سپریم کورٹ میں پانامہ کا شور

سپریم کورٹ میں پانامہ کا شور
سپریم کورٹ میں پانامہ کا شور

  

سپریم کورٹ نے اگر پانامہ پیپرز کا مقدمہ اسی طرح سننا تھا تو بہتر تھا کہ مئی 2016ء میں ہی سن لیتی جب وزیراعظم نواز شریف نے اپریل میں پانامہ پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا ، کم از کم تحریک انصاف کو یہ گلہ تو نہ ہوتا کہ حکومت نے اس کے کرپشن مکاؤ مہم کے چھ ماہ ضائع کر دیئے۔ یقین جانئے کہ اگر اس وقت سپریم کورٹ مقدمہ سننا شروع کردیتی تو اب تک فیصلہ دے چکی ہوتی ، بھلے وہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت نہ بھی کرتی، تو بھی اتنے عرصے میں اس مقدمے کا فیصلہ کر سکتی تھی، لیکن اس وقت سپریم کورٹ نے ’دند بوڑے کمیشن‘ کا طعنہ دیتے ہوئے 1956ء کے انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت سماعت سے انکار کردیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ایکٹ ابھی بھی ’دند بوڑا‘ ہے اور چھ ماہ میں حکومت اور اپوزیشن اس کے لئے ایسے دانتوں کا انتخاب نہیں کر سکے جو مُنہ بھرکر وزیراعظم کو کاٹ سکیں اور سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز پر تحریک انصاف کی درخواست پر وزیراعظم کو نوٹس کردیا ہے۔ کیا یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ مئی سے اکتوبر کے درمیانی وقفے میں جو کچھ ہوا ہے یا جو کچھ دو نومبر سے ہونے جا رہا ہے ، اس کا ذمہ دار کون ہے؟سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے خط کو اس لئے مسترد کردیا تھا کہ وہ ایک فعال کمیشن چاہتی تھی اور تحریک انصاف کی درخواست کو سماعت کے لئے اِس لئے قبول کر لیا ہے کہ ایسا کمیشن ابھی تک فعال نہیں ہوا ہے، یہ کیا مذاق ہے؟کیا اب سپریم کورٹ بغیر تحقیق کے شریف فیملی کو محض اخباری اور ٹی وی چینلوں پر بیانات پر ہی مجرم ٹھہرادے گی؟کیا سپریم کورٹ یہ مقدمہ پبلک پریشر کے تحت سننے جا رہی ہے؟

اب جبکہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو یا تو سپریم کورٹ ازخود اپنے ٹی او آر طے کرسکتی ہے یا پھر حکومت کو ایک مقررہ وقت میں ٹی او آر کو قانونی شکل دے کر دینے کا کہہ سکتی ہے،کچھ بھی ہو بہرحال یہ نہیں ہو سکتا کہ سپریم کورٹ ازخود انویسٹی گیشن ایجنسی کا روپ دھار لے اور پانامہ آئی لینڈ کی خاک چھاننے نکل پڑے، جہاں تک تحریک انصاف کے حامی حلقوں کا تعلق ہے تو ان کے مطابق اِس ضمن میں کسی تفتیش کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ شریف فیملی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر اعترافی بیان دے چکی ہے، جس کی بنیاد پر انہیں مجرم ڈکلیئر کرکے سزادی جا سکتی ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ ایسا موقف دیتے ہوئے ہمارے احباب اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ رجسٹرار سپریم کورٹ ایسی یاوہ گوئی کو Frivilous کہہ کر مسترد کر چکے ہیں۔ بعض وکلاء کاکہنا ہے کہ پہلے اور اب میں فرق یہ ہے کہ سپریم نے پہلے 1956کے انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت سننے سے انکار کیا تھا اور اب آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت سماعت کرے گی ، سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ 184(3)کے تحت بھی کسی مقدمے میں تفتیشی ایجنسی کا کردار ادا کرسکتی ہے ؟۔۔۔بالکل نہیں، کیونکہ سپریم کورٹ کے پاس نظرثانی کااختیار ہے خواہ کوئی معاملہ اپیل میں اس کے پاس جائے یا پھر آرٹیکل 184(3)کے تحت جائے، اسے بہرحال معاملے کی تفتیش و تحقیق کے لئے کسی انوسٹی گیشن ایجنسی کو انوالو کرنا ہو گا،سپریم کورٹ معاملے کو اس طرح آگے نہیں بڑھا سکتی جس طرح ہمارے پی ٹی آئی کے دوست سمجھ رہے ہیں اور یہ تک کہنے سے نہیں ہچکچاتے کہ عدلیہ میں بھی کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں۔مشکل یہ ہے کہ جب سپریم کورٹ اپنی آئینی حدودوقیود کا تذکرہ کرتی ہے تو پی ٹی آئی والے اس کو بھی کوسنا شروع کردیتے ہیں اور عمران خان تو جھٹ سے عدلیہ کے کردار کو شرمناک قرار دے دیتے ہیں۔

سیاسی مقدمات کی اپنی چال ہوتی ہے اور اس میں شک نہیں کہ ایسے مقدمات میں فریقین عدلیہ پر اثرانداز ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ہماری عدالتی تاریخ بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ عدلیہ کے معزز جج صاحبان نے پریشر کو قبول کرتے ہوئے ایسے فیصلے بھی صادر کئے ہیں، جن کو آج بعض حلقے جوڈیشل مرڈر سے تعبیر کرتے ہیں اور خود سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان اس کا اعتراف کر چکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سپریم کورٹ یا سول کورٹ کا مقصد اگر انصاف کی فراہمی ہو گا تو 1956ء کے انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت بھی وہی کچھ کیا جا سکتا ہے جو سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت کرنے جا رہی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ جب بھی عوامی پریشر پر فیصلہ دیتی ہے، تو وہ فیصلہ کتنا ہی صحیح اور قانونی کیوں نہ ہو، اسے قبولیت کی سند نہیں مل پاتی جس طرح 90ء کی دہائی میں جب سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت کو بحال کیا تو پیپلز پارٹی نے طعنہ دیا تھا کہ پنجاب کے وزیراعظم کو انصاف اور طرح کا ملتا ہے اور سندھ کے وزیراعظم کو اور طرح کا ، پیپلز پار ٹی آج تک تواتر کے ساتھ اعلیٰ عدلیہ پر اس بنا پر عدم اعتماد کااظہار کرتی آرہی ہے۔ چنانچہ اعلیٰ عدلیہ کو ایسے قضیوں میں نہیں پڑنا چاہئے، جن سے اس کی توقیر میں کمی ہو۔

سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے دوران سماعت مقدمہ ریمارکس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے ،ہم نے دیکھا ہے کہ حال ہی میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کو وضاحت دینا پڑی ہے کہ انہوں نے وہ بات اپنے ریمارکس میں نہیں کہی تھی، جو میڈیا میں ان سے منسوب کی گئی۔ اس کے باوجود کہ انہوں نے تردید کی ہے ، عوام کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی ان کے اس بیان کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کے لئے اب یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک ایک شخص کے پاس جاکر وضاحت کریں کہ انہوں نے وہ کچھ نہیں کہا تھا، جو کچھ میڈیا نے ان سے منسوب کردیا۔ یقینی طور پر چیف جسٹس کو اندازہ ہونا چاہئے کہ پانامہ پیپرز پر ان کی جانب سے دئیے جانے والے ریمارکس سے بھی مزید یہی حشر ہو سکتا ہے، جو اورنج لائن ٹرین کے مقدمے کی سماعت کے دوران ہوا ہے، خاص طور پر جب پی ٹی آئی مقدمے کی سماعت کے ساتھ ہی اسلام آباد بند کرنے کے درپے ہوگی، تو سپریم کورٹ سے آنے والی ہر آواز کو مرضی کا مطلب پہنایا جا ئے گا۔ پہلے ہی جونہی سپریم کورٹ آفس نے مقدمے کی سماعت کے لئے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی تو پی ٹی آئی کے حلقوں نے اس کی وہ وہ توجیہہ نکالی ہے کہ بڑے بڑے ماہر قانون کو سمجھاتے سمجھاتے منہ میں چھالے نکل آئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامی حلقوں کا خیال ہے کہ دو ہفتوں بعد تاریخ کے تعین کی بجائے دو ہفتوں کے اندر تاریخ کا رکھا جانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سپریم کورٹ بھی حکومت کو اِسی طرح grill کرنے کو تیار ہے جس طرح عمران خان کر رہے ہیں۔ قانون کی شدھ بدھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ کسی مقدمے کی تاریخ نکالنے میں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا،لیکن چند عوامی حلقے اس ایک عمل سے غلط مطلب نکال کر اپنارانجھا راضی کئے ہوئے ہیں۔یادشِ بخیر جب علامہ طاہرالقادری نے اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف دھرنا دیا تھا تو سپریم کورٹ کے ایسے ہی ریمارکس پر انہوں نے بھی ڈھول پیٹنا شروع کردیا تھاکہ مبارک ہو، مبارک ہو، آدھا فیصلہ آگیا، آدھا کل آجائے گا اور اگلے دن چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری نے ایک سنیئر وکیل سے پوچھا تھا کہ کیا عدالتیں اپنا کام بند کردیں، کیونکہ باہر لوگ اس کی باتوں کی غلط تعبیر کر رہے ہیں تو ان سنیئر وکیل نے کہا تھاکہ عدالتوں کو اپنا کام کرتے رہنا چاہئے ، اس سے قطع نظر کہ لوگ اس کا کیا مطلب نکالتے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے اور اس امر کی دلیل ہے کہ موجودہ سپریم کورٹ بھی اس سے قطع نظر کہ عوام میں اس کے ریمارکس یا جزوقتی فیصلوں کا کیا تاثر جاتا ہے، اپنا کام جاری رکھنا چاہئے، بجا، درست ، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ سسٹم کے سٹیک ہولڈرز میں بعض ایسی قوتیں بھی شامل ہیں، جن کا سیاسی کردار آئین کو ایک آنکھ نہیں بھاتا، لیکن اس کے باوجود یہ مقتدر قوتیں حالات کا فائدہ اٹھا کر ایکٹو ہو جاتی ہیں اور ایسی آوازوں کا اہتمام کرلیتی ہیں،جو سپریم کورٹ کے ریمارکس کی غلط تشریحات کرواکر اپنا الو سیدھا کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔

ہم انہی کالموں میں متعدد بار عرض کر چکے ہیں کہ حکومت کو کبھی سوٹ نہیں کرے گا کہ وہ پانامہ لیکس کی کالک مُنہ پر مل کر اگلے عام انتخابات میں اترے اور، جیسے بھی ہو اس کی اولین کوشش ہوگی کہ اِس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ سے ویسی ہی کلین چٹ لے جیسی 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے لے چکی ہے تاکہ اپوزیشن کو پراپیگنڈے کا موقع نہ مل سکے۔ چنانچہ جو حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف پانامہ پیپرز کے معاملے پر عدالتی کارروائی سے گریز کریں گے ان کا مُنہ بند کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے سپریم کورٹ کے اختیار سماعت کو چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے برعکس عدالتی حکم پر پی ٹی آئی کی درخواست کا جواب جمع کروانے کے لئے تیار ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پانامہ پیپرز پر عدالتی کارروائی کا آغاز خود مسلم لیگ(ن) کے لئے بھی بہتر ہے، کیونکہ اگر واقعی کہیں کوتاہی ہوئی ہے، جس کی تحقیق اور تفتیش ہو تو اس میں ہرج نہیں ہونا چاہئے،کیونکہ مسلم لیگ(ن) کے حامی عوامی حلقے اِس لئے نواز شریف کی حمائت نہیں کر سکتے کہ وہ ان سے مینڈیٹ لے کر امانت میں خیانت کے مرتکب ہوتے رہیں۔ اگر کہیں کچھ غلط ہوا ہے تو سامنے آنا چاہئے ، اس سے مسلم لیگ(ن) کی بطور سیاسی جماعت کے طبعی عمر میں کمی نہیں اضافہ ہو گا اور مُلک میں انصاف کا بول بالا ہو گا۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم نواز شریف کے ہاتھ میں ہے تو ہر جرنیل ان کی خوشنودی کا طالب ہو گا تاکہ ان کی نگہہ انتخاب ان پر پڑے ، چنانچہ اس عالم میں اگر کوئی کسی فوجی جرنیل سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ مارشل لاء کی حمائت کرے گا تو ایسا شخص احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ، یقینی طور پر جنرل راحیل شریف ان جرنیلوں کی فہرست میں نہیں ہو سکتے، جو وزیراعظم نواز شریف کی خوشنودی کے طالب ہوں، کیونکہ وہ مدت ملازمت میں توسیع کے طالب نہیں ہیں اور فوج کے سیاسی کردار کے حامی نہیں ہیں ۔ ہم نے گزشتہ کالم میں گزارش کی تھی کہ جنرل مشرف کو جنرل ضیاء کی لابی کا سامنا تھا اور جنرل راحیل شریف کو جنرل مشرف کی لابی کا سامنا ہے ،چنانچہ اگر فوج میں کچھ ایسے عناصر ہو سکتے ہیں،جو سیاسی ابتری کا مارشل لائی فائدہ اٹھانے کا سوچ رہے ہوں تو ایسے لوگ تو پہلے ہی وزیراعظم کی نگاہ میں معتوب ہوں گے ، اِس لئے ان کے عزائم اور ان کا پراپیگنڈہ سع�ئ لاحاصل ثابت ہو گا، کیونکہ باقی کے آرمی چیف کے عہدے کے طلبگار جرنیل اس وقت تیل اور تیل کی دھار دیکھنے کو ترجیح دیں گے۔ وہ کسی صورت بھی پہلی صف میں کھڑے ہو کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کو تیار نہیں ہوں گے ، خاص طور پر جب چین ، امریکہ اور باقی کی دُنیا کو پاکستان میں فوجی رُول قبول نہیں ہے ۔ہاں البتہ ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کی ایک کھیپ ایسی ضرور ہے،جو تحریک انصاف کو مفت مشوروں اور اپنے قابو میں رہنے والی این جی اوز اور دیگر پریشر گروپوں کو عمران خان کی معیت میں اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی ترغیب دے رہی ہے۔اِسی طرح بعض حلقوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم پر سارا دباؤ اپنی مرضی کا جرنیل بطور آرمی چیف تعینات کروانا ہے تاکہ وزیراعظم اپنی مرضی کرنے سے باز رہیں۔ اس اعتبار سے وزیراعظم نواز شریف کو دو طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے ، ایک طرف انہیں پانامہ پیپرز میں اپنے خلاف ہونے والے جھوٹے پراپیگنڈے کو غلط ثابت کرنا ہے، تو دوسری جانب ایک ایسے آرمی چیف کا انتخاب کرنا ہے جو مُلک میں جمہوریت کے تسلسل کا حامی ہو، دیکھنا یہ ہے کہ آیا وزیراعظم سپریم کورٹ میں پانامہ کے شور کے درمیان اپنی آواز سنانے کی اہلیت رکھتے ہیں؟

مزید : کالم