خموشی گفتگو۔۔۔!

خموشی گفتگو۔۔۔!
 خموشی گفتگو۔۔۔!

  

دشمن کو اپنے پسندیدہ محاذیا منتخبہ میدان میں لاکر جنگ پر مجبور کرنا یا پھر پھندا لگا کر پنچھی کو پکڑ لینا ازمنہ قدیمہ سے ہی معروف کھیل رہا ہے۔گھات لگا کر جھپٹنا اور شب خون مارنا بڑا آسان ہے لیکن جم کر لڑنا اور سامنے کی ٹکر لینا ۔۔۔ہینی بال ایسا سپہ سالاروں کا استاد بھی ،چنگیزخان ایسا فاتح اعظم اور صلاح الدین ایوبی ایسا جری و جانباز جرنیل بھی دو بدو جنگ سے گریزاں و فراراں رہا ہے۔ دائیں بائیں اور آگے پیچھے جب آپ ہی آپ ہوں،اگر کوئی چھرا گھونپ دے تو پھر مجروح یا مقتول چلایا کئے کہ ہائے ہائے میرے پہلو سے وار کر گیا کون!کہا جاتا ہے کہ جب جولیس سیزر کی پشت میں اس کے جوٹی دار بروٹس نے خنجر گھونپا اور اس نے مڑ کر دیکھا تو حیرت سے دھڑام زمین پر آن گرا ،مارے صدمے کے اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا ’’بروٹس تم بھی‘‘۔۔۔۔واٹرلو کی جنگ میں بوٹے سے قد کے جرنیل نپولین کو پیٹ میں تکلیف تھی کہ نہیں۔۔۔کیا پتہ نہ ہوتی تواس فرانسیسی جرنیل کا ستارہ ڈوبنے کی بجائے پھر سے چمک اٹھتا۔مانئے نہ مانئے مگر بروٹس کے وارسے تو رومی جرنیل حیرت سے ہی ادھ کھلی آنکھوں کے ساتھ مر گیا۔

چومکھی معرکہ آرائی میں گھمسان کا رن پڑاہو تو ایڑی سے چوٹی تک طاقت لگائے بھی نہ بنے ۔دماغی قوت کا آخری ذرہ تک صرف کرنے کے باوجود یابعد بھی گاہ گاہ ناؤ ڈوب جایا کرتی ہے۔کبھی کبھی طوفان ڈبویا کرتے ہیں اور کبھی کبھی ابھارا بھی کئے ۔شام کوافق کے اس پار سورج ڈوبا چاہتا ہے اور ادھر کوئی کالی رات مسلسل ہمارے تعاقب میں ہے ۔سائے سمٹنے کی بجائے پھیل رہے، شبہات مٹنے کی بجائے کھل رہے اور بدنصیبی سازش کے قمارخانے میں مہمان بنی بیٹھی ہے ۔ آسمان سے اتری سلیمانی ٹوپیاں پہننے والی مخلوق صفیں باندھ رہی ہے،پرے کے پرے اور جتھے کے جتھے جم رہے ہیں۔بڑے بڑے ساحر مل کرایک ہی وقت میں اقامت کہنے کے لئے مرے جاتے ہیں۔کوئی سوال کرے ہے اور کسی کو ملال تو کسی کا خیال کہ اب خانہ انوری میںآسمان سے بلا نہیں اترنے کی،شاید زمین کے نیچے سے ہی کوئی عفریت پھنکارے تو پھنکارے ورنہ کچھ بھی نہیں۔

شب کی تاریک ساعت ہو تو تاروں کی روشنی میں منزل نہیں ملا کرتی ،مصر کے صحرا کی بھول بھلیوں سے شناسا لوگ نکلتے ہی آئے ہیں۔چیچنیاکے کوہ قاف میںآنے جانے کا تین بارتجربہ ہو تو شاید شہزادہ دوشیزہ کو سامری کے سائے یا صندوق سے نکال ہی لائے۔دھونی مارے اور سوانگ رچائے بین بجاتے جوگی کو کسی کوبرا ناگ،کالاناگ یا کوئی چتکبرہ ناگ نکلنے کی آس ہوگی۔کیا عجب اب سانپ مچل جائے اور باہر نہ آئے کہ ہر بار من کی مراد نہیں ملتی۔دنیا کتنی آگے نکل آئی اور ہمارے جوگی جنگلوں میں ہنوز تھیلا کاندھے سے لٹکائے ،گلے میں رنگ برنگی مالا پہنے منہ اٹھائے مارے مارے پھرا کئے۔سازش کی صبح جب انتشار کی دوپہر کو آنکھ مارتی ہے تو سیاہ کالی رات کر کر لمبے ہاتھ ان سے آن ملتی ہے۔مطلبی اور کرتبی جادوگروں کے لئے پھر جنتر منتر پھونکنے کا سمے بھی آن پہنچتا ہو گا۔سرماکی سفاک و سرد شب میں برکھا برستی ہے تو پرانے درد بھی جاگنے لگتے ہیں اور اس کا لطف سوا۔گرما کی گرم ساعت میں جب چھاجوں مینہ برستا ہے،پرنالے چلنے لگتے ہیں تو اس کا ذائقہ جدا کہ تب باد بہاری دل کا ملال لے جاتی ہے۔

کہا جاتا ہے گئے وقتوں کی ایک بستی میں بڑا مہان جادوگر تھا۔پرانے سیانے کہتے ہیں کہ شایداس نے آب حیات پی رکھا تھا کہ مجال ہے ا س کوموت چھو گئی ہو۔بندے بشر مرتے رہتے تھے ،کفن پہنتے اور گور میں اترتے رہتے تھے ۔اس کو کبھی کسی نے مگر شہر خموشاں میں نہ پایا کہ خضر سیرت صورت بدل بدل کر جیتا جاتا تھا۔ایک دن بستی کے سردار سے پرے پنچایت میں اس کی تو تکرار ہوئی،بس وہی اس کے غیظ و غضب کو ہوا دے گئی۔راوی کی ثقاہت یاکثا فت کو تو خیر اسماء الرجال کے ماہرین جانیں۔پرانی کتابوں میں پر یہی لکھا ہے کہ پھر بھرے پرے مجمع میں سردار دھواں بن کر تحلیل ہوتا دیکھا گیا۔اس دن کے بعد عرصہ ہائے دراز تک جادوگر کی دہشت و ہیبت کا تخت اس کے ساتھ ساتھ سفر کرتا رہا ۔بڑے بڑے سردار آتے جاتے رہے ،بستی کے احکام و فرامین ادلتے بدلتے رہے ،مہان جادو گر کی جاہ و حشمت او رکبر ونخوت میں مگر بال برابر بدلاؤ نہیں آیا۔

وقت کا طائر پر کھولتا اور بند کرتا رہا کہ اس کی پرواز برابر جاری رہی ۔اسی بستی کے لوگوں نے موسیٰ نامی آدمی کواپنا سردار چن لیا۔موسیٰ انتہائی کم گو اور سنجیدہ بندہ تھا ۔اس نے بے حد سعی کی کہ جادوگر سے مل جل کر چلا جائے کہ اسی میں بستی کی بہتری تھی۔وہ جو سانپوں کے منہ میں زہر کے ذخیرے ،بچھوؤں کی دم میں نشتر ،عشوہ،غمزہ و ادا میں قتیل پن اور بدکے سانڈ میں ٹکر مارنا ہوتا ہے۔۔۔موسیٰ تو کجا جادو گر بھی اس کا کیا کرتا کہ کبھی کسی کی فطرت و سرشت بھی بدلی ہے ۔کرنی خد ا کی ایک دن دونوں میں ٹھن ٹھنا گئی۔جادو گر کا ہنر پراناتھا کہ اپنی لاٹھی زمین پر پھینکتا تو وہ چشم زدن میں سانپ بن جاتی۔اب کی بار اس نے لاٹھی پھینکی تو موسیٰ نے بھی اپنا عصا نکال لیا۔لمحہ بھر کو تو ایسا لگا کہ بجلی سی کوند گئی ہو اور عصا سے نکلا بڑا سانپ دوسرے چھوٹے سانپ کو کھانے چلا ہو ۔’’حدیث اگرچہ ضعیف است مگر راویان ثقہ اند‘‘کہ اس جادوگر کے مزار پر بڑی رونق ہوا کئے۔ سرداری کے طالب بڑے بڑے لوگ آج بھی اس کے مزار کی مجاوری کرتے دیکھے جاتے ہیں۔

مزید : کالم