افغان جنگ سے بھاگنے والے 12 سالہ بچے کو برطانوی خاتون نے اپنا بیٹا بناکر ساتھ رکھ لیا، لیکن یہ دراصل کون تھا؟ موبائل سے ایسی ویڈیو برآمد کہ خاتون کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا

افغان جنگ سے بھاگنے والے 12 سالہ بچے کو برطانوی خاتون نے اپنا بیٹا بناکر ساتھ ...
افغان جنگ سے بھاگنے والے 12 سالہ بچے کو برطانوی خاتون نے اپنا بیٹا بناکر ساتھ رکھ لیا، لیکن یہ دراصل کون تھا؟ موبائل سے ایسی ویڈیو برآمد کہ خاتون کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان سے فرانس کے ایک مہاجرین کیمپ اور وہاں سے پناہ کے لئے لندن پہنچنے والے ایک 12سالہ لڑکے کو ایک خاتون نے گود لے لیا، لیکن کچھ عرصہ بعد لڑکے کے متعلق ایسا انکشاف ہوا کہ خاتون کے اوسان خطا ہو گئے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ لڑکا نہ صرف 12نہیں بلکہ 21سال کا تھا بلکہ تحریک طالبان کا شدت پسند بھی تھا۔ جمال نامی اس نوجوان نے پناہ کی درخواست میں بتایا تھا کہ اس کے ماں باپ جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد وہ فرار ہو کر یہاں آ گیا۔ خاتون کو اس کی عمر کا اس وقت پتا چلا جب وہ دانت میں تکلیف ہونے پر اسے دندان ساز کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے معائنے کے بعد انکشاف کیا کہ اس کی عمر 12سال سے کہیں زیادہ ہے، جس پر خاتون ہکا بکا رہ گئی۔ جب جمال کو گرفتار کرکے اس کا فون چیک کیا گیا تو اس میں طالبان کی ویڈیوز اور دیگر ایسا مواد موجود تھا جس سے اس کا طالبان سے تعلق ثابت ہوتا تھا۔

آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔۔۔ داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے موصل کے علاقے میں عراقی فوجیوں نے عام شہریوں کے ساتھ کیا کام کرنا شروع کردیا؟ جواب اتنا خوفناک کہ آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے

جمال کو گود لینے والی خاتون روزی کا کہنا تھا کہ ”میں ایک بار اسے کلائمبنگ سنٹر لے کر گئی جہاں اس نے اپنی بتائی گئی عمر سے کہیں زیادہ طاقت کا مظاہرہ کیا اور بہترین طریقے سے رائفل تھام کرفائرنگ بھی کی اور گولیاں عین نشانے پر لگیں جو اس کے اسلحہ چلانے میں مہارت کا ثبوت تھا۔“ تاہم روزی کا کہنا ہے کہ جمال نے طالبان کے تربیتی کیمپ میں وقت ضرور گزارا ہے اور تربیت لی ہے تاہم میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ دہشت گرد ہے۔ جب میں نے اس کی زائد عمر کے انکشاف پر پولیس کو بلایا تو اس نے آخری فقرہ مجھ سے یہ کہا کہ ”میں تمہیں قتل کر دوں گا، میں جانتا ہوں کہ تمہارے بچے کہاں ہیں۔“واضح رہے کہ جمال کو فرانس کے ایک پناہ گزین کیمپ سے برطانیہ لایا گیا تھا اور اسے پناہ دینے کی تیاری ہو رہی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس