روحانی پیوا، سابق وفاقی وزیر میاں محمود احمد خان آف بسی شریف انتقال کر گئے

    روحانی پیوا، سابق وفاقی وزیر میاں محمود احمد خان آف بسی شریف انتقال کر ...

  

      پاک پتن (تنویر ساحر سے) روحانی پیشوا اور سابق وفاقی وزیر میاں محمود احمد خان آف بسی شریف مختصر علالت کے باعث گزشتہ روز حمید لطیف ہسپتال لاہور میں اس دارفانی سے نوے برس کی طویل عمر میں پردہ فرما گئے۔ ان کے آباو اجداد کا تعلق ہندوستان کے ضلع ہشیار پور کے مذہبی گھرانے سے تھا ان کے نانا علی احمد خان ولی کامل تھے جو تقسیم کے بعد پاکستان آ کر حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی نسبت سے پاک پتن آباد ہوئے، یہیں وفات پائی ان کا مزار بھی احاطہ دربار بابا فرید ؒکے اندر ہے۔ میاں محمود احمد خان ان کے نواسہ اور سجادہ نشین تھے ان کی مریدین کی ہندوستان اور پاکستان میں بہت بڑی تعداد ہے میاں محمود احمد خان بسی شریف نے میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول پاک پتن سے کیا روحانی سلسلہ کے باعث میاں نوازشریف بھی ان کے عقیدت مندوں میں شامل تھے، 1990 میں میاں نوازشریف کے وزیراعظم بے نظیر کے خلاف عدم اعتماد کے دوران پاک پتن سے مانیکا فیملی کے سربراہ مرحوم میاں غلام محمد مانیکا، میاں نوازشریف کو چھوڑ کر بے نظیر کے ساتھ چلے گئے اور وہ عدم اعتماد ناکام ہو گیا تب مقامی سیاست پر میاں غلام محمد مانیکا کا طوطی بولتا تھا اور میاں نوازشریف نے مانیکا کو الیکشن ہرانے کے لیے میاں محمود احمد بسی شریف کو مسلم لیگ ن کی ٹکٹ دے کر الیکشن لڑنے پر آمادہ کیا جس کے باعث یہ مذہبی خانوادہ سیاست میں تو آ گیا لیکن اپنی شریفانہ اور روحانی روش برقرار رکھتے ہوئے سیاست میں بھی شرافت کی ایک روش قائم کی میاں محمود احمد بسی شریف 1990ء  اور 1997 ء کے الیکشن میں مسلسل دو بار ایم این اے منتخب ہوئے صنعت و تجارت کے وفاقی وزیر بھی رہے گزشتہ ن لیگ کی حکومت میں ان کی بیٹی عامرہ خان بھی قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نششتوں پر ایم این اے منتخب ہوئیں۔ میاں محمود احمد خان آف بسی شریف نے اپنے پسماندگان میں ایک بیوہ، ایک بیٹے داؤد محمود خان اور بیٹی عامرہ خان سمیت ہزاروں مریدین اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ ان کی نماز جنازہ آج بعد نمازجمعہ دربار حضرت بابا فرید گنج شکرؒ پر ادا کی جائے گی اور احاطہ دربار میں میاں علی احمد خان کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

روحانی پیشوا 

مزید :

صفحہ اول -