موجودہ اقتصادی ماڈل خامیوں کا مجموعہ ہے ،میاں زاہد حسین

موجودہ اقتصادی ماڈل خامیوں کا مجموعہ ہے ،میاں زاہد حسین

اسلام آباد( اے این این)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ دنیا کا موجودہ اقتصادی ماڈل خامیوں کا مجموعہ ہے جو چند لوگوں کو فائدہ جبکہ بھاری اکثریت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس ماڈل کی وجہ سے دنیاکے مختلف ممالک مستقل طور پر بحرانوں کی لپیٹ میں ہیں جبکہ امیر اور غریب کے مابین خلیج تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ پائیدار اقتصادی ترقی کیلیئے ایسے معاشی ماڈل کی ضرورت ہے جو امیر اور غریب کے مابین فرق کم کرے تاکہ عوام کے مصائب میں کمی آئے۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ بڑی طاقتیں اور آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر عالمی ادارے سرمایہ دارانہ نظام کی بے جا حمایت کے بجائے اسکی خامیوں کا جائزہ لیں اور صورتحال بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کریں۔سرمایہ دارانہ نظام اپنانے والے ممالک دیگر ممالک کے وسائل لوٹے بغیر ترقی نہیں کر سکتے جبکہ کسی بھی ملک میں یہ سسٹم عوام کے استحصال کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔

اسی لیئے دنیا میں جتنی تیزی سے ارب پتیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اتنی ہی تیزی سے غربت، بے چینی اور کشمکش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس کا نتیجہ بے چینی اور تنازعات کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ عوام سرمایہ دارانہ نظام سے تنگ آ گئے ہیں اور آزادانہ تجارت، گلوبلائیزیشن، مارکیٹ اکانومی اور اسی قسم کے دیگر نعرے اپنی کشش کھوتے جا رہے ہیں کیونکہ عوام اور بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ عالمگیریت کا نعرہ عوام کو بے وقوف بنانے اور غریب ممالک کے وسائل کو لوٹ کر انھیں مزید غریب بنانے کا ایک حربہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ کو یورپی یونین کو خیر باد کہنا اور کئی ممالک میں قوم پرستانہ کی بڑھتی ہوئی پزیرائی سوچ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اگر اس نظام کی خامیوں کو دور نہیں کیا گیا تو مزید بغاوتیں ہونگی۔

مزید : کامرس