نیا آرمی چیف سیاسی بحران کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے: امریکی سکالر 

     نیا آرمی چیف سیاسی بحران کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے: امریکی ...

  

     اسلام آباد (این این آئی) پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے کئی کتابوں کے مصنف سینئر امریکی سکالر مارون وین بام نے کہا ہے پاکستان کے نئے آرمی چیف ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کی تاریخ طے کر کے سمجھوتے کا معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی کونسل کے بین الاقوامی تعلقات (سی ایف آر) کی طرف سے شائع کیے گئے مضمون میں ایک اور امریکی دانشور اینڈریو گورڈن نے بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی امداد میں اضافہ کرے، اس اقدام سے امریکہ اپنے اسٹریٹیجک مفادات کا تحفظ کرنے کیساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کی ذمہ داریاں پوری اور جنوبی ایشیائی ملک کو بحران سے نکالنے میں بھی مدد کریگا۔سی ایف آر آرٹیکل کا بڑا حصہ پاک امریکہ تعلقات سے متعلق ہے البتہ ایم ای آئی آرٹیکل میں پاکستان کے نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔مارون وین بام نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ عمران خا ن کے لانگ مارچ کی اسلام آباد آمد آمد ہے اور ایسی سیاسی صورتحال میں فوج کی اعلیٰ قیادت کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے گریز کرتے نظر آ رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ فو ج کے زیادہ تر افسران سابق وزیراعظم سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے آرمی نے ملک میں امن و امان کے قیام کی ذمہ داری مقامی پولیس، وفاقی پارلیمانی رینجرز اور ملک کے قبائلی اہلکاروں پر چھوڑ دی ہے،مارون وین بام نے مزیدلکھا کہ عمران خان اگر امید کرتے ہیں کہ وہ اقتدار پر دوبارہ واپس آجائیں تو انہیں ملٹری اسٹبلشمنٹ کے صلح کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا عمران خان لانگ مارچ کے دوران ایک بڑی عوامی تحریک کو متحد کرنے میں کامیاب ہوئے اور اس بات کو فوج بھی سراہتی ہے۔مارون وین بام نے کہا عمران خان ان کا مینڈیٹ لے کر نئے انتخابات میں حصہ لیں گے تاہم سابق وزیر اعظم عمران خان کو مشترکہ سویلین ملٹری گورننس کی بحالی کیلئے ایک ہنر مند اور مستحکم آرمی چیف کی ضرورت ہو گی۔انہوں نے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا ملک میں تشدد اور انتشار کے نتیجے میں پاکستان معاشی طور پر مزید غیر مستحکم ہوسکتا ہے۔امریکی دانشور انڈریو گورڈن نے خبردار کیا کہ پاکستان کی معیشت خطرے میں ہے اور ملک میں سیاسی بحران کی وجہ سے قوم مزید بدحالی کا شکار ہوسکتی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ نومبر 2022 میں امریکہ نے پاکستان کو 9کروڑ 70لاکھ ڈالر امداد فراہم کی تھی تاہم یہ امداد پاکستان کی بحالی کیلئے مؤثر ثابت نہیں ہو گی، پاکستان سیلاب سے پہلے ہی بڑے نقصان کا شکار ہے جس کا تخمینہ 40 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

امریکی سکالر

مزید :

صفحہ اول -