بھارتی جارحیت، امریکی حمایت

بھارتی جارحیت، امریکی حمایت
بھارتی جارحیت، امریکی حمایت

  

چند ہفتوں سے امریکی محکمہ خارجہ یا سلامتی امور کے ترجمان پریس کانفرنس میں مطالبہ کررہے ہیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان دہشت گردوں سے دنیا کے امن کو خطرہ ہے ۔ یہی زبان ہندوستان کے وزیر اعظم مودی استعمال کرتے ہیں تو پھر اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے کرتا دھرتا پاکستان کے خلاف دنیا میں حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہیں۔ امریکہ دنیا میں طاقتور ترقی یافتہ ملکوں کا اتحادی اورسر براہ ہے تو لامحالہ اس کی پالیسی اس کے اتحادی ملکوں میں بھی چلے گی۔

کئی سال سے پاکستان کو کوئی وزیر خارجہ نہیں مل رہا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی دو معزز بزرگوں کے سپرد ہے،بات ہو رہی تھی کہ ہندوستان کے موجودہ حالات میں واقعی بھارت کے وزیر اعظم اور ان کی جماعت بی جے بی پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو چکی ہے۔میں تو نفی میں جواب دوں گا، کیونکہ بھارت اور پاکستان دونوں اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں جنگ کی باتیں کرنا آسان، جبکہ عملی جنگ کرنا مشکل ترین مرحلہ ہے، جنگ کسی ایک ملک کے لئے تباہی نہیں ہوتی، اس کا نقصان دونوں ملکوں کو ہوتا ہے۔

حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا تو یہی ہے جیسے بھارت نے عملاً پاکستان کے ساتھ جنگ کا ماحول پیدا کردیا ہے، اس کے رد عمل میں پاکستان کے اندر بھی جنگ سے نمٹنے کے اقدامات اور میڈیا کی جنگ نظر آنے لگی ہے، ہندوستان سے پاکستان آنے والے ایک پاکستانی شہری نے بتایا ہے کہ ہندوستان میں بھی عام شہروں میں کسی قسم کا جنگ کا ماحول یا باتیں نہیں ہیں، یہ ہندوستان کی حکومتی سطح پر منصوبہ ہے۔ بھارت اپنے قانون کے مطابق سیکولر ہے، چنانچہ سیکولر سیاست کے دائرہ کار میں ہی آگے بڑھتا ہے، لیکن اب بڑی تیزی سے بھارت کی سیکولر سیاست ایک مذہبی یا ہندوانہ سیاست کے طور پر سامنے آرہی ہے ،یہی وجہ ہے کہ بھارت میں موجود مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے لوگ بھی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں ،اگرچہ بی جے بی کو سخت گیر جماعت سمجھا جاتا ہے، لیکن نریندر مودی کی حیثیت دیگر رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر اور مسلم دشمنی کی حامل ہے، گجرات میں بطور وزیر اعلیٰ جو کچھ ان کے دور میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا، وہ بھارت کی تاریخ کا بدترین پہلو ہے، اس وقت نریندر مودی کی حکومت میں بھارت کی سفارتکاری کا پہلا بنیادی نکتہ محض پاکستان پر الزام تراشی کی سیاست ہے، بھارت میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہو تو چند منٹوں میں بھارتی حکومت اور میڈیا کی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ بھارت میں جو دہشت گردی ہوتی ہے، اس کے تانے بانے کسی نہ کسی شکل میں پاکستان سے جا ملتے ہیں۔ بھارت اپنی رائے پھیلانے والے انفرادی اور اجتماعی اداروں کی مدد سے بھارتی عوام میں اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ دہشت گردی کی بنیادی وجہ پاکستان ہے۔ ایک اور منفی پراپیگنڈہ یہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سول قیادت کے مقابلے میں پاکستان کی عسکری قیادت بھارت کے زیادہ خلاف ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی جو کہانیاں منظر عام پر آئی ہیں، اس سے بھارت داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے ، اس کا ذمہ دار بھارت پاکستان کو ٹھہراتا ہے، حالانکہ کشمیری عوام اپنی آزادی کی جنگ خودلڑرہے ہیں اور ہندوستانی حکمرانوں کوسترسال پرانا وعدہ یاد کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ یہ کشمیریوں کی داخلی جدوجہد ہے، لیکن بھارت اس کو عالمی سطح پر پاکستان کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔ بیرونی ممالک خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں میں سفارت کاروں، مشیروں، سفیروں کو بھارت کی خارجہ پالیسی کوناکام کرنے کے لئے کوئی واضح حکمت عملی اپنانے کی سخت ضرورت ہے ۔

بھارت، پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، اگر پاک فوج نے شمالی علاقوں میں ضرب عضب شروع نہ کی ہوتی تو پھر شاید بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے نام پر اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتا، پاک فوج نے دہشت گردوں کو ختم کرنے کا عزم لے کر قدم بڑھایا، جس میں پاک فوج کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی فوجی کمانڈر خود شمالی علاقوں کا دورہ کرتے اور پاک فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہیں ۔پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان ہوا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت خود ملوث ہے ۔

بھارت کی سفارت کاری کا پاکستان مخالف بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان بھارت میں بطور ریاست دہشت گردی کرنے یا اس کو امداد فراہم کرنے یامعاونت کرنے میں براہ راست ذمہ دار ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارت عالمی دنیا کو یہ باور کروا رہا ہے کہ دوستی اور دہشت گردی کا ایجنڈہ ایک ساتھ نہیں چل سکتا، بھارت کا خیال ہے کہ اس وقت جو عالمی اور علاقائی صورت حال ہے، اس کا فائدہ اٹھا کروہ پاکستان کے خلاف حمایت حاصل کرسکتا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان کا خیال ہے کہ وہ دنیا کی حمایت حاصل کرکے بھارت کو دباؤ میں لا سکتا ہے، یہ سمجھنا کہ امریکہ سمیت دنیا بھارت کو چھوڑ کر ہماری حمایت میں پیش پیش ہوگی پوری طرح ممکن نہیں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو بد اعتمادی یا تعلقات کی خرابی ہو رہی ہے، اس میں ایک فریق ہندوستان بھی ہے، بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی ایجنسی کا باہمی گٹھ جوڑ بھی حالات کو خراب کرنے کا باعث بن رہا ہے، پاکستان اور بھارت دونوں کو حالات کو بہتر کرنا چاہیے،لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں پاکستان کے کچھ لوگ بھی رکاوٹ ہوں جو دونوں ملکوں میں دوستی اور اچھی فضا پسند نہ کرنا چاہتے ہوں، بھارت کی حکومت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کر کے پانی اور کشمیری عوام کے بارے میں مسائل حل کرنا ہوں گے، لیکن حقیقی مسائل کو دبانے کے لئے بھارت نے جنگی جنون کے جو حالات پیدا کر دیئے ہیں ،یہ کسی بھی طرح دونوں ملکوں اور خطے کے لئے سود مند نہیں ہوں گے

مزید : کالم