رپورٹر کی حدود

رپورٹر کی حدود
 رپورٹر کی حدود

  


مائک پکڑنا یا قلم ہاتھ میں رکھنا ہی تو سب کچھ نہیں ہوتا۔ کیمرہ چلانا ہی تو کام نہیں ہے۔ رپورٹر کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے؟ کیا ہر کام پروگرام کی ریٹنگ کے لئے کیا جائے، مناسب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ضروری بنیادی تعلیم کی کمی بھی ہوتی ہے جو کام ، نام کو دھبہ لگاتی ہے۔ رپورٹروں کی اکثریت انگریزی زبان سے نا بلد ہے۔ درست اردو یا سندھی زبان بھی نہیں آتی ہے۔ اکثر معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ رپورٹر اپنے آپ کو اشرف المخلوقات میں بھی اشرف تصور کرتے ہیں۔ اتنا کچھ لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ ایک خاتون رپورٹر نے جو کچھ کیا اور جواب میں جو کچھ ان کے ساتھ ہوا، وہ افسوس ناک ہی نہیں بلکہ صحافیوں کو فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ کانسٹیبل اگر براہ راست صائمہ کو اپنی بندوق سے مار دیتا تو کیا ہوتا ؟ اس نے تو صرف تھپڑ ہی رسید کیا۔ اس کے ساتھ اٹکنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ سوشل میڈیا پر بعض لوگ رونا رو رہے ہیں کہ خاتون پر ہاتھ نہیں اٹھا نا چاہئے۔ کسی حد تک قابل توجہ بات ہے لیکن جب کانسٹیبل وہاں سے جا رہا تھا تو خاتون اسے روکنے کی کوشش کیوں کر رہی تھیں ؟ خاتون کے گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ کانسٹیبل کو بھی غصہ آ سکتا تھا اور وہ اگر بندوق چلا دیتا تو کیا ہوتا ؟ خاتون جس ادارے کے بارے میں رپورٹ تیار کرنے گئی تھیں انہیں اسی ادارے کے افسران سے گفتگو کرنا چاہئے تھی۔ اگر کانسٹبل انہیں روک رہا تھا تو انہیں دفتر کے کسی ذمہ دار تک پہنچنے کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔ وہ اگر کیمرا مین کو روک رہا تھا تو یہ اس کی ڈیوٹی کا حصہ ہے۔ ایک اور چینل کے پروگرام میں ایک خاتون رپورٹر مٹھائی فروش کے گلے پڑ گئیں کہ وہ جواب دیں۔ جب وہ ایک بار کہہ چکے کہ انہیں رپورٹر سے گفتگو نہیں کرنا ہے اس کے بعد مائک کو ان کے منہ پر بار بار لے جانا کیا معنی رکھتا ہے؟ تھپڑ کھانے والی رپورٹر بھی کم و بیش ایسا ہی کر رہی تھیں۔

رپورٹر کورپورٹنگ کے آداب کے علاوہ با اخلاق ہونا چاہئے اور انہیں اپنی حدود سے پوری طرح آگاہ بھی ہونا چاہئے۔ چھوٹے درجوں کے ملازمین کے ساتھ گفتگو میں تو اور تم کے الفاظ کی بجائے آپ کا لفظ استعمال کیا جا نا چاہئے کیوں کہ افسران کے ساتھ گفتگو کے دوران ہم ’’ آپ ‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا عام رویہ ہو گیا ہے کہ وہ غریب لوگوں یا معمولی حیثیت کے لوگوں کے لئے بہتر القاب استعمال نہیں کرتے۔ ٹھیلے والا کسی حادثہ کا شکار ہوجائے تو لکھا جاتا ہے کہ وہ مر گیا۔ اسی حادثہ میں کوئی کار والا یا افسر یا سیاست داں ملوث ہو تو لکھا جائے گا کہ انہیں پولس نے حراست میں لے لیا۔ ’’ انہیں‘‘ کی بجائے ’’ اس کو ‘‘ کیوں نہیں لکھا جاتا۔ یہ طبقاتی اونچ نیچ ہمارے معاشرے کا حصہ بنا دی گئی ہے۔ رپورٹر کو اپنی زبان پر بھی غور کرنا چاہئے تھا۔ چینل کی رپورٹنگ میں یہ بیماری گھر کر گئی ہے کہ جو منہ میں آئے بول دو۔ بولنے کی رپورٹنگ میں تو ہر ہر لفظ بہت سوچ سمجھ کر بولنا چاہئے۔ یہاں تو لوگ بازاری زبان استعمال کرتے نہیں تھکتے۔ ایسے لوگ بھی بولنے والی رپورٹنگ کی ذمہ داری ادا کررہے ہیں جن کا املا درست نہیں ہے، جنہیں بولنے کی گرامر سے واقفیت بھی نہیں ہے۔ بس مائک تھام لینے سے تو رپورٹر نہیں بن جاتے۔ پاکستانی معاشرے میں موجود قومیتوں کے بارے میں رپورٹر کو علم ہونا چاہئے کہ کس کا مزاج کیسا ہے؟ کن کی اقدار کیا ہیں؟

سوشل میڈیا پر کسی نے لکھا ہے کہ ’’ تھپڑ کھانے والی خاتون صحافی سے تمام تر ہمدردیوں کے باوجود سچ یہ ہے کہ اس رپورٹنگ میں وہ بطور صحافی کہیں نظر نہیں آئیں۔ برا نہ مانیں تو کہوں کہ ہمارے کئی صحافیوں کو بھی تربیت کی ضرورت ہے لیکن جہاں تنخواہیں ہی تاخیر سے ملتی ہوں وہاں تربیت پر کون دھیان دے گا ؟ ‘‘ ۔ ’’ تمہیں شرم نہیں آتی ؟" جیسے عامیانہ جملے اور گفتگو نہ کرنے والے کا بار بار راستہ روک کر اس کے سامنے بدمعاشوں کی طرح کھڑے ہو کر ذاتی حملے صحافیوں کے شایان شان نہیں ہیں۔ کسی کا بازو کھینچ کر اس کو موقف دینے پر مجبور کرنا صحافتی ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے ‘‘ ۔ مزید لکھا گیا ہے کہ ’’ پشاور میں ایک بم دھماکے کے بعد ایک خاتون رپورٹر نے ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر ایک سٹریچر کو زبردستی روک کر زخمی کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ہمارے ایک سینئر صحافی نے خاتون کو تھپڑ رسید کرکے سٹریچر کو ایمرجنسی کی جانب دھکیل دیا تھا۔ اور غصہ سے سرخ چہرے کے ساتھ کہا تھا تمہارے ایک پیکج کے چکر میں یہ شخص مر جاتا تو ذمہ دار کون ہوتا ؟ اسی طرح بم دھماکے میں شہید ہونے والے ایک نوجوان کی ماں نے ہم صحافیوں کو جو تھپڑ رسید کیا تھا اس کا نشان آج بھی محسوس ہوتا ہے۔ ایک رپورٹر نے بیٹے کی میت کے سامنے بین کرتی ماں کے سامنے مائیک کرتے ہوئے کہا : ظالموں نے آپ کا بیٹا چھین لیا آپ کے کیا جذبات ہیں، کیسا محسوس کر رہی ہیں۔ اس ماں نے غصہ سے کہا کاش تمہارا بیٹا اسی طرح مرا ہوتا تو سوال کرتی اب کیسا محسوس کر رہے ہو؟ سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے ایک بچے کی ماں نے بھی ایک رپورٹر کو تھپڑ رسید کیا تھا۔ ان سے رپورٹر نے سوال کیا تھا کہ کیا انہیں اپنے بچے کی شہادت پر فخر ہو گا ؟ ماں کہنے لگی۔ میں نے بچہ میدان جنگ میں نہیں بھیجا تھا۔ اسے ا سکول پڑھنے بھیجا تھا۔ ہمارے غم کا تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے ‘‘ ۔

یہ سب کچھ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس یا صحافیوں کی انجمنوں کے سوچنے کا مقام ہے کہ ان کا کردار کیا ہونا چاہئے۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس تماش گاہ میں پی ایف یو جے کو اپنے جھگڑوں اور جھمیلوں سے فرصت نہیں ہے۔ ان تنظیموں کو ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والوں کی باقا عدہ تربیت کا انتظام کرنا چاہئے۔ بنیادی ذمہ داری تو دفاتر یا اداروں کی ہے لیکن اداروں میں قلیل تنخواہوں پر ملازم رکھنا طول پکڑ گیا ہے۔ وہاں صحافیوں خصوصاً رپورٹروں کے کام کرنے کے طریقوں پر نظر رکھی جائے ۔ اداروں کے مالکان بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی تنظیموں پر بھی بہر حال ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ صحافیوں خصوصاً رپورٹر حضرات کی تربیتی نشستوں کا باقاعدہ اہتمام کریں۔ یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ کئی برس قبل جب چینلوں کا دور نہیں آیا تھا، اخباری مالکان نے طویل حیل و حجت کے بعد پاکستان پریس انسٹی ٹیوٹ قائم کیا تھا ، کراچی یونی ورسٹی کے معروف استاد پرفیسر ذکریا ساجد صاحب کو نگران مقرر کیا گیا تھا لیکن پروفیسر ذکریا کی انتہائی دلچسپی کے باوجود وہ ادارہ پنپ نہیں سکا کیوں کہ مالکان اخبارات نے ادارے کے اخراجات برداشت کرنے میں دل جمعی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا ۔

مزید : کالم


loading...