احتجاج ضرور مگر حدود میں

احتجاج ضرور مگر حدود میں

احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ کیونکہ اس ذریعے سے نقظہ نظر حکمران اور عوام کے سامنے جلد اور براہ راست پہنچ جاتا ہے۔ جدید دور میں احتجاج کے ذریعے عوام اپنے افکار و مطالبات پوری دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔ چونکہ ہر چیز قاعدہ و قانون میں رہ کر ہی سود مند رہتی ہے اور اگر کسی مثبت طرزِ عمل کو منفی اندازمیں اپنایا جائے تو اسکی افادیت میں کمی اور نقصانات میں اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں احتجاج کیلئے باقاعدہ ضابط کار وضع ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں احتجاجی جلسوں کے منتظمین پولیس کو جلوس کے مجوزہ روٹ، تاریخ اور وقت بارے مطلع کرنے کے پابند ہوتے ہیں اور پولیس مفید مشوروں سے جلوس کو پر امن طریقے سے منعقد کرانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح آسٹریلیا، سنگاپور، نیوزی لینڈ، نیدر لینڈ اور تھائی لینڈ وغیرہ میں مقررین کیلئے مخصوص کارنر ہوتے ہیں، جہاں وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں لیکن پاکستان میں احتجاج من مرضی کے اصولوں کے تحت ہوتا ہے۔ آئے دن جس کے دل میں آتا ہے لاہور کی مصروف ترین سڑکوں خصوصاً مال روڈ کو روک کر احتجاج کے نام پر روزمرہ معمولات میں تکلیف دہ رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔ اب تو حد ہوگئی کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے 2نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دے دی ہے۔ یہ کونسا مہذب انداز ہے اپنی بات منوانے کا۔ عمران اور نواز شریف کے اختلافات کا خمیازہ پاکستان کا عام آدمی کیوں بھگتے۔ عمران خان اگر یہ سب کچھ اپنی شہریت میں اضافے کیلئے کر رہے ہیں تو معذرت کے ساتھ یہ بڑا عجیب انداز ہے۔ خدارا قانونی مسائل کو قانون کی حدود میں رہ کر حل کریں۔ غریب آدمی کا چولہا بند کر کے اپنے مفادات کا حصول کسی بھی محب وطن سیاستدان تو شیوہ نہیں دیتا۔ (عشرت اخترنشتر کالونی۔لاہور)

مزید : اداریہ