ضم اضلاع میں ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کااظہار

ضم اضلاع میں ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کااظہار

  

     پشاور(سٹی رپورٹر) خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا اجلاس چیئرمین و ممبر صوبائی اسمبلی پختون یار خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین اسمبلی نصیر اللہ خان، فہیم احمد، میرکلام،میاں نثارگل، سردار حسین بابک، شگفتہ ملک، عبدالسلام آفریدی، صاحبزادہ ثنائاللہ سمیت اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پچھلے کمیٹی اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا.چئیرمین قائمہ کمیٹی نے دیرلوئر کے صوبائی اسمبلی کے حلقے PK-16 میں سرکاری سکولوں کا جائزہ لینے کیلئے رکن صوبائی اسمبلی نصیر اللہ خان کی زیرصدارت سب کیمٹی بنانے کی ہدایت کی۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں اراکین صوبائی اسمبلی بہادر خان اور صاحبزادہ ثناء اللہ کو شامل ہیں۔ کمیٹی متعلقہ حلقے کا دورہ کرکے آئندہ اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کریں گی۔قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر بحث بھی ہوئی۔قائمہ کیمٹی نے ضم اضلاع میں ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے بتایا گیا کہ سال 2013 سے جون 2018 تک 2805 سکول ضرورت کے بنیاد پر مکمل ہوچکے ہیں۔جبکہ 571 سکولز ابھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔اسطرح دیر لوئر میں سکولوں کے حوالے سے اعداد وشمار دئیے گئے جن کا جائزہ لینے کیلئے سب کیمٹی بنائی گئی جو آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی۔ چیئر مین کمیٹی نے محترمہ شگفتہ ملک اور صاحبزادہ ثنائاللہ کے سوالات پر محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم کی جانب سے مکمل تفیصلات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں سوالات کو دوبارہ زیربحث لانے کی ہدایت کی۔مختلف سوالات کے جوابات میں ڈائریکٹر تعلیمات حافظ ابراہیم نے قائمہ کیمٹی کو بتایا کہ اگلے سال سے صوبے بھر میں چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک مطالعہ قرآن کو لازمی قراردیا گیاہے۔اسطرح پرائمری سکولز میں پی.ایس.ٹی - اسلامک اسٹیڈیز کی آسامی کی تخلیق و تعیناتی بھی زیرغور ہے۔چئیرمین قائمہ کیمٹی نے سکولوں کو فراہم شدہ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -