قوموں کاعروج و زوال

قوموں کاعروج و زوال
 قوموں کاعروج و زوال

  


مذہبی عقائد و تصورات کے لحاظ سے ہمارے ہاں بعض اوقات ایک ایسا رویہ سامنے آتا ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے کہیں تو نہایت مستند روایات و احادیث کو محض اپنے مخصوص فہم اسلام کی وجہ سے یہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے کہ یہ ضعیف روایات ہیں تو دوسری طرف ایسے احباب کی بھی کمی نہیں جو ہر ایسی روایت کو فوراً سینے سے لگا لیتے ہیں، جن میں کسی پیشن گوئی کا ذکر ہو، چاہے وہ روایت کتنی ہی ضعیف کیوں نہ ہو۔اس کو موجودہ حالات پر منطبق کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے لئے چاہے انہیں کتنے ہی غیر عقلی اور غیر سائنسی دلائل کیوں نہ تراشنے پڑیں و ہ اس سے ددریغ نہیں کرتے کہ ان کا مقصد ہی اپنی خواہشات کی تکمیل کرتے نتائج کا حصول ہوتا ہے۔ تاریخ اسلام کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کئی ادوار میں ہمارے ہاں اس وقت کے لوگوں نے مختلف روایات کا سہارا لیتے ہوئے فتنہ دجال کے حوالے سے کئی دعوے کیے جو وقت نے غلط ثابت کردیے آج کل پھر کچھ عرصے سے معرکہ ہند اور ارض فلسطین کے حوالے سے پیش گوئیوں کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے ۔حیرت ہوتی ہے جب نہایت بیدارمغز اور پڑھے لکھے لوگ بھی قوموں کی حیات و ممات کے معاملات کو سائنسی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے محض ضعیف روایات کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک طرف اہل یہود ہیں کہ اپنی مقدس کتابو ں میں درج پیش گوئیوں کے مطابق اپنی ایک عالمی ریاست کے قیام کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ غالباً یہ 1993ء کی بات ہے کہ بہائی فرقہ کی پاکستانی شاخ کے سربراہ اور ہمارے دوست کامران کریمیان نے ایک بین المذاہب مکالمے کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سات برسوں کے اندر اسرائیل کے شہر حیفہ میں موجود بہائی مذہب کے بانی بہااللہ کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے دنیا بھر کے سربراہان مملکت تشریف لائیں گے اور اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں بہائیت کا غلبہ ہو جائے گا۔ کامران صاحب کی مذکورہ پیش گوئی کے گواہ فادر جیمز چنن بھی ہیں جو آج کل لاہور میں عیسائی برادری کے ایک بہت بڑے ادارے کے سربراہ ہیں۔ اس بات کو تقریباً چوبیس برس کا عرصہ بیت چکا،لیکن ابھی تک پیش گوئی کی درستی کے دور دور تک امکانات نہیں۔ راقم کو اکثر اولیاء اللہ کے پاس حاضری کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے۔ برسوں سے یہی سوال زبان پر رہا کہ پاک سرزمین پر بہار کب اترے گی؟ ہم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں کب شامل ہوں گے ۔ 90کے عشرے کے آغازمیں بھی لاہور میں مقیم ایک بڑے محترم صوفی نے پیش گوئی کی کہ اگلے دس سال کے اندر اندرپاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑا معرکہ ہو گا، جس میں لاکھوں افراد مارے جائیں گے ۔ جنگ کے بعد کچھ عام اور غیر سیاسی افراد پر مشتمل ایک جماعت ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی ،لیکن 2016ء اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور مذکورہ پیشن گوئی ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔اسی طرح لاتعداد صوفیاء کرام نے گزشتہ ایک عشرے کے دوران پیش گوئی کی کہ 2010ء کے بعد پاکستان کے حالات تیزی سے بہتر ہوتے جائیں گے، لیکن آج 2016ء اختتام کی طرف گامزن ہے اور وطن عزیز کے حالات سب پر عیاں ہیں۔

ہم عجیب قوم ہیں کہ محض روایات اور یہاں تک کہ خوابوں کی بنیاد پر تازہ جہاں آباد کرنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال کے کچھ اٹل قوانین ہیں جو اسی خالق کائنات نے بنائے ہیں،جس کی ہم عبادت کرتے ہیں کاش ہم یہ حقیقت جان پائیں کہ جنگیں خوابوں کی بنیاد پر نہیں جیتی جاتیں۔ جنگوں میں مرد میدان وہی ٹھہرتے ہیں، جن کی پیٹھ ان کے گھوڑوں پر ہوتی ہے۔فتح و کامرانی ان پر مہربان ہوتی ہے، جن کے گھوڑے ہمہ وقت دشمن پر قہر برسانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ میدان ان کے ہاتھ رہتا ہے، جن کی شمشیریں ہر وقت برہنہ رہتی ہیں، تاکہ دشمن پر اپنی دھاک بٹھائی جا سکے۔یقین جانئے،ملک کسی خواب یا پیشن گوئی کی بنیاد پر فتح نہیں کئے جاسکتے یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے خدارا دشمن کے مقابلے کے لئے بھرپور تیاری کو اپنا بنیادی ہتھیار جانئے۔ جی ہاں اللہ پر پختہ یقین اور وطن عزیز سے لازوال محبت ہمارا سرمایہ حیات ہے۔ نبی پاکﷺکا ہر فرمان سچا ہے ۔ پاکستان ہمارے لئے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے، اس کی حفاظت کے لئے ہمیں ضعیف روایات کے جنگل اور خوابوں کی دنیا سے باہر آکر جنگی بنیادوں پر کئی محاذوں پر انتھک محنت کرنا ہو گی۔ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اپنے پیارے وطن کے لئے استعمال کرتے ہوئے اسے ہر میدان میں دوسرے ممالک پر سبقت دلوانی ہو گی۔ ہم قوم کے صاحب رائے دانشوروں اور صوفیاء سے درمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ خدارا علم رویا اور روایات کے حوالے سے قوم کی فکری رہنمائی فرما کر انہیں عملی حقائق کو سمجھنے اور ضعیف اور مستند روایات میں فرق کرنا سکھائیے، ورنہ یہ قوم روایات کی غلام بن کر ایسی بے عملی کا شکار ہو جائے گی جو قوموں کے لئے موت کا پیغام ثابت ہوتی ہے۔

مزید : کالم


loading...