عام انتخابات کس کی نگرانی میں؟

عام انتخابات کس کی نگرانی میں؟
 عام انتخابات کس کی نگرانی میں؟

  

گزشتہ 65 سال میں ہمارے ملک میں جتنے بھی الیکشن ہوئے، ان میں سے زیادہ تر مشکوک قرار پائے سوائے 1970ءکے الیکشن کے جن پر زیادہ تر لوگ متفق ہیں کہ وہ قدرے شفاف اور منصفانہ تھے۔ ملک میں جتنی بار بھی الیکشن ہوئے ان میں الیکشن کروانے والا ادارہ پاکستان الیکشن کمیشن بھی متنازعہ ہی رہا۔ اس بار جو چیف الیکشن کمیشنر نامزد ہوئے ہیں، ان کی حیثیت غیر متنازعہ ہے۔ جناب جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے چیف الیکشن کمیشنر کا عہدہ سنبھالتے ہی اہم نکات اٹھائے ہیں، جن میں حالیہ سپریم کورٹ کا دوہری شہریت کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ دوہری شہرت کے معاملے میں 1973ءکا آئین بڑا واضح ہے لیکن اس پر کبھی بھی عمل نہیں ہوا بلکہ اس آئین کو بنانے اور حفاظت کرنے والے خود ہی اس کی پامالی کے مرتکب ہوئے، اور غیر ممالک کے شہری ہوتے ہوئے بھی پاکستان پر حکومت کرتے رہے اور تا حال کر رہے ہیں، جس کی دنیا کے کسی قانون میں اجازت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے 9 اکتوبر 2012ءکے فیصلے میں دہری شہریت کے تمام افراد کو نا اہل کر دیا ہے، کچھ کے کیس ابھی زیر سماعت ہیں جن میں وزیر داخلہ رحمن ملک بھی شامل ہیں۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ ان نام نہاد عوامی نمائندوں پر قانون کی شق 63-62 اور 420 کا اطلاق کریں، انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نا اہل کریں قانون کے مطابق سخت سزائیں دیں اور ان پر خرچ ہونے والی تمام رقم مع سود واپس لیں تاکہ آئندہ کے لئے کسی کو قانون توڑنے کی جرا¿ت نہ ہو۔ جو نام نہاد جماعتیں اور لیڈر دہری شہریت کی حمایت کر رہی ہیں ان سے ہوشیار رہیں، کیونکہ ان کا ایجنڈا ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ دہری شہریت کیس میں ملک کا وزیر داخلہ جس کا کیس عدالت میں ہے، برطانوی شہری ہے اور ملک میں سابقہ ساڑھے چار سال کی انارکی کا شاید ذمہ دار بھی وہی ہے۔ وزیر داخلہ انٹرنیشنل قسم کے تعلقات والا آدمی ہے۔ عالمی پشت پناہی کے بل بوتے پر ابھی تک اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین برطانوی شہری ہیں۔ برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں،وہ برطانوی حکومت کی کیسے مخالفت کریں گے۔؟ برطانوی حکومت اور حکومت پاکستان کے مفادات مختلف ہیں، اس لئے ہر شہری صرف اپنے ملک کے مفاد ہی کی خاطر کام کرے گا کیونکہ اس نے اپنے ملک کے مفاد کا حلف اٹھایا ہوتا ہے۔ اسی لئے شاید الطاف حسین بھی دہری شہریت کی وکالت بڑے بھرپور انداز میں آ رہے ہیں کہ شایدکل کلاں وہ بھی معین قریشی اور شوکت عزیز کی طرح ملک کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ جب ملک کا انتظام و انصرام غیر ملکی شہریوں کے حوالے ہوگا تو ملک میں غربت، جہالت اور امن و امان کی حالت کیسے بہتر ہو سکتی ہے۔ گزشتہ 65 سال میں اس ملک میں ”مٹی پاﺅ“ اور ”ڈنگ ٹپاﺅ“ پالیسی پر ہی عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ اب اس ملک کو مزید ایسی پالیسیوں سے نہیں چلایا جا سکتا۔ جناب فخر الدین جی ابراہیم کا موقف دوہری شہریت پر بڑا واضح اور جرا¿ت مندانہ ہے۔ اب چند ماہ بعد نئے الیکشن ہونے ہیں ’انہیں شفاف، آزادانہ اور منصفانہ بنانے کی ذمہ داری نگران حکومت الیکشن کمیشن اور فوجی جرنیلوں پر ہے۔ الیکشن کمشنر نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط کے ذریعے استدعا کی ہے کہ آئندہ عام انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کروائے جائیں۔

 میری ذاتی استدعا ہے کہ فوج کو بھی عدلیہ کے ساتھ انتخابات کی نگرانی کرنی چاہئے تاکہ الیکشن میں کسی قسم کی دھاندلی نہ ہو سکے۔ ڈسٹرکٹ اور ریٹرنگ افسروں کی تقرری عدلیہ سے کی جائے اس سے قبل بھی کئی الیکشن عدلیہ کی نگرانی میں ہوئے ہیں لیکن موجودہ چیف جسٹس صاحب نے 29 مئی 2009ءکو جوڈیشل پالیسی کے تحت ججوں اور عدالتی افسروں کو ایگزیکٹو عہدے سنبھالنے پر پابندی لگا دی تھی اور 29 مئی 2009ءکے بعد جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے، وہ ضلعی انتظامیہ نے کروائے۔ ضلعی انتظامیہ ہمیشہ حکومتی پارٹیوں کی حمایت کرتی ہے کیونکہ وہ حکومت سے باہر رہ کر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ضلعی انتظامیہ اپنی ٹرانسفر، پوسٹنگ اور دیگر مسائل کی وجہ سے حکومت وقت کے خلاف کوئی فیصلہ آزادی سے نہیں کر سکتی۔ اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی الیکشن میں حکومتی پارٹیوں کی حمایت پر مجبور ہوتے ہیں۔ جس طریقے سے الیکشن کمیشن کام کر رہا ہے لگ یوں رہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات عدلیہ اور فوج کی نگرانی میں ہوں گے اور وہ شفاف بھی ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے جو الیکشن کا ضابطہ اخلاق بنایا ہے کہ امیدوار مقررہ حد سے زائد خرچ نہیں کر سکیں گے۔ پولنگ سٹیشنوں کی تعداد بڑھائی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنا ووٹ سہولت کے ساتھ کاسٹ کر سکیں۔ ووٹر ڈے کے موقع پر چیف الیکشن کمشنر کا عام ووٹروں کے لئے پیغام تھا کہ ”ووٹ ایک مقدس امانت ہے اور تبدیلی کا ایک ذریعہ ہے۔ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔ ووٹ آپ کا مستقبل ہے، آپ کا مستقبل آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔“

اگر الیکشن عدلیہ اور فوج کی نگرانی میں کروائے گئے تو کرپشن ختم کرنے کے لئے ملک میں یہ پہلا قدم ہوگا۔ ملک میں سچی جمہوریت قائم ہو سکے گی۔ کراچی، حیدر آباد اور ملک کے کچھ دوسرے حصوں میں دھاندلی اور ٹھپہ مافیا، جو ہر الیکشن میں غنڈا گردی کے زور پر 25/30 ایم این اے بنا کر پانچ سال تک حکومت کو بلیک میل کرتا ہے کا قلع قمع ہو سکے گا۔ کم از کم شفاف الیکشن سے کراچی حیدر آباد سکھر اور ملک کے کچھ اور حصوں سے لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا، بھتہ مافیا، پرچی مافیا اور ٹارگٹ کلر مافیا کا صفایا ممکن ہو سکتا ہے۔ موجودہ الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے چند ماہ قبل ملتان میں ایک الیکشن ہوا جس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا جیت گیا تھا اس میں الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر تو عمل نہیں ہو سکاتھا اگر الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر 100فیصد عمل ہو تو بہت سارے جعل ساز اسمبلیوں میں نہیں پہنچ سکیں گے۔ 2002ءکے الیکشن میں مشرف انتظامیہ نے الیکشن لڑنے والوں کے لئے بی اے پاس والی شرط رکھی اور اپنے من پسند افراد کو جعلی ڈگریوں سمیت ایوانوں میں لے گئے۔ اس وقت الیکشن کمیشن بھی حکومت کے تابع تھا۔ فوج کی حکومت تھی۔ جعلی ڈگریوں کے خلاف اپیلوں کے باوجود جعل ساز5 سال حکومت کے مزے لیتے رہے اور ایک بھی جعلی ڈگری والا معطل نہ ہو سکا۔

2008ءکے عام انتخابات میں بھی جعلی ڈگری اور دہری شہریت کلچر نمایاں رہا، لیکن جب سے آزاد عدلیہ جناب افتخار محمد چودھری چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں قائم ہوئی تو دھڑا دھڑ جعل ساز ایوانوں سے معطل ہونا شروع ہو گئے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اب آزاد عدلیہ کے ہوتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان مکمل طور پر اپنی اتھارٹی منوائے اور عام انتخابات عدلیہ اور فوج کی نگرانی میں کروانے کا بندوبست کرے تاکہ گزشتہ 65 سال کا گند اس ملک کے شفاف اور پاک چہرے سے اتر سکے۔    ٭

مزید :

کالم -