سندھ اسمبلی: اپوزیشن کی جانب سے متواتر شور شرابہ اور احتجاج کا سلسلہ جاری 

    سندھ اسمبلی: اپوزیشن کی جانب سے متواتر شور شرابہ اور احتجاج کا سلسلہ ...

  

        کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بدھ کو اپوزیشن کی جانب سے متواتر شورشرابہ اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز ہی میں اپوزیشن نے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ہنگامہ آرائی شروع کردی, ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اچھال دی گئیں اور قائد حزب اختلاف ایوان میں اپنا میگا فون لے آئے جس پر سرکاری ارکان نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ میگافون لیکر آئے ہیں کل کوئی اسلحہ بھی لیکر آسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کو ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کی زیر صدارت ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو اپوزیشن کی جانب سے اس بات پر اعتراض کیا گیا کہ کارروائی شروع کرنے میں غیر ضروری طور اتنی تاخیر کیوں کی گئی ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان شور شرابہ کرتے ہوئے اسپیکر کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے۔ قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا کہ یہ کونسا طریقہ ہے کہ صاحب لوگوں کا انتظار کیا جائے کہ جب وہ آجائیں تو اجلاس شروع ہو۔ وقفہ دعا کے دوران ایم ایم اے کے رکن اسمبلی سید عبدالرشید نے کہا کہ لیاری میں قتل و غارت گری کا آغاز ہوگیاہے۔علاقے میں مظاہرے پر موٹرسائیکل سواروں نے براہ راست فائرنگ کی،لیاری میں مسلح لوگ گھوم رہے ہیں،دعا کریں کہ ظالموں بھتہ خوروں سے نجات ملے۔ایوان کی کارروائی کے دوران  ارکان کی جانب سے دلچسپ دعائیں بھی کی گئیں۔ ایم کی وایم کے محمد حسین نے کہا کہ دعا کریں کہ اللہ ڈپٹی اسپیکر کو ایجنڈا پورا کرنیکی توفیق دے جبکہ پیپلز پارٹی کی ہیر سوہو نے جوابا دعا کرائی کہ سندھ حکومت کیخلاف سازشیں کرنیوالے نیست و نابود ہوں۔ پی ٹی آئی کے ربستان نے قبضہ مافیا کے خلاف عدا کی استدعا کی۔ پیپلز پارٹی کے نعیم کھرل نے کہا کہ چھوٹے بڑے مسئلے ہر سیاسی جماعت میں ہوتے ہیں،فہمیدہ سیال میری رشتے دار ہے کسی خون پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔کارروائی کے دوران اپوزیشن کے احتجاج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن نے ایوان میں غیر پارلیمانی رویہ اپنارکھا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ارکان اسمبلی قواعد پڑھ کر نہیں آتے۔ مکیش کمار نے وزیراعظم کو کٹھ پتلی قراردیتے ہوئے کہا کہ کل ایک وفاقی وزیر نے گندم چوری سے متعلق غلط بیان دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ: وفاق میں چور بیٹھے ہیں، سندھ میں کوئی گندم چوری نہیں ہوئی، ایل این جی چور تو وفاقی حکومت میں بیٹھے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت نے گندم پر پچیس ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں گندم کی سالانہ خریداری ہی 12لاکھ ٹن ہوتی ہے۔کیسے ممکن ہے کہ 16لاکھ میٹرک ٹن گندم سندھ سے چوری ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری تو یہ کی جائیکہ 68لاکھ گندم چوری کیسے ہوئی۔بڑے چوہے وفاقی کابینہ میں بیٹھے ہیں۔سندھ سے 16لاکھ ٹن گندم چوری کا جھوٹ بولاگیا اوروفاقی کابینہ میں بیٹھ کر غلط بریفنگ دی گئی۔ مکیش کمارکے ان اشتعال انگیز ریمارکس پر اپوزیشن کے ارکان مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ہنگامہ شروع کردیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے حلیم عادل شیخ اور اپوزیشن کے دیگر ارکان کے مائیک بندکرادیئے۔اس موقع پر حلیم عادل شیخ نے اپنا میگا فون ہاتھ میں تھام لیا جو وہ اسمبلی میں لے آئے تھے۔ڈپٹی اسپیکر نے مائیک ایم کیوایم پاکستان کے خواجہ اظہار الحسن کو دے دیا۔اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے پی ٹی آئی ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس قادر شاہ نے کہا کہ یہ لوگ آج ایوان میں میگا فون لائے ہیں کل کوئی اسلحہ لاسکتاہے۔ اس لئے اس چیز کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ایوان میں سیکورٹی کیا کررہی ہے۔اسپیکر اپنے اختیارات استعمال کریں۔یوان کا ماحول بہت خراب ہورہا ہے۔ خواجہ اظہار نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ آج دونوں طرف سے دعا کے وقفے میں بددعائیں دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی چئییر بھی کمپرومائیز نہیں ہونی چاہییے۔وزیراعلی سندھ کو کئی معاملات میں اپوزیشن لیڈر کے ساتھ بیٹھنا ہوتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ایوان میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اسٹینڈنگ کمیٹی میں ہمارا کوئی ممبر نہیں ہے۔ناظم جوکھیو پر قرار داد لانا چاہتے تھے۔شرجیل میمن نے کہا تھا کہ لے آئیں گے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 40فیصد سندھ کی نمائندگی ہمارے پاس ہے۔اسلام آباد میں آپ کے نمائندے بولتے ہیں۔ہم ہاو س کو چلانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سندھ میں جمہوریت کا جنازہ نہ نکلے۔آغا صاحب کی یادآئی تیرے جانے کے بعد۔انہوں نے کہا کہ آغا صاحب پھر اجلاس چلا رہے ہیں۔توجہ دلاو  نوٹس پر کبھی پابندی نہیں دیکھی۔انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ آپ ہماری بہن ہیں لیکن اپوزیشن لیڈر کا مائیک بند نہ کیا جائے۔اپوزیشن ارکان کا حق ان کو موقع دیا جائے۔ حلیم عادل شیخ کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار نے کہاکہ جمہوریت تو پورے ملک میں خطرے میں ہے اپوزیشن کو قائمہ کمیٹیوں میں نمائندگی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں جب چاہیں قائمہ کمیٹیوں کے الیکشن کرائیں نمائندگی لیں۔ ایم کیو ایم کے محمد حسین نے کہا کہ ایوان کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی بنی تھی۔اس سیشن سے پہلے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں ہوا۔آپ اگر بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بلا لیتی تو اجلاس بہتر چل سکتا تھا۔ ایم ایم اے کے رکن سید عبد الرشید نے کہا کہ میرا قانونی حق ہے کہ میں پبلک کے مسائل پر بات کروں۔لیاری میں نالے پر پیپلز پارٹی کا دفتر بنا ہے۔رات احتجاج کے لئے نکلے تو گولیاں چلائی گئیں،پانی کی لائن کاٹ دی گئیں۔تھانے گیا تو ایس ایچ او کہتے ہیں کہ واٹر بورڈ نے غلط لائن لگائی ہے۔انہوں نے کہا کہ لیاری کے لوگوں کو جینے کا حق ہے۔لیاری میں منشیات فروخت ہورہی ہے۔لیاری کے لوگ اپنے حق کے لئے نکلیں گے۔گولیاں برسانے والوں کو گرفتار کیا جائے۔انہوں نے دی نہیں تو میں پورا لیاری اسمبلی لیکر آو ں گا۔دیکھوں گا پھر کیسے اسمبلی چلتی ہے۔ 

مزید :

صفحہ اول -