شائد کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات(1)

شائد کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات(1)
 شائد کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات(1)

  


آج انگریزی زبان کے ایک معاصر میں شائع شدہ ایک خبر میری نظر سے گزری جس کا عنوان درج ذیل تھا: ’’ بحیرۂ روم میں روس کی بڑھتی ہوئی صف بندی، ناٹو کے لئے باعثِ تشویش ہے۔‘‘

میں نے اس خبر کا سیاق و سباق اپنے اردو زبان کے قارئین سے شیئر کرنا چاہا تو ایک ممکنہ رکاوٹ نے راستہ روک لیا۔۔۔ اس رکاوٹ کا تعلق ’’جنگ اور جغرافیہ‘‘ کے موضوع سے تھا!۔۔۔ ویسے تو جنگ و جدال حضرتِ انسان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ غیر بارودی دور تھا یا بارودی عہد، جنگ نے کبھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑا یا یوں کہئے کہ انسان نے خود جنگ سے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔جس گروہ، قبیلے یا قوم نے جنگ سے بچنے کی کوشش کی وہ یا تو نیست و نابود ہو گئی یا کردی گئی۔ تعمیر و تخریب ، آبادی و بربادی اور مرگ و حیات اُسی طرح ایک دوسرے کے آگے پیچھے چلی آ رہی ہیں جس طرح رات کے پیچھے دن ہے اور دن کے پیچھے رات ہے!۔۔۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور میں انہی ممالک و اقوام کا ڈنکا بجتا رہا ہے جو میدانِ جنگ کی فاتح تھیں۔ برصغیر کی مسلم تاریخ کو دیکھیں تو اس میں غزنوی، غوری، بابر، نادر، احمد شاہ اور سلطان ٹیپو کے نام ممتاز نظر آتے ہیں۔۔۔ محمود غزنوی نے لاہور پر پہلا حملہ 998ء میں کیا اور سلطان ٹیپو کی شہادت 1799ء میں ہوئی۔ ان 800برسوں میں درجنوں حکمران اور فرمانروا دہلی کے تخت پر متمکن ہوئے۔ ان میں کئی ایسے بھی تھے جو تخریب کی بجائے تعمیر اور بربادی کی بجائے آبادی کے زبردست مبلغ اور عظیم المرتبت معمار تھے۔ (نام لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ان کے تعمیر کردہ آثار آج بھی برصغیر میں جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں) لیکن نجانے اس کی کیا وجہ ہے کہ جو اہمیت ’’جنگ بازوں‘‘ کو تاریخ نے عطا کی وہ ’’امن پسندوں‘‘ کو نہیں کی۔

ماضی کو چھوڑ کر حال کا نظارہ کر لیجئے۔۔۔۔ آج کون سی پاورز ہیں جو عظیم کہلاتی ہیں؟۔۔۔ یورپ میں سوئٹزرلینڈ،ڈنمارک، سویڈن۔۔۔ جنوبی امریکہ میں سارے ممالک (برازیل، چلی، ونزویلا، ارجنٹائن وغیرہ) ۔۔۔اور افریقہ کے تمام ممالک (صرف چند شمالی اور جنوبی افریقن ممالک کو چھوڑ کر) کسی بھی مورخ کی توجہ کا مرکز نہیں بنے۔ خود اسلام کا عہدِ زریں خلافت راشدہ کا وہی عہدہے جس میں ایران، عراق، شام اور مصر تک کی جنگی فتوحات شامل ہیں۔ اس کے بعد بنو امیہ کے دور کو بھی جو اہمیت حاصل ہوئی وہ جنگ و جدال کے غلبے ہی سے عبارت ہے۔ ذرا غور فرمائیے کہ 19ویں صدی عیسوی میں ترکی کو یورپ کا ’’مردِ بیمار‘‘ کس لئے کہا جاتا تھا؟ اور جب اتاترک نے پہلے گیلی پولی کی لڑائی (1915ئمیں) اور پھر یونان میں قیساریہ کی لڑائی (1922ء میں) دشمنوں کو شکست فاش دی تو وہی مرد بیمار، مردِ توانا بن گیا!۔۔۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوا؟۔۔۔ بیماری سے تندرستی کے سفر میں خونریزی، خوں فشانی اور خوں آشامی کیوں پیش پیش رہی اور امن و آشتی کو کسی غیر جانبدار مبصر اور مورخ نے کیوں زیادہ گھاس نہیں ڈالی؟

براعظم یوریشیا (یورپ اور ایشیا) پر نگاہ ڈالیں اس کے مشرق میں جاپان اور مغرب میں برطانیہ ہیں۔ان کا رقبہ اور ان کا عالمی رتبہ حیران کن حد تک ’’انمل بے جوڑ‘‘ ہے۔ برطانیہ تو صدیوں تلک عالمی سپرپاور بنا رہا جبکہ جاپان کا نام اس وقت تاریخ میں ممتاز ہو کر سامنے آیاجب اس نے 1904-05ء میں روس کو شکست دی اور پھر دوسری جنگ عظیم میں پرل ہاربر کے بعد اتحادیوں کو یکے بعد دیگرے شکستیں دے کر بحرالکاہل کے جنوب اور مغرب میں واقع درجنوں ایشیائی ممالک اور جزیروں پر قبضہ کر لیا۔پھر اسی جنگ میں امریکہ نے جب اُس اکیلے محوری کو اس کے مقبوضات سے بے دخل کرنے کی کوشش کی تو لاکھوں اتحادیوں کو جان کی قربانی دینی پڑی۔ اگر جولائی 1945 میں ایٹم بم ایجاد نہ ہوتا اور اگلے ہی ماہ اگست 1945ء میں اسے جاپان کے خلاف استعمال نہ کیا جاتا تو اس جنگ کا آخری نتیجہ اگرچہ اتحادیوں کی فتح ہی کی صورت میں نکلتا لیکن آدھی امریکی افواج (آرمی، نیوی، ائر فورس) جان سے ہاتھ دھو بیٹھتیں۔ پاک بھارت تاریخ بھی زیرِ نگاہ رکھیں اور جس کیفیت سے آج کا پاکستان گزر رہا ہے، اس پر بھی نظر ڈالیں تو آپ کو اس مقولے پر ایمان لانا پڑے گا کہ ’’حدیثِ امن ،حدیثِ جنگ کے بغیر نہ صرف غریب اور ضعیف ہے بلکہ غلط بھی ہے!‘‘ مسلمانوں کو آنحضورؐ کے دورِ مبارکہ میں بھی فتحِ مکہ تبھی نصیب ہوئی جب بدر، احد، خندق اور درجنوں دوسرے غزوات و سریات کا سامنا کرکے جنگ و جدل کے ’’حضور‘‘ لہو کا خراج پیش نہ کر دیا گیا۔

میں نے بات ایک انگریزی روزنامے کی ایک خبر سے شروع کی تھی اور چاہا تھا کہ قارئین کو اس خبر کی کچھ تفصیل بھی بتاؤں لیکن وہ ایک رکاوٹ جو سد راہ ہوئی اور جس کا ذکر پہلے کر چکا ہوں وہ پاکستان کے اکثر قارئین کی علمِ جغرافیہ سے عدم واقفیت ہے۔ جب تک آپ کو کسی خطے یا دنیا کا جغرافیہ معلوم نہیں ہوگا آپ جدید جنگوں کو سمجھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ مثلاً اسی خبر میں جو زیرِ بحث ہے،آپ کو جب تک بحیرۂ روم کی لوکیشن کا علم نہ ہو، تب تک نہ ناٹو کی ’’تشویش‘‘ آپ کی سمجھ میں آئے گی اور نہ ہی رشین بحری جنگی جہازوں کی نقل و حرکت کی اہمیت کا راز آپ پر آشکار ہوگا۔۔۔ اردو زبان کے ان قارئین کو کہ جن کو علمِ جغرافیہ سے زیادہ رغبت نہیں، انہیں اپنی ’’بے رغبتی‘‘ کا علاج کروانا چاہیے۔ میرے نزدیک اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ کسی بھی سٹیشنری سٹور یا بک شاپ پر چلے جائیے اور دنیا کا ایک نقشہ خرید لایئے۔ ہو سکے تو ایک اٹلس بھی خرید لیجئے۔یہ نقشہ جات اردو بازاروں میں جگہ جگہ دستیاب ہیں اور ہر سائز میں ملتے ہیں۔ میرے خیال میں 2189 x 2189 فٹ کا وہ نقشہ زیادہ مفید رہے گا جس پر تمام مندرجات انگریزی زبان میں لکھے ہوتے ہیں۔ ویسے تو آج کل اردو زبان کے مندرجات والے نقشے بھی عام ہیں۔ لیکن آپ دونوں کاپیاں خرید لیں۔ ان کو گھرلا کر کسی ایسی دیوار پر ٹانک دیں جن پر آتے جاتے آپ کی نظر پڑتی رہے یا ایسی جگہ آویزاں کر دیں جو اٹھتے بیٹھتے آپ کی نگاہ کی رینج میں رہے۔۔۔۔ میں نے ایک مدت اٹلسوں اور نقشوں سے ’’اسی طرح‘‘ محبت کی ہے اور ان نقشوں اور اٹلسوں نے بھی میری محبت کا جواب محبت سے دیا ہے!

ایسا کرنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ دیواروں پر آویزاں ان نقشوں کی ایک کاپی دیوار سے ’’اتر‘‘ کر غیر محسوس طور پر آپ کے ذہن کے ساتھ چمٹ گئی ہے۔۔۔ اور پھر یہ چسپیدگی رفتہ رفتہ اتنی بڑھ جائے گی کہ آپ جب بھی کسی اخبار یا میگزین میں کوئی ایسی خبر دیکھیں یا پڑھیں گے جس میں کسی جغرافیائی فیچر کا ذکر ہوگا تو آپ کا ذہن ، اس فیچروالے نقشے کو آپ کی نگاہوں کے سامنے پھیلا دے گا۔ جغرافیائی نقوش (Features) سے میری مراد براعظموں، سمندروں، ملکوں، شہروں، جزیروں، پہاڑوں، جھیلوں، دریاؤں، میدانوں، جنگلوں، صحراؤں اور برف زاروں وغیرہ سے ہے۔ کچھ مزید وقت گزرے گا تو یہ تمام نقوش آہستہ آہستہ ہمہ وقت ہاتھ باندھ کر آپ کی اردل میں حاضر رہا کریں گے اور آپ جب بھی کوئی ایسی خبر پڑھیں گے جس میں اِن نقوش کا ذکر ہوگا تو یہ اردلی خود آپ کے سامنے سب جغرافیائی تفصیلات کھول کر رکھ دے گا!۔۔۔ اگر کوئی شک ہو تو آج ہی آزما کر دیکھ لیں۔

ایک معمولی سی زحمت آپ کو اور بھی اٹھانا پڑے گی کہ اسمائے اطراف وجوانب بھی رَٹ لیجئے۔۔۔ فائدہ یہ ہوگا کہ شمال، جنوب، مشرق، مغرب کا نام آتے ہی آپ پر اوپر، نیچے، دائیں، بائیں کی اطرافی مماثلت آئنہ ہو جائے گی اور جب ایسا ہو جائے گا تو آپ یہ بھی جان لیں گے کہ شمال سے شروع ہو کر مشرق، جنوب اور مغرب سے ہو کر ایک دائرے کی شکل میں جب آپ دوبارہ شمال پر پہنچیں گے تو گویا آپ کو 360ڈگری کے زاویوں کی سمجھ آناشروع ہو جائے گی۔۔۔۔ تب آپ شمال مشرق اور شمال مغرب جیسے ذیلی اطرافی مرکبات پڑھتے ہی جان جائیں گے کہ یہ مقامات نقشے میں کہاں واقع ہیں۔۔۔ اور اگر ایسا کرنا آپ کو مشکل لگے تو آپ کی کلائی پر جو گھڑی بندھی ہوئی ہے اس کی سویوں (Legs) کو دیکھ لیجئے۔۔۔ بارہ بجے کو شمال، تین بجے کو مشرق، چھ بجے کو جنوب اور نو بجے کو مغرب کہا جاتا ہے۔ یہ بھی یادکر لیجئے کہ شمال کا زاویہ اگر زیرو ڈگری شمار کریں تو 3بجے کا زاویہ 90ڈگری، چھ بجے کا 180ڈگری اور نو بجے کا 270 ڈگری ہوگا۔ اور اگر 270 ڈگری سے آگے بارہ بجے تک چلے جائیں تو وہ زاویہ 360ڈگری کا بن جائے گا۔ یعنی آپ جہاں سے چلے تھے وہیں آ پہنچیں گے۔۔۔اسی لئے شمال کا زاویہ زیرو ڈگری بھی ہے اور 360 ڈگری بھی!

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

میں ان قارئین سے معذرت خواہ ہوں جو انگلش میڈیم اداروں سے فارغ التحصیل ہیں یا جنہوں نے نہ صرف پولیٹیکل جغرافیہ بطور نصابی مضمون پڑھ رکھا ہے بلکہ طبعی (فزیکل) جغرافیہ سے بھی نابلد نہیں۔ یہ تفصیلات جو میں نے اوپر سپردِ قلم کی ہیں یہ ان قارئین کے لئے ہیں جن کو جغرافیے سے زیادہ دلچسپی نہیں یا سکول و کالج کے زمانے میں ان کو ایسے اساتذہ میسر نہیں آئے جو ان کے سینوں میں ’’علم الارض‘‘ میں دلچسپی کی جوت جگا دیتے۔ اس تناظر میں، میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میرے سکول کے اساتذہ نے مجھے تاریخ اور جغرافیہ پڑھاتے ہوئے درسی مضامین کی مشکلات کو ایسی آسان اور دلآویز زبان میں بیان کیا جو میرے ساتھ دوسرے طلبا کے اذہان پر بھی نقش کالحجرہو گئی۔ آج بھی ایسے بہت سے اساتذہ کرام موجود ہوں گے جو بظاہر اس خشک مضمون کی تدریس پر مامور ہوں گے۔ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بات نہیں کرتا،مڈل اور ہائی سکولوں کے اساتذہ کا تذکرہ کررہا ہوں۔۔۔ وہ اگر چاہیں تو اپنے شاگردوں میں علم جغرافیہ کی تحصیل و اخذ کا ایک انمٹ نقش قائم کر سکتے ہیں!۔۔۔ میں نے شروع میں جس خبر کی بات کی تھی اس کی تفصیل تو بیچ ہی میں رہ گئی۔۔۔۔ میں نے وضاحت یہ کرنی تھی کہ ناٹو کو روس کے بحری بیڑے کے بحیرۂ روم میں جانے سے تشویش کا سبب کیا ہے۔۔۔چلیئے اس پر انشاء اللہ اگلے کالم میں بات کریں گے۔(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...