ایکسائز انسپکٹر کے بیٹے کے قاتل کو سزائے موت کا حکم

ایکسائز انسپکٹر کے بیٹے کے قاتل کو سزائے موت کا حکم

  

کوٹ ادو(نامہ نگار،تحصیل رپورٹر)5سال قبل واک کے دوران ایکسائز انسپکٹر کے جواں سالہ بیٹے کو قتل کرنے والے قاتل کوایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسیم انجم نے (بقیہ نمبر35صفحہ6پر)

سزائے موت 6لاکھ روپے جرمانہ 50ہزارہرجانہ کاحکم سنادیا گیا،عدم ادائیگی پر 6ماہ مزیدقید بھگتناہوگی،مقدمہ کادوسراملزم شک کی بنیاد پربری کریا گیا،استغاثہ کے مطابق 11اگست2017کیروزگورنمنٹ گرلز ہائی سکول کوٹ ادو کے قریب رہائشی ایکسائز انسپکٹر مخدوم قاسم کا جواں سال بیٹا مخدوم دلاور عرف کالو اور مخدوم بلال معمول کے مطابق واک کر رہے تھے کہ صفدرحسین جکھڑ اورزین نامی نوجوانوں نے ساتھیوں کے ہمراہ آکر ان پر فائرنگ شروع کر دی تھی جس کے نتیجہ میں مخدوم دلاور موقع پر ہی جانبحق جبکہ بھائی مخدوم بلال شدید زخمی ہو گیا تھا جسے فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال لایا گیاتھاجہاں تفتیش ناک صورتحال کے پیش نظر اسینشتر ہسپتال ملتان منتقل کر دیا،اہل علاقہ نے ایک قاتل کو موقع پر قابو کر لیا جسے پولیس کے حوالے کر دیا گیاتھا،جس کا پولیس سٹی کوٹ ادو نے ایکسائزانسپکٹرمخدوم غلام قاسم کے مدعیت میں مقدمہ نمبر 501/17زیر دفعہ 302/324/337fiii/34درج کرکے دونوں قاتلوں کو گرفتار کرلیا،تھاپولیس تھانہ سٹی کوٹ ادو نے ملزمان کی تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا تھا دوران سماعت جرم ثابت ہونے پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسیم انجم نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم صفدرحسین جکھڑکو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کاحکم سناتے ہوئے5لاکھ روپے جرمانہ 50ہزارروپے ہرجانہ جبکہ مخدوم بلال کے زخمی کرنے کے دفعہ324میں بھی ایک لاکھ روپے جرمانہ کا حکم سنادیا،جرمانہ کی عدم ادائیگی پر مزید 6ماہ سزا بھگتنا ہو گی جبکہ شک کی بنیاد پرملزم زین کو بری کردیا

مزید :

ملتان صفحہ آخر -