آرمی چیف کی تقریر

آرمی چیف کی تقریر

  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت غیر آئینی ہے، گزشتہ سال فروری میں فیصلہ کیا تھا کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی اور اِس عزم پر کار بند ہیں لیکن فوج کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے آئینی عمل کا خیر مقدم کرنے کی بجائے کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بہت غیر مناسب اور غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا، فوج پر تنقید عوام اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے مگر الفاظ کے چناؤ اور استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوجی قیادت کچھ بھی کر سکتی ہے لیکن ملک کے خلاف نہیں جا سکتی، جو سمجھتے ہیں عوام اور فوج میں دراڑیں ڈال دیں گے تو یہ اُن کی بھول ہے، پاک فوج کبھی ملک مفاد کے خلاف نہیں جا سکتی، غلطیاں سیاسی جماعتوں سے بھی ہوئی ہیں۔ جنرل باجوہ نے سازشی بیانیہ سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کی گئی، سینئر ملٹری لیڈر شپ کو مختلف القابات سے نوازا گیا، صبر کی حد ہوتی ہے، فوج نے درگزر سے کام لیا، اَب اِس جھوٹے بیانیے سے راہِ فرار اختیار کی جا رہی ہے، کوئی سوچ سکتا ہے کہ غیر ملکی سازش ہو اور فوج ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہے؟یہ ناممکن ہے،گناہِ کبیرہ ہے۔اُنہوں نے کہا کہ فوج دن رات قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے پھر بھی گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بنتی ہے، فوج نے اپنا کتھارسز شروع کر دیا ہے، اُمید ہے سیاسی پارٹیاں بھی ایسا ہی کریں گی، پاکستان میں جمہوری کلچر کو فروغ دینا ہو گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ 2022 ء میں تحریک عدم اعتماد کے بعد آنے والی حکومت کو امپورٹڈ کہا گیا، 2018 ء کے انتخابات کے بعد ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کو سلیکٹڈ کہا، اِس رویے کو رد کرنا ہوگا، ہار جیت سیاست کا حصہ ہے، ہر جماعت کو اپنی فتح اور شکست کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا تاکہ اگلے الیکشن میں امپورٹڈ اور سلیکٹڈ کے بجائے الیکٹڈ حکومت آئے۔ آرمی چیف نے کہا کہ کوئی ایک پارٹی پاکستان کو موجودہ معاشی بحران سے نہیں نکال سکتی، ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور آگے بڑھیں پاکستان کو بحران سے نکالیں، عدم برداشت کی فضا ء کو ختم کرتے ہوئے پاکستان میں ایک سچا جمہوری کلچر اپنانے کی ضرورت ہے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع اور شہدا ء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ یوم شہداء کی تقریب سے بطور آرمی چیف آخری مرتبہ خطاب کر رہے ہیں اور اُنہیں فخر ہے کہ وہ چھ سال تک دنیا کی بہترین فوج کا سپہ سالار رہے، فوج دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے کبھی غافل ہوگی نہ شہداء کے لواحقین کو تنہا ء چھوڑے گی، فوج کا بنیادی کام ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ ہے، فوج نے ہمیشہ مینڈیٹ سے بڑھ کر ملک اور قوم کی خدمت کی اور کرتی رہے گی۔ آرمی چیف نے کہا کہ جو قومیں اپنے شہدا ء کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں، زمانہ جنگ ہو یا امن پاک فوج کے جوان ہر وقت جان ہتھیلی پر رکھ کر مادرِ وطن کے دفاع پر مامور رہتے ہیں، ملک میں امن کے پیچھے شہدا کی قربانیاں ہیں۔

آرمی چیف نے ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل اپنا دل کھول کر عوام کے سامنے رکھ دیا۔ اُن کے خطاب میں بہت سی باتیں انتہائی اہم تھیں لیکن ایک بات ایسی تھی جس پر بحث نہ ہی چھیڑی جاتی تو بہتر ہوتا،اُنہوں نے سقوط ڈھاکہ کو سیاسی غلطی قرار دے دیا، اِسے جزوی طور پر تو درست کہا جا سکتا ہے کہ اُس وقت مسئلے کا سیاسی حل نکالا جانا چاہئے تھا لیکن اِسے مکمل طور پر درست نہیں کہا جا سکتا، اُس وقت فوج اقتدار میں تھی، فیصلے فوجی قیادت کر رہی تھی تو بنیادی ذمہ داری بھی اُسی کی بنتی تھی۔ جنرل باجوہ نے محتاط طریقے سے چار سال کی کہانی سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی تقریر میں شکوے بھی کیے اور موجودہ سیاسی و معاشی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے چند ایک اہم معاملات کی طرف توجہ دلانے کی بھی کوشش کی۔ موجودہ حالات میں سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنا بہت ضروری ہے، جھوٹے، سچے بیانیے بنا کر قوم کو ہیجان میں مبتلا کر دیا جاتا ہے، بیانیے بنائے جاتے ہیں پھر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے بعد راہ فرار اختیار کر لی جاتی ہے اور قوم کو پھر کسی نئے بیانیے میں اُلجھا دیا جاتا ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ قوم، ملک، سلطنت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک کے موجودہ معاشی حالات سب کے سامنے ہیں جو کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہے، سیاسی عدم استحکام اِس پر جلتی کا کام کر رہا ہے۔ ایک مشہور بین الاقوامی میگزین نے حال ہی میں پاکستانی معاملات پر اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے موجودہ حکومت کو معاشی معاملات سلجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام سے بڑھ کر سیاسی ٹکراؤ کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ پاکستانیوں کے لیے موجودہ سیاسی حالات تشویش کا باعث ہیں، آئینی اور قانونی معاملات میں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ حکومت نے سینیارٹی لسٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آرمی سٹاف جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کوچیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی (سی جے ایس سی) تعینات کر کے ایڈوائس صدر عارف علوی کو بھجوا دی۔ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لاہور میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اور اُس کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گئے جہاں پہنچتے ہی بنا وقت ضائع کیے اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کر کے ہر طرح کی قیاس آرائیوں کو دفن کر دیا، اب لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر آرمی چیف جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو سی جے ایس سی مقرر کر دیا گیا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ جس معاملے پر کچھ عرصے سے بہت سی افواہیں اڑائی جا رہی تھیں، مختلف حلقوں میں نت نئی باتیں گھڑی جا رہی تھیں، اندازے لگائے جا رہے تھے، وہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا ہے۔ تمام اہل ِ سیاست نے معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب اُمید کی جا سکتی ہے کہ باقی تمام معاملات پر بھی سیاستدان بغیر کسی اَنا اور ضد کے ملکی مفاد میں فیصلے کریں گے۔ تھوڑی ہی سہی، اِس معاملے کے خوش اسلوبی سے طے پا جانے سے آس بندھی ہے، حوصلہ تو بڑھا ہے کہ ابھی تمام راستے مکمل بند نہیں ہوئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -