتراف ہے، ان کی سازش کیخلاف قدرت کا نظام حرکت میں آچکاہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل (ن) کے سینیٹرز سے آپ نے شیر کا نشان چھین لیا، کیا ہم اس تاریخ کو جھٹلا سکتے ہیں، آپ نے مسلم لیگ (ن) کے لیے انصاف کا ایک الگ معیار قائم کیا ہے جبکہ دوسروں کے لیے معیار دوسرا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ سابق چیف جسٹس تو اپنی بے گناہی میں کچھ نہیں کہہ رہے لیکن حکومت کے ورزا جواب دینے کے لیے ہلکان ہو رہے ہیں، وہ ثاقب نثار کے بے نقاب ہونے پر اپنے گناہوں سے ڈرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب آڈیو سامنے آئی تو عمران خان نے ترجمانوں کا اجلاس طلب کرلیا حالانکہ مہنگائی کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کیا گیا، ہم بطور پاکستانی عدلیہ کو تمام شک و شبہات سے بلا تر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ثاقب نثار صاحب نے عدلیہ کو بدنام کیا ہے، فیصلہ کروانے والے اب بھی پس پردہ ہیں لیکن عدلیہ بدنام ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس تمام تر شواہد موجود ہیں لیکن عدلیہ اپنے وقار پر لگے داغ کو خود دھوئے۔اس سوال پر کہ آپ نے جو پانچ شواہد دیے ان کو لے کر آپ عدالت جائیں گی، مریم نواز نے کہا کہ ’میرے پاس بالکل وہ شواہد موجود ہیں، میرے وکلا کی ٹیم ان کو دیکھ رہی ہے۔ پہلے تو میری معزز جج صاحبان سے اپیل یہی ہے کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں کیونکہ انگلیاں ان پر اٹھی ہیں،یہ صرف نواز شریف کا کیس نہیں ہے، یہ پوری قوم کا کیس ہے، ثاقب نثار کے گناہوں کا بوجھ عدلیہ نہ اٹھائے، عدلیہ اس معاملے سے خود کو علیحدہ کرلے، ججز کے ہاتھ میں ہے نواز شریف کو انصاف دیں اور اپنے چہرے سے اس دھبے کو دھوئیں، ہم انہیں یہ موقع دے رہے ہیں۔ ثاقب نثار22کروڑعوام کے مجرم ہیں، وہ جتنی جلدی غلطیاں سدھارلیں گے بہترہے،کیونکہ اس سازش کے نتیجے میں جس شخص کو آپ نے مسند اقتدار پر بٹھایا، اس شخص نے 22 کروڑ عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔

مریم نواز

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان  مسلم لیگ (ن) کی نیب صدر مریم نواز  نے کہا کہ حکومت اصل مجرم ہے، نیب حکومت کا آلہ کار ہے،نیب کے پاس کوئی ثبوت نہیں‘ نیب سے جب ثبوت مانگتے ہیں تو اس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،میرے کیس میں التواء میں نہیں نیب  مانگ رہا ہے۔   اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے  مریم نوازنے کہا کہ نیب کے پاس کوئی ثبوت نہیں‘ نیب سے جب ثبوت مانگتے ہیں تو اس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ کیسز حکومت میں بیٹھے لوگوں کی طرف سے بنائے گئے۔ نیب جواب کہاں سے دے،،نیب سے جواب نہیں بنتا تو حکومت کو آنا پڑتا ہے،،یہاں فارن فنڈنگ کا کیس نہیں چل رہا جس میں التواء مانگا جائے میرے کیس میں التواء میں نہیں نیب  مانگ رہا ہے۔  واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نوازکے وکیل نے 24 نومبر کی سماعت  ملتوی کرنے کی درخواست کردی۔مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز کے وکیل عرفان قادرایڈوکیٹ نے التوا کی درخواست دائرکی۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث 24 نومبر کو پیش نہیں ہو سکتا۔  24نومبر کے بجائے سماعت کسی اور تاریخ تک ملتوی کی جائے۔دوسری طرف لیگی رہنما مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت 21 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔۔ بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے لیگی رہنما مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت نے مریم نواز کے وکیل عرفان قادر کی التوا کی درخواست منظور کرلی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ سماعت 15 دسمبر کو رکھ لیتے ہیں جس پر وکیل اعظم تارڑ نے موقف اپنایا کہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے بیٹے جنید صفدر کی شادی 17 دسمبر کو ہے۔ جس پر عدالت نے سماعت 21 دسمبر تک ملتوی کردی۔

اپیل ملتوی

مزید :

صفحہ اول -