جنوری تک پنجاب میں ہیلتھ کارڈ جاری، 2کروڑ نام موصول ہوگئے: یاسمین راشد 

جنوری تک پنجاب میں ہیلتھ کارڈ جاری، 2کروڑ نام موصول ہوگئے: یاسمین راشد 

  

   ملتان (  وقائع نگار)صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ عوام کو علاج معالجہ کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پنجاب کے بڑے ہسپتالوں میں سالانہ 248 ارب روپے کا بجٹ فراہم کررہے ہیں۔ 42 ارب روپے کا بجٹ صرف ادویات کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔ مریضوں کو ادویات نہ ملنے کی شکایات بدانتظامی ہے جسے دور کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں یہ بات انہوں نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔صوبائی وزیر صحت نے اس موقع پر کہا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں 25 ہزار نئے بیڈز کا اضافہ کر چکے ہیں۔ بیڈز کی تعداد میں مزید اضافہ کرنے جا رہے ہیں۔ نشتر ٹو اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ ہسپتال جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے حکومت کی بڑی کاوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 85 لاکھ افراد کو ہیلتھ کارڈ جاری کر چکے ہیں۔ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال ڈویژن کے تمام اضلاع میں شناختی کارڈ کو ہی ہیلتھ کارڈ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔نادرا کی طرف سے دو کروڑ سے زائد افراد کے نام ہیلتھ کارڈ کے اجرا کے لیے موصول ہوئے ہیں۔ آئندہ جنوری تک پنجاب کی اکثریت آبادی کو ہیلتھ کارڈز جاری ہو جائیں گے۔  50 ہزارسے زائدافراد مختلف ہسپتالوں سے ہیلتھ کارڈ پر علاج معالجہ کی سہولت حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے نئے مریضوں کی شرح انتہائی کم ہو چکی ہے۔ 60 فیصدسے زائدآبادی کوکورونا ویکسین لگائی جا چکی ہے جس میں پہلی ڈوز والے افراد بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خسرہ اور روبیلا کے خلاف دنیاکی سب سے بڑی مہم کا آغاز کیا گیا ہے جس میں 4 کروڑ60 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے5 ارب 70 کروڑ روپے کے سالانہ بجٹ کی سینڈیکیٹ اجلاس میں منظوری دی گئی ہے جس سے لوگوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔ ڈینگی پر قابو پانے کے لیے بھی اقدامات کئے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ڈینگی کے مریضوں کو ہر ممکن علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو پاکستان میں علاج کی بہترین سہولت دینے کے ساتھ غیر ملکی معالج کو بلانے کی آفر دی گئی تھی۔ نوازشریف نے اپنے علاج پر اطمینان کا اظہار بھی کیا تھا۔سیاسی مخالفت اور انسانیت الگ الگ پہلو ہیں ہم نے سیاست سے ہٹ کرانسانی پہلو کو ترجیح دی۔میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم رہے انہیں اس وقت پاکستان میں اپنے عوام کے ساتھ ہونا چاہئے تھا لیکن انہوں نے جیل میں وقت گزارنے  کے بجائے ملک سے باہر عیش و آرام کی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہا کہ پانامہ کے نوازشریف خود ذمہ دار ہیں انہوں نے جو لوٹ مار کی یہ اس کا نتیجہ ہے۔ آڈیو لیکس بارے صوبائی وزیر نے کہا کہ ہر شخص اپنے اعمال کا جواب دہ ہے۔صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ صحافیوں کو بھی جنوری میں ہیلتھ کارڈ جاری کئے جائیں گے۔

 قبل ازیں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی صدارت میں نشتر یونیورسٹی سنڈیکیٹ کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں مختلف انتظامی امور زیر بحث آئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ نشتر جیسے اہم تدریسی ہسپتال میں صفائی کو مزید بہتر کیا جائے اور ادویات کی بروقت خریداری یقینی بنائی جائے۔ طبی آلات و مشینری کی مرمت میں تاخیر نہ کی جائے انہوں نے کہا کہ فرینڈز آف نشتر کمیٹی کو فعال کیا جائے فرینڈز آف نشتر ماضی کی طرح معمولی نوعیت کے مسائل اپنی مدد آپ کے تحت حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ کے رویوں کو بہتر بنایا جائے۔ اجلاس میں نشتر یونیورسٹی کا 5 ارب سے زائد مالیت کا سالانہ بجٹ بھی زیر بحث لایا گیا اور منظوری دی گئی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ہدایت کی کہ نشتر یونیورسٹی کا ماسٹر پلان تیار کیا جائے اور ماسٹر پلان کے تحت مرحلہ وار عمارت کی بہتری، تعمیرو مرمت کی منصوبہ بندی کی جائے ماسٹر پلان کے تحت ہی طبی آلات کی بہتری،مرمت اور خریداری کی جائے اورہسپتال کے ہر شعبہ کی ضروریات کو اسیس کیا جائے انہوں نے کہا کہ بجٹ کو مالیاتی ضابطوں کو پورا کرتے ہوئے سو فیصد خرچ کریں۔ سنڈیکیٹ اجلاس میں نشتر یونیورسٹی میں بی ایس ٹیکنالوجی پروگرام کے اجرا کی منظوری دی گئی۔ سینڈیکیٹ اجلاس میں 6 مختلف شعبوں ڈی سی پی،ڈی جی او،ڈی سی ایچ،ڈی ٹی سی ڈی،ڈی او ایم ایس،اور ڈی اے  میں ڈپلومہ کے اجرا کی منظوری دی گئی اجلاس میں ایم ایس نرسنگ پروگرام کی  بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران سابق سینئر آڈیٹر محمد اقبال کے زیر بحث معاملہ پر سیکریٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر جنوبی پنجاب نادر چٹھہ ایم ایس نشتر اور ڈائریکٹر فنانس پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی اجلاس میں سیکرٹری سپیشلائیزڈ ہیلتھ کئیر نادر چٹھہ،وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر رانا الطاف احمد، پرنسپل نشتر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین، ممبر سنڈیکیٹ جلال الدین رومی، پروفیسر محمد سمیع اختر، ڈائریکٹر فنانس، رجسٹرار نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر غلام مصطفی، ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹر امجد چانڈیو اور دیگر سنڈیکیٹ ممبران نے شرکت کی۔ 

یاسمین راشد

مزید :

صفحہ اول -