شوبز راؤنڈاپ

شوبز راؤنڈاپ

 متنازعہ مناظرکی بھرمار ’’تھری سٹوپڈز‘‘فل بورڈ ،نمائش کا اجازت نامہ حاصل کرنے میں ناکام

فلم ’’تھری سٹوپڈز‘‘کو متنازعہ مناظر کی بھرمار کے باعث سنسر بورڈ نے نمائش کا اجازت نامہ دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے فل بورڈ کردیا۔فلم کو 21اکتوبر کو ریلیز ہونا تھالیکن سنسر سرٹیفیکیٹ نہ ملنے کی وجہ سے اس کی نمائش فی الحال موخر کردی گئی ہے اب اس فلم میں سے کچھ سین نکالنے کے بعد اسے دوبارہ اسے سنسر بورڈ میں پیش کیا جائے گا اور پھر اس فلم کو ملک بھر میں عام نمائش کے لئے پیش کردیا جائے گا۔ڈائریکٹر انجم پرویز اور فلم میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے فنکاروں کا کہنا ہے کہ ہماری فلم میں ایسا کچھ نہیں ہے جس کو بنیاد بنا کر اسے فل بورڈ کیا گیا ۔ہمیں یقین ہے کہ اب یہ فلم بغیر کسی اعتراض کے سنسر ہوجائے گی۔اس فلم میں جذبہ حب الوطنی کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ ’’تھری سٹوپڈز‘‘ کے نمایاں فنکاروں میں آغا حیدر نایاب،ندا ملک،سکندر خان،نیہا خان اور توفیق شیخ شامل ہیں’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر انجم پرویز نے کہا کہ میری فلم کی خاص بات کرداروں کے مطابق فنکاروں کا انتخاب فلم میں کام کرنے والے تمام فنکاروں نے اپنے اپنے کردار اس خوبصورتی سے نبھائے ہیں کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے خاص طور پر آغا حیدر اور نایاب کی اداکاری کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے یہ دونوں فنکار فلم انڈسٹری میں شاندار اضافہ ہیں ان دونوں کا جذبہ اور لگن دیکھ کر یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کا مستقبل انتہائی تابناک ہے۔

فلم،ٹی وی اور سٹیج تینوں شعبوں میں کام کررہی ہوں،میگھا

فلم ،ٹی وی اور سٹیج کی معروف اداکارہ ،ماڈل و پرفارمرمیگھانے کہا ہے کہ میں فلم،ٹی وی اور سٹیج تینوں شعبوں میں کام کررہی ہوں۔پشتو فلموں کی وجہ سے فلمی صنعت کا وجود قائم ہے۔اب اردو فلمیں بھی اچھی بن رہی ہیں پاکستانی فنکارعروج کے دنوں میں مستقبل کے بارے میں پلاننگ نہیں کرتے‘فنکاروں کو شوبز کے ساتھ کوئی مناسب کاروبار بھی کرنا چاہیے ۔ میگھانے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستانی فنکار اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوچکے ہیں ۔زوال کے دنوں میں فنکاروں کو کوئی کام نہیں دیتا اپنے پرائے سب چھوڑ جاتے ہیں لاتعداد عظیم فنکارغربت ومالی پریشانیوں کا شکار ہوکر دنیاسے رخصت ہوچکے ہیں کسی حکومت نے شوبز سے وابستہ فنکاروں کی فلاح وبہبود کیلئے کچھ نہیں کیاجبکہ پڑوسی ممالک بھارت کے فنکار کروڑوں پتی ہیں اور ان کو حکومت بھی سپورٹ کرتی ہے۔

پاکستان فلم انڈسٹری ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے،مہر النساء

اداکار ہ و ماڈل مہر النساء نے کہا ہے کہ ٹی وی کی طرح پردہ اسکرین پر بھی مختلف کردار کرنا ہی پسند کروں گی، پاکستان فلم انڈسٹری نئے دور میں داخل ہوچکی ہے ۔مہر النساء کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اب اچھی اورمعیاری فلمیں بننے لگی ہیں اسی لئے فیشن اور ٹی وی کے نامور سٹارز بھی کام کر رہے ہیں ۔ ماضی میں بننے والی فلموں میں روایتی ہیرو اور ہیروئن کے مخصوص کردار ہی ہوا کرتے تھے جس میں ہیروئن کا کردار چند گانوں اور ہیرو کو منانے تک محدود ہوا کرتا تھا، مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اس وقت کامیڈی، میوزیکل، رومانٹک، ایکشن اور تھرل سمیت ہر مزاج کی فلمیں بن رہی ہیں۔انہوں نے کہا ٹی وی ڈراموں کی طرح پردہ سکرین پر بھی مختلف کردار کرنا ہی پسند کرتی ہوں۔ ٹی وی کے ساتھ فلم انڈسٹری جس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اس کے ذریعے ہم بین الاقوامی سطح پر اپنے کلچرل اور سوفٹ امیج کو پروموٹ کرسکتے ہیں۔

فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے مزیدسینما گھروں کی تعمیر ضروری ہے ،سید نور

نامورپروڈیوسر،ڈائریکٹر اور رائٹرسید نورنے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری کی بحالی کے لئے نئے اور جدید سینما گھروں کی جلد تعمیر نہایت ضروری ہے ، ہمارا سرکٹ پہلے ہی بہت چھوٹا ہے اور سینما گھروں کی عدم دستیابی کے باعث فلم پروڈیوسر فلم بنانے سے کتراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فنانسر کروڑوں روپے لگا کر فلم بناتا ہے اور جب ریلیز کا موقع آتا ہے تو بدقسمتی سے اسے سینما ہی نہیں ملتا جس کی وجہ سے فنانسروں کو کروڑوں کا نقصان ہوجاتاہے ۔ اسلم گڑا نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اب پاکستان میں اچھی فلمیں بنائی جا رہی ہیں جس کے باعث شائقین فلم کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

غلط باتوں پر انتہائی غصہ آتا ہے جس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتی ،میگھا

اداکارہ وپرفارمرمیگھانے کہا ہے کہ میرا فلسفہ ہے کہ محبتیں لیں اور تقسیم کرتے جائیں جس سے آپ کی محبت کا خزانہ کبھی خالی نہیں ہو گا ، میرے پاس کوکنگ کے لئے وقت نہیں ہوتا البتہ کبھی کبھی کیک اور پیزا بنا لیتی ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہوں یہی میری خوبصورتی کا راز ہے ۔ مجھے غلط باتوں پر انتہائی غصہ آتا ہے جس کا میں اظہار کیے بغیر رہ نہیں سکتی ۔انہوں نے کہا کہ زندگی میں بہت مشکل وقت میں بھی میں نے انتہائی جرات کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا ہے ۔

شوبز میں مثبت سوچ رکھنے والے افراد کی کمی نہیں ہے ، سہراب افگن

سینئراداکارسہراب افگن نے کہا ہے کہ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ اور ہر شعبے میں ہوتے ہیں مگر میری ذاتی رائے ہے کہ شوبز میں مثبت سوچ رکھنے والے افراد کی کمی نہیں ہے ، ہر جگہ آپ کو پڑھے لگے اور باصلاحیت افراد نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شوبز پر تنقید کرنے والے صرف اپنا وقت ضائع کر تے ہیں ۔ مجھ میں ہر طرح کے کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے ، کسی مخصوص کردار کی چھاپ اپنے اوپر ہرگز لگنے نہیں دوں گا ۔سہراب افگن نے کہا کہ ٹی وی نوجوان فنکاروں کے لئے بہترین درسگاہ ہے ، فنانسروں کو چاہیے کہ وہ نئے ٹیلنٹ کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں تاکہ انڈسٹری کو نوجوان فنکار مہیا آ سکیں ۔شاہد عزیز کے سوپ ’’آنگن میں دیوار‘‘میں زندگی کا یادگار کردار ادا کیا۔

فلم انڈسٹری پاؤں پر کھڑا ہونا شروع ہو گئی ،ریما خان

معروف اداکارہ و ماڈل ریما خان نے کہا ہے کہ فلمسازی کے معیار میں مسلسل بہتری سے فلم انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا شروع ہو گئی ہے ،ہمیں اس رفتار پر اکتفا کرنے کی بجائے اسے مزید بڑھانے کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی ۔ریما خان نے کہا کہ پاکستان میں اب معیاری فلمیں بن رہی ہیں جس سے شائقین کے چہرے بھی کھل اٹھے ہیں۔ پاکستانی عوام کی اکثریت اب بھی بھارتی فلموں کی بجائے پاکستانی فلموں کو ترجیح دیتی ہے جو بڑی خوش آئند اور قابل فخر بات ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں میں بھی اس کی حامی ہوں کہ نئے آنے والوں کو بھرپور مواقع ملنے چاہئیں اور یہی ہمار امستقبل ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...