عمران خان غیر سیاسی مگر مقبول شخص ہیں  

 عمران خان غیر سیاسی مگر مقبول شخص ہیں  
 عمران خان غیر سیاسی مگر مقبول شخص ہیں  

  

 بھارت میں فوج پر تنقید اس لئے نہیں ہوتی کہ وہاں کا آرمی چیف سیاسی معاملات پر بات نہیں کرتا اور نہ ہی اسے وہاں کے ٹی وی چینلوں پر اس قدر ایئر ٹائم ملتا ہے۔ وہاں کی فوج اپنے دعوؤں سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی ثابت کرتی ہے کہ اس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہاں تو مصیبت یہ ہے کہ صرف ایک سیاستدان ہی نہیں بلکہ بیوروکریسی سے لے کر لیبر یونین تک ہر طبقہ اور ہر سٹیک ہولڈر فوج کے سیاسی کردار کا خواہاں ہے اور اس میں اپنا مفاد ڈھونڈنے کے چکر میں رہتا ہے۔خیر دیکھنا یہ ہے کہ اگلے آرمی چیف عمران خان کے 26مارچ کے جلسے سے مرعوب ہو کر حکومت کو جلد انتخابات کروانے پر مجبور کرتے ہیں یا نہیں!(اگرچہ پی ٹی آئی میں ہمارے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کا راولپنڈی جانا 29 اکتوبر تک التوا کا شکار ہو سکتا ہے)

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر ملی مسائل حل نہیں کر سکتے ہیں کیا ان عقل کے اندھوں کو پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے بینر تلے دس سیاسی جماعتوں کا اتحاد نظر نہیں آرہا ہے، کیا سارے سیاستدان مل کر ملک کو معاشی گرداب سے نکالنے کا جتن نہیں کر رہے ہیں۔ اگر ایک غیر سیاسی مگر مقبول شخص اپنی گنگا الٹی بہانے میں لگا ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ کب ہے کہ ہمارے سیاستدان مل بیٹھ کر ملکی مسائل حل نہیں کر سکتے، اس لئے فوج کو دخل اندازی کرنا پڑتی ہے۔

ہمارے پی ٹی آئی کے دوستوں کو تو یہ سب کچھ ایک واہمہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کی شدید خواہش ہے کہ اب بھی یہ بات غلط ثابت ہو جائے کہ جنرل باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع نہیں مل رہی ہے اور اگلا آرمی چیف عمران خان کی بجائے شہباز شریف لگا رہے ہیں۔ خود عمران خان ابھی اس مغالطے سے باہر نہیں آسکے ہیں اور اب بھی کسی انہونی کے منتظر ہیں۔ ایسے میں صدر ڈاکٹر عارف علوی کو عمران خان سپرمین بنا کر پیش کر رہے ہیں، حالانکہ جو کچھ ان کی مقبولیت نہیں کرسکی وہ ایک ”غیر مقبول“  صدر کیسے کر لے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر سے انہونیوں کی توقع تب کی جا رہی ہے جب انہوں نے بلاچوں و چراں وزیر اعظم کی ایڈوائس پر مولانا فضل الرحمٰن کے آدمی کو خیبر پختونخوا کا گورنر تعینات کردیا ہے۔

 یہ کل کی بات ہے کہ شاہزیب خانزادہ سمیت کئی ایک اینکر پرسن لانگ مارچ کے آغاز سے قبل رانا ثناء اللہ کو ڈرا رہے تھے کہ اگر عمران خان لانگ مارچ اسلام آباد لے آئے تو حکومت کیسے جلد انتخابات سے کنارہ کرے گی، پھر چشم فلک نے دیکھا کہ لبرٹی چوک سے لے کر وزیر آباد تک عوام کی لاتعلقی کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ فائرنگ کے بعد سارا جہاد ی جذبہ رفوچکر ہو گیا اور اب 2014ء کی طرح لانگ مارچ کو ادھورا چھوڑ کر راولپنڈی پہنچنے کی تیار ی ہو رہی ہے۔اب بھی یہی لوگ صدر ڈاکٹر عارف علوی سے امیدیں لگائے نظر آرہے ہیں، گویا کہ

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

ناامیدی اس کی دیکھا چاہئے

ناامیدی کا عالم یہ ہے کہ اب پی ٹی آئی نواز اینکر صاحبان آرمی چیف کی اس بات سے لیڈلیتے نظر آرہے ہیں کہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کو عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر سیاسی استحکام کے لئے بات چیت کرنی چاہئے تاکہ معاشی عدم استحکام سے بچا جا سکے۔ حالانکہ ہمارے معاشی مسائل کا تعلق ملک کے سیاسی عدم استحکام سے کم اور عالمی سطح پر جاری معاشی بے یقینی سے زیادہ ہے کیونکہ صرف ایک تیل کی عالمی قیمتیں ہی ہماری ایسی معیشت کی چولیں ہلانے کے کافی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کیا کوئی تجزیہ نگار بتا سکتا ہے کہ اگر فوری عام اتنخابات کروادیئے جائیں تو ڈالر کی قیمت گھٹ کر ایک سو روپیہ ہو جائے گی جس کی وجہ سے ہماری جیبوں میں پڑا ہر سو روپیہ دراصل 45روپے کے برابر کی قدر رکھتا ہے۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے تو پھر ایک چھوڑ ایک سو انتخابات بھی کروالئے جائیں، معاشی استحکام نہیں آئے گا۔ الٹا اگر عمران خان کو دوبارہ اقتدار مل گیا تو وہ اگلے پانچ سال دوبارہ اپنی ناکامیوں کو پی ڈی ایم حکومت کے فیصلوں سے جوڑ کر عوام کو چکر دیتے رہیں گے۔ اسی طرح اگر ہم ایک درآمدی ملک بن چکے ہیں اور ہمیں دالیں تک باہر سے امپورٹ کرنا پڑتی ہیں، کپاس تک باہر سے منگوانا پڑتی ہے تو فوری انتخابات ہمیں کیا دے سکتے ہیں۔ خاص طور پر جب انتخابات میں بھی آزمائے ہوؤں کو ہی دوبارہ سے چن کر آزمانا ہے۔ 

آج یا کل میں آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے پیش رفت کی توقع ہے، انشاء اللہ ایک مرتبہ یہ مرحلہ طے ہوگیا تو حکومت اپنی ساری توجہ معاشی استحکام کی جانب موڑ لے گی اور اگر فوج عمران خان کی جانب سے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی روش کو بہانہ بنا کر حکومت پر دباؤ ڈالنے سے باز رہی تو اسحٰق ڈار یقینی طور پر ملکی معیشت کو سنبھالا دینے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ ان میں اور اسد عمر میں، ان میں اور شوکت ترین اور ا ن میں اور حماد اظہر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ نواز شریف کے معتمد خاص ہیں اور نواز شریف چین اور سعودی قیادت کا اعتماد رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگر نواز شریف اس برس کے ختم ہونے سے قبل پاکستان واپس آگئے تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ ذرا چھری تلے سانس لیں اور تسلی رکھیں نون لیگ کی قیادت ان کے مفادات کی قربانی نہیں ہونے دے گی۔

مزید :

رائے -کالم -