پاکستان فلم انڈسٹری، شعبہ موسیقی انحطاط کا شکار

پاکستان فلم انڈسٹری، شعبہ موسیقی انحطاط کا شکار

حسن عباس زیدی

پاکستان فلم انڈسٹری نے حالیہ چندسالوں میں تیزی سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے شائقین کا اعتماد حاصل کیا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک اس کے کئی شعبے زوال کا شکار ہیں جن میں میوزک اور گلوکاری کا شعبہ سرفہرست ہے اور یہ حقیقت ہے کہ کروڑوں روپے کی فلمیں تو بنائی جارہی ہیں لیکن لوگوں کے کان اچھی موسیقی سننے کے لئے ترس گئے ہیں۔سینئر لوگوں کے مطابق فلم انڈسٹری کے بحران کی بے شمار وجوہات میں سے ایک وجہ میوزک کے شعبے کا انحطاط تھا کیونکہ جب انڈسٹری پر زوال شروع ہوا تو ان دنوں فلم کے دوسرے شعبوں کی طرح میوزک پر بھی توجہ نہیں دی جارہی تھی ،خاص طو ر جب اسی کی دہائی میں پنجابی فلموں کو اردو فلموں پر فوقیت دی جانے لگی تو اچھا میوزک بھی غائب ہوگیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب ماضی کے تمام نامور گلوکار اور موسیقار گھروں میں بیٹھ گئے ،اکثر فلموں کے پروڈیوسراور ڈائریکٹر خود ہی میوزک ڈائریکٹر اور گلوکار بھی بن گئے۔ماضی کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر فلم شروع کرتے وقت جہاں کہانی کا سب سے زیادہ خیال رکھتے تھے وہاں ان کی توجہ میوزک پر بھی ہوتی تھی یہی وجہ ہے اگر فلم انڈسٹری کے سنہرے دنوں پر نظردوڑائی جائے تو بے شمار نامور موسیقار اور گلوکار سامنے آتے ہیں جن کا کام آج بھی یاد گار ہے ۔ماضی کی کئی ایسی فلمیں بھی تھیں جو عوامی سطح پر بعض وجوہات کی بناپر تو کامیاب نہ ہوسکیں لیکن ان کا میوزک ضرورسپرہٹ ہوا۔اچھی موسیقی کی آمیزش فلم کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے یہی وجہ ہے پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہری دور میں ملکہ ترنم نورجہاں،مہدی حسن،غلام عباس،اے نیئر،مہناز،نیئرہ نور،مسعود رانا،عنایت حسین بھٹی،شوکت علی،ناہید اختر،ریشماں،احمد رشدی،سلیم رضا،اخلاق احمد،مجیب عالم،نصرت فتح علی خان،رجب علی،سلمیٰ آغا،عالمگیر،غلام علی،عطاء اللہ عیسی خیلوی سمیت سینکڑوں لوگ فلم انڈسٹری سے جڑے ہوئے تھے لیکن رفتہ رفتہ مختلف وجوہات کی بنا یہ لوگ انڈسٹری سے دور ہوتے چلے گئے ،جس طرح ہماری فلموں سے کہانی اور پرفارمنس غائب ہوتی گئی اسی طرح اچھی موسیقی بھی غائب ہوگئی اور ایک وقت وہ بھی آیا جب فلمی میوزک بالکل عامیانہ بن کر رہ گیا،کچھ لوگوں نے خود کو انڈسٹری سے دور کرلیا،کچھ بیرون ملک منتقل کرگئے م جن لوگوں کو ریڈیواور ٹی وی پر تھوڑا بہت کام ملتا تھا وہ خودکو زندہ رکھنے کے لئے کرتے رہے اور جن لوگوں کا بالکل ہی نظراندازردیا گیا وہ ایک طرح سے جیتے جی ہی مرگئے کیونکہ کہا جاتا ہے کہا کہ اگر کسی فنکار کو نظراندازکردیا جائے تو یہی اس کی موت ہوتی ہے۔اس طرح سے ہماری انڈسٹری کے بے شمار نام گمنام وادیوں میں کھوگئے جہاں سے انہیں واپس لانے کئے کسی نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی کیونکہ فلمی صنعت کو زندہ رکھنے والے پروڈیوسراور ڈائریکٹر بھی گھروں میں مایوس ہوکر بیٹھ گئے تھے۔اگر لالی ووڈ کی تاریخ پر نظرڈالی جائے تو سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فلمیں ایسی ہیں جن کی باکس آفس پر کامیابی اچھے میوزک اور نغمات کی مرہون منت نظر آئے گی۔ جبکہ اس وجہ سے فلم سازوں کو ایکسٹرا آمدنی بھی ہوتی تھی کیونکہ فلم کا میوزک الگ سے فروخت کیا جاتا ہے ۔ فلمی گانوں کی آڈیو کیسٹ خریدنا ایک طرح کا فیشن سمجھا جاتا تھا۔کمرشل مارکیٹ میں فلمی میوزک کی ایک الگ اہمیت ہوتی تھی،کسی فلم میں کہانی نویس،ڈائریکٹر واداکاروں کی پرفارمنس کی باکس آفس مارکیٹ کے ساتھ گلوکاروں،موسیقاروں اور نغمہ نگاروں کے حوالے سے بھی فلم کی اہمیت اور حیثیت کا تعین کیا جاتا تھا جس سے کسی بھی فلم کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوجاتا تھا۔ چند سال پہلے جب ایک طرح سے ہماری انڈسٹری کا دوبارہ جنم ہوا تو فلم سازی کے شعبے میں جہاں بہت سی چیزوں کو نظراندازکیا گیا جس میں میوزک سرفہرست ہے ،اگرچہ ہمارے ملک میں اس وقت بہترین میوزک ڈائریکٹر،جدیدترین سٹوڈیو اور نہایت باصلاحیت گلوکار موجود ہین لیکن ان کی صلاحیتوں سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے ،بہت سے نوجوان گلوکار اس بات کی شکایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں انہیں فلموں میں گلوکاری کا موقع نہیں مل رہا ،اگر چند نئے لوگ نظر آ بھی رہے ہیں تو وہ کسی نہ کسی لابی کا حصہ ہیں۔ نئے پروڈیوسر اور ادارے فلموں کی پروڈکشن پر تو کروڑوں روپے کا بجٹ لگارہے ہیں لیکن اچھے اور معیاری میوزک کی تخلیق ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔ کئی فلموں کا میوزک بھارت سے بھی تیار کیا جاتا ہے جن کی موسیقی اور گلوکاری بھی وہاں سے کرائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود شائقین موسیقی کے سماعتیں اچھے میوزک کے لئے ترس گئی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1