معروف سائنسدان کی جانب سے قدرتی اجزاءسے تیار کردہ وہ جوس جس کے ذریعے 45 ہزار لوگوں نے صرف 42 دن میں کینسر کو بھی شکست دے دی، بنانے کا طریقہ آپ بھی جانئے

معروف سائنسدان کی جانب سے قدرتی اجزاءسے تیار کردہ وہ جوس جس کے ذریعے 45 ہزار ...
معروف سائنسدان کی جانب سے قدرتی اجزاءسے تیار کردہ وہ جوس جس کے ذریعے 45 ہزار لوگوں نے صرف 42 دن میں کینسر کو بھی شکست دے دی، بنانے کا طریقہ آپ بھی جانئے

  


لندن(نیوزڈیسک) کینسر کی وجہ سے ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور اس بیماری کی سب سے خطرناک بات اس کا علاج ہے جس میں مریض کے بال جھڑ جاتے ہیں اور ساتھ ہی وہ شدید کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے لیکن آج ہم آپ کو آسٹریوی طریقہ علاج بتائیں گے جس کے استعمال سے کینسر اور اس طرح کی موذی بیماریوں کے مریض 42دن کے اندر صحت یاب ہوسکتے ہیں۔

انتہائی خطرناک بیماری کا علاج خشک آلو بخارے میں پوشیدہ، کھائیں اور محفوظ رہیں

اس طریقہ علاج کو Breussکینسر کیور کے نام سے جانا جاتا ہے جسے آسٹریوی سائنسدان روڈولف بروئز نے ایجاد کیا تھا۔اس طریقہ علاج میں مریض کو صرف سبزیوں اور چائے کے جوس پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس سائنسدان کا دعویٰ تھا کہ اس نے اپنے اس طریقہ علاج سے 45ہزار سے زائد کینسر کے مریضو ں کو صحت یاب کیا۔اس کا کہنا ہے کہ 42دن کے اس طریقہ علاج میں مریض کو چائے اور جوس کے علاوہ کچھ نہیں کھانا۔آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کس تناسب کے ساتھ آپ نے ذیل میں بتائی ہوئی سبزیوں کو بلینڈر میں ڈال کرپیس لینا ہے اور پھر اس کا استعمال کرنا ہے۔

چقندر55فیصد

گاجریں20فیصد

اجمود کی جڑ20فیصد

آلو3فیصد

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

لال مولی2فیصد

چقندر اور لال مولی میں انٹی آکسیڈینٹس کی وافر مقدار ہوتی ہے،اس میں موجود وٹامن سی، بی ون، بی ٹو،بی 6اور فولک ایسڈ کی وجہ سے جسم کو تقویت ملتی ہے۔ان میں موجود منرلز جیسے پوٹاشیم، فاسفورس،میگنیشیم ، کیلشیم،سوڈیم،زنک اورآئرن پایا جاتا ہے۔متعدد تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ چقندر خون کے لئے بہت مفید ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے خون کے کینسر کے مریضوں کو کافی فائدہ ہوتاہے۔ان میں موجود ایمینوایسڈ بیٹین کی وجہ سے کینسر کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے۔یہ حاملہ خواتین کے لئے بھی فولک ایسڈ کی وجہ سے بہت زیادہ مفید سمجھی جاتی ہے۔1950ءمیں روڈولف نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اس ترکیب کی مدد سے دوہزار سے زائد کینسر کے مریضوں کو صحت یاب کیا۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...