حریت رہنما یٰسین ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ

حریت رہنما یٰسین ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ

لبریشن فرنٹ جموں و کشمیر کے چیئرمین یٰسین ملک کے بارے میں مقبوضہ کشمیر سے انتہائی تشویشناک خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے 8 جولائی کو انہیں غیر قانونی طور پر نظر بند کیا تھا۔ یٰسین ملک کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور آمدہ اطلاعات کے مطابق انہیں علاج معالجے کی سہولتیں مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔ ان کی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں ان کی تشویشناک حالت کی وجہ سے سرینگر جیل حکام کے اصرار پر یٰسین ملک کو سری نگر کے ایک نجی ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ لئے گئے۔ یٰسین ملک کی اہلیہ مشال ملک اور دیگر شخصیات کا کہنا ہے کہ جیل میں یٰسین ملک پر تشدد کیا جاتا رہا، جس سے ان کی حالت بگڑی ہے، ان کا صحیح طور پر علاج بھی نہیں کرایا گیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق حریت رہنما یٰسین ملک کو صورہ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا جا رہا ہے۔ صورہ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں ان کی ایک تصویر اتاری گئی، ان کے پورے بازو پر پلاسٹر چڑھا ہوادیکھا جاسکتا ہے۔ حریت رہنما یٰسین ملک کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ مسلسل نظر بندی کے دوران بھارتی فوجیوں نے ان کے علاج پر توجہ نہیں دی، جس کے نتیجے میں ان کی حالت تشویشناک ہوگئی ہے۔ یٰسین ملک کو فوراً رہا کیا جائے تاکہ ان کا بہتر طور پر علاج کرایا جاسکے۔ حریت رہنما سے بھارتی حکومت اور فوجیوں کا رویہ قابل مذمت ہے۔ یٰسین ملک کی فوری رہائی کے لئے انسانی حقوق سے متعلق عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہئے۔ ان کی رہائی فوری طور پر ضروری ہے، تاکہ ان کی صحت کو مزید نقصان نہ پہنچے۔

مزید : اداریہ