پاکستان کی ترقی،خوشحالی اور استحکام

پاکستان کی ترقی،خوشحالی اور استحکام

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ آج ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے، پہلے سے زیادہ مستحکم ہے، آپریشن ضرب عضب سے خطے میں استحکام آیا، یہ دنیا کے لئے ایک مثال ہے، ہم نے بے رحم دشمن کو شکست دے دی ہے۔ عالمی برادری کو فخر سے بتاسکتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کے دور دور تک دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کر کے امن و خوشحالی کی فضا قائم کردی گئی ہے، پاکستان دنیا کے ساتھ جتنا آج جڑا ہوا ہے، پہلے کبھی نہیں تھا، لاہور میں ہونے والی پہلی انٹرنیشنل پیسنر چمپئن شپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کھیلوں سے ملکوں کے ساتھ روابط مزید مضبوط ہوں گے امید ہے مستقبل میں کھیلوں کا انعقاد وسیع تر ہوگا۔

فوجی کھلاڑیوں اور کھیلوں کے پہلے بین الاقوامی مقابلوں میں 18 ملکوں کی ٹیموں نے شرکت کی۔ ان مقابلوں کے لاہور میں انعقاد سے دنیا بھر میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی ایسی فضا قائم ہوچکی ہے جس میں کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں کی تقریبات اطمینان و سکون کے ساتھ انعقادپذیر ہو سکتی ہیں ، دنیا کے جن اٹھارہ ملکوں کے کھلاڑیوں نے ان مقابلوں میں شرکت کی انہوں نے پاک فوج کے چست اور چاق و چوبند کھلاڑیوں کی پھرتیوں کا بچشمِ خود ملاحظہ ہی نہیں کیا بلکہ پیشہ ورانہ مصروفیات سے وقت نکال کر لاہور کی سیر بھی کی۔ ہر جگہ مہمان نوازی کے مظاہر بھی دیکھے اور امن و سکون کی فضا میں یادگار وقت بھی گزارا۔ ان میں ان ملکوں کے کھلاڑی بھی شامل تھے جنہیں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے باعث کچھ خدشات ہوسکتے تھے لیکن اب جب کھیلوں کے اس کامیاب ایونٹ میں خود شرکت کر کے یہ حضرات واپس گئے ہیں تو اپنے ساتھ یہ پیغام بھی لے کر گئے ہیں کہ پاکستان کے بارے میں خدشات بے بنیاد ہیں ۔

کرکٹ کی جن ٹیموں نے خوفزدہ ہو کر پاکستان آنا چھوڑ رکھا ہے اور پاکستان کے ساتھ ہوم سیریز بھی دبئی وغیرہ میں کھیلی جاتی ہے، ان کے لئے بھی کھیلوں کے ان مقابلوں کی وجہ سے مثبت پیغام گیا ہے۔ اب پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ بورڈ اور دنیا کے ان ملکوں کو جو کرکٹ کھیلتے ہیں اس خوف سے باہر نکالیں اور انہیں بتائیں کہ لاہور میں کئی دن تک فوجی کھلاڑیوں کا میلہ لگا رہا اور شرکت کرنے والوں نے مکمل تحفظ اور خوشی و اطمینان کے ساتھ ان مقابلوں میں شرکت کی۔ عالمی کرکٹ بورڈ کو یہ بتانے کی ضرورت بھی ہے کہ اگر ماضی میں اتفاقاً کسی وقت کسی کرکٹ ٹیم پر ایک ناخوشگوار حملہ ہوگیا تھا تو اس سے یہ کہاں لازم آجاتا ہے کہ کرکٹ ہمیشہ کے لئے پاکستان سے روٹھ جائے اور کوئی بھی ٹیم پاکستان کا رخ نہ کرے۔ زمبابوے کی ٹیم بھی لاہور میں اطمینان کے ساتھ میچ کھیل کرگئی ہے، ان تمام پہلوؤں کو اب عالمی کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کے ساتھ اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔ ویسے بھی آرمی چیف کا بیان بھی اب اس پر مہر تصدیق ثبت کر رہا ہے۔

آرمی چیف نے ان لوگوں کو بھی براہ راست پیغام دے دیا ہے جو پاکستان کے حالات کے بارے میں مایوسی کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے اور پہلے سے زیادہ مستحکم ہے، جن لوگوں کو ہر وقت پاکستان میں عدم استحکام نظر آتا ہے اور ایک دو مظاہروں سے خوفزدہ ہو کر وہ ملک کے بارے میں غیر یقینی کاراگ الاپنا شروع کردیتے ہیں انہیں آرمی چیف کی تقریر کو بار بار غور سے پڑھنا چاہیے۔ جن کا یہ کہنا ہے کہ نہ صرف ملک میں استحکام پیدا ہوا ہے بلکہ پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب سے خطے میں استحکام بھی پیدا ہوا ہے، جبکہ بے رحم دشمن کو شکست دیدی گئی ہے۔ بعض ٹی وی چینلوں پر بیٹھے ہوئے ان بزر جمہروں کے لئے بھی ’’جو ملک کی تنہائی پر پریشان‘‘ ہیں،آرمی چیف کی تقریر میں یہ پیغام ہے کہ پاکستان کسی تنہائی کا شکار نہیں ہے، آرمی چیف کا یہ کہنا کہ پاکستان دنیا کے ساتھ جتنا آج جڑا ہوا ہے پہلے کبھی نہ تھا، ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے کہ کرکٹ کے مقابلوں کو بیرون ملک منعقد کر کے کرکٹ کے عالمی ٹھیکداروں نے پاکستان کے بارے میں یہ تاثر پیدا کرنے کی ضرور کوشش کی کہ یہاں کھلاڑیوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں اور ہمارے ازلی دشمن بھارت نے اس معاملے کو اٹھا دیا کہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے پاکستان کو تنہا کردیا جائے گا لیکن نریندر مودی کی یہ خواہش خواب و خیال ہی رہی۔ حتیٰ کہ جب انہوں نے حال ہی میں برکس کانفرنس کے موقع پر مشترکہ اعلامئے میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا ذکر کرنے پر اصرار کیا تو انہیں چین اور روس کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور بال�آخر مودی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

ایسی ہی ناکامی بھارت کو نیوکلیر سپلائرز گروپ( این ایس جی) کی رکنیت کے معاملے پر پیش آئی، امریکہ کی حمایت کے بعد بھارت یہ تصور کر بیٹھا تھا کہ وہ اب این ایس جی کا رکن بنا کہ بنا، لیکن چین نے جب یہ دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ اگر ان ملکوں کو بھی این ایس جی کا رکن بنانا ہے جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے تو پھر بھارت ہی کیوں؟ پاکستان کیوں نہیں؟دونوں ملکوں کو بیک وقت رکن بنالیا جائے بصورت دیگر بھارت کے حق میں امتیازی سلوک نہیں چلے گا۔ چین کے ڈٹ جانے کی وجہ سے اب تک بھارت تلملا رہا ہے اور رُکنیت کے حصول کے لئے بے مقصد ہاتھ پاؤں مار رہا ہے گروپ کے اجلاس سے پہلے مودی نے کئی ملکوں کا طوفانی دورہ کیا اور بزعم خویش اس دوڑ بھاگ سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ دنیا ان کی سفارت کاری کے سامنے ڈھیر ہوچکی ہے لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ سفارت کاری کس کی کامیاب ہوئی؟ پاکستان کی،یا بھارت کی؟ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت آج بھی اس مقام پر کھڑا ہے جس پر مودی کے بے مقصد دوسروں سے پہلے کھڑا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ سفارت کاری دنیا کے ملکوں کے ساتھ کامیاب روابط کا نام ہے نری اچھل کود اور بے بنیاد الزام تراشی اور بیان بازی سے ضروری نہیں، سفارتی میدان میں کامیابی بھی حاصل ہوتی ہو، اس ضمن میں پاکستان کی بات اور موقف کو دنیا نے تسلیم کیا تو اسے کامیاب سفارت کاری سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔

آرمی چیف نے اب لگی لپٹی رکھے بغیر پاکستان اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ ملک مستحکم ہے خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے اور دنیا سے جڑا ہوا ہے اس لئے جن لوگوں کو اس بارے میں کوئی شکوک و شبہات تھے وہ دور ہو جانے چاہئیں اور جن کے ذہنوں میں مایوسیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں یا بے یقینی کے جالے بُن رکھے ہیں اور وہ اٹھتے بیٹھتے پاکستان کو کوستے رہتے ہیں انہیں اپنے بھٹکے ہوئے خیالات پر نظر ثانی کرلینی چاہیے یہی آرمی چیف کا دو ٹوک پیغام ہے۔

مزید : اداریہ