جنرل ساحر،جنرل عاصم سے امیدیں۔کانگریس میں پھنکارتی قرارداد

جنرل ساحر،جنرل عاصم سے امیدیں۔کانگریس میں پھنکارتی قرارداد
جنرل ساحر،جنرل عاصم سے امیدیں۔کانگریس میں پھنکارتی قرارداد

  

 ایک ماہ سے بھی اوپر ہوادو امریکی ارکان کانگریس نے ایوان نمائندگان میں پاکستان کے خلاف پھنکارتی، آگ اُگلتی اور زہر اُبلتی قرارداد پیش کی۔اس پر پاکستان میں مکمل خاموشی دیکھی گئی۔ اس پر نہ کوئی خبر نہ ردعمل۔ اس قرارداد میں بنگلہ دیش کی 1971ء کی ”جنگ آزادی“ (اسے یہ لوگ جنگ آزادی کہہ رہے ہیں جو ہماری نظر میں کچھ شرپسندوں کی  بغاوت تھی)کے دوران پاکستانی فوج کے مظالم کو نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا۔ کانگریس مین اسٹیو چابوٹ (Chabot)اور رو کھنہ کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں مارچ سے دسمبر 1971ء کے درمیان پاکستانی فوج کی طرف سے  بنگالیوں اور ہندوؤں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم اور لاتعداد لوگوں کی موت اور مصائب کی مذمت کی گئی۔  اس قراداد میں امریکی صدر سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے مظالم کو انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور نسل کشی کے طور پر تسلیم کریں۔

 قرارداد میں جنرل یحییٰ خان کے حوالے سے  کہا گیا ہے  22 فروری 1971ء کو ایک میٹنگ میں اعلیٰ فوجی افسران سے مشرقی پاکستان کے 30 لاکھ باشندوں کو قتل کرنے کا کہا گیا تھا۔ اس کے بعد 25 مارچ 1971ء کی رات شیخ مجیب الرحمان کی گرفتاری ہوئی اور مشرقی پاکستان میں ”آپریشن سرچ لائٹ“ کے نام سے  وسیع کریک ڈاؤن شروع ہوا۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا جس کے دوران  بنگالیوں اور ہندوؤں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ عوامی لیگ کے حامیوں، دانشوروں، طلباء اور پیشہ ور افراد کو نشانہ بنایا۔متاثرین میں اکثریتی بنگالی مسلمان اور اقلیتی غیر مسلم کمیونٹی دونوں شامل ہیں۔1971ء کو 20ویں صدی کی بھولی بسری نسل کشی قرار دیتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس کی تحقیقات نہ ہونا لاکھوں متاثرین کے لیے ایک کھلا زخم ہے۔ قرارداد میں حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نسل کشی میں اپنے کردار کو تسلیم کرے اور بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام سے باضابطہ معافی مانگے اور ایسے مجرموں کے خلاف مقدمہ چلائے جو اب بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔

پاک فوج اور پاکستان دشمنی پر مبنی اس قرارداد پرنوٹس نہ لینا اور رد عمل نہ دیناقومی مقاصد سے   بے حسی کا شاخسانہ ہے۔اتنے ہی عرصے سے ہم ایک ”عظیم قومی مقصد“ پر مصروفِ کار رہے۔وہ ”گریٹر کاز“ ہے آرمی چیف کی تقرری ہے۔اس سلسلے میں اجلاس پر اجلاس اور مشاورت در مشاورت ہوتی رہی۔ایسا لگتا تھا کہ یہی سب سے بڑا قومی معاملہ، معمہ اور پُرپیچ مسئلہ ہے جسے سلجھانے کیلئے قوم غور وفکر اور بحث و مباحثے میں مشغول رہی۔بالآخر یہ بیل منڈھے چڑھی:جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کو جوائنٹ سروسز چیف بنا دیا گیا۔ 

دو روز قبل وزیر اعظم ہاؤس میں آرمی چیف کی تقرری کے لئے جی ایچ کیو سے آنے والی سمری کا بڑی بے تابی سے انتظار تھا،جو متوقع دورانیے میں نہ آنے کے باعث  جی ایچ کیو کوخط  لکھا گیا۔ یہ سمری بالآخر22نومبر کو آدھی رات اِدھر آدھی اُدھر تھی کہ وزیراعظم ہاؤس میں موصول ہو گئی۔ کل تک یکجان یکجا بلکہ یکتا نظر آنے والی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین  دوریاں پیدا ہوتی نظر آئیں۔ مسلم لیگ ن کے کچھ لیڈروں کی طرف سے سمری اور تقرری کے حوالے سے تحفظات کا اظہار ہونے لگا۔ شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، جاوید لطیف اور خرم دستگیر کھل کر مافی الضمیر کچھ اس طرح بیان کرتے نظر آئے۔”سمری میں تاخیر غیر قانونی ہے۔وزیر اعظم نوٹس لے سکتے ہیں۔ سینئر موسٹ جنرل کا نام سمری میں شامل نہ ہوامعاملہ عدالت جا سکتا ہے“۔

چھ جرنیلوں کے نام دو عہدوں جوائنٹ سروسز چیف اور آرمی چیف کے لئے وزیراعظم کو بھیجے گئے۔ سر فہرست نام جنرل عاصم منیر کا تھا،جن کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ27نومبر ہے۔ سنیارٹی میں دوسرے نمبر پر جنرل ساحر شمشاد مرزاتھے۔ 

سمری کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اگر سمری نہ آئے تو بھی تقرری ہو جائے گی۔ جی ایچ کیو کی طرف سے سمری کا آنا آئین اور قانون کا تقاضہ نہیں ہے۔ ایسا ہوتا تو میاں نواز شریف کے جنرل ضیاء الدین بٹ کی آرمی چیف کے تقرری کو قانونی قرار نہ دیا جاتا۔ وہ تو جنرل مشرف کا زور چل گیا اور لاٹھی سے بھینس کو ہانک کر لے گئے تھے۔

اُدھر عارف علوی بھی  منتظر ہیں۔ عمران خان معمول کے بر عکس خاموشی سے منظر نامے پر نظریں جمائے ہوئے تھے پھر اچانک بولے۔”صدر مجھ سے مشورہ کریں گے اورہم  قانون کے دائرہ میں کھیلیں گے“۔ اب سمری صدر کے پاس ہے اس پر ان کی طرف سے کیا کہا جاتا ہے۔تحریک انصاف نے سیاست کرنی ہے  لگتا وہ نئے آرمی چیف کے ساتھ شروع میں ہی کوئی مخاصمت سے گریز کریں گے،مگر پاکستان میں عدالت جانے والے لوگ کبھی کسی کے اشارے پر اور کبھی عادت سے مجبور ہوکرسامنے آجاتے ہیں۔ 

آرمی چیف کوئی بھی ہو اس سے زیادہ فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ایک پارٹی کو ایک جنرل سے مسئلہ نظر آتا ہے۔ دوسری کو دوسرے سے یہ دراصل ان کے اندر کا خوف ہے۔ آرمی چیف جو بھی ہوگا وہ سرحدوں کی حفاظت جیسے پیشہ ورانہ امور وہیں سے شروع کرے گا جہاں سے پیشرو چھوڑ کر جائے گا”دیگر معاملات“ میں آغاز کار میں غیر جانبداری ناگزیر ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -