لُکھا اور لچُا: عربی کے کس لفظ کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں؟

لُکھا اور لچُا: عربی کے کس لفظ کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں؟
لُکھا اور لچُا: عربی کے کس لفظ کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں؟

  

حضرت حذیفہ بن یمان (متوفی 36 ھ) معروف صحابی رسول  ﷺہیں ان کو رازدارِ رسول ﷺہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے، قربِ قیامت میں پیش آنے والے فتنوں اور پیشین گوئیوں کے حوالے سے اُن کی روایات معروف ہیں، بعض لوگ اُن کی روایت کردہ احادیث کو حالات حاضرہ پر بھی منطبق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اوریا مقبول جان نے اپنی ایک تقریر میں اُن کے نام کا تلفظ حُذَیفَہ کی بجاۓ حَذِیفَہ کیا، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس طرح کے دانش ور جب نام ہی میں غلطیاں کرتے ہیں تو روایات میں کس قدر غلطیاں کرتے ہوں گے۔

 سیدنا حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں کہ

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ ابْنُ لُكَعٍ". 

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:'' قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بیوقوفوں کی اولاد دنیامیں سب سے زیادہ خوش نصیب نہ ہوجائے''سنن الترمذی:٢٢٠٩

لُکع بن لُکع وہ گھٹیا شخص ہے جس کی بداخلاقی کی وجہ سے کوئی بھی اس کی تعریف نہیں کرتا۔ عربوں کے نزدیک اس کے معنی ہیں 'برا غلام'۔ لُکع کے لفظ کو حماقت اور جہالت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے اور عربی زبان میں مرد کو لُکع اور عورت کو لُکاع کہا جاتا ہے۔ 

لفظ لُکع جب ہندی، میواتی اور مقامی زبانوں میں آیا تو لُکھا اور لچُا ہوگیا۔ عربی الفاظ جب  فارسی کی طرف سفر کرتے ہیں تو بوجھل ہو جاتے ہیں ،جیسے ک، گ میں بدل جاتا ہے اور یہ لفظ جب ہندی کی طرف آتے ہیں تو مزید بوجھل ہو جاتے ہیں جیسے ک سے گ اور گ سے گھ۔ یہی کچھ اس لفظ میں ہوا ، لکع کا ک ،کھ میں بدل گیا اور ع کو الف میں تبدیل کر دیا گیا اور  یہ لفظ ”لُکھا“ ہو گیا، کہا جاتا ہے لُکھا اٹھائی گیرا انسان۔ پھر یہی لفظ بگڑ کر ”لچُا“ ہو گیا، محاورہ ہے لچُا لَفَنگا شخص وغیرہ۔

مزید :

بلاگ -ادب وثقافت -