الف ایک ہی ہے

الف ایک ہی ہے
 الف ایک ہی ہے

  


اللہ ، امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ، کہتے ہیں یہ وہ تین الف ہیں جو پاکستان میں تبدیلی لاتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ پہلے کے بعد دوسرے دو الف بھی اپنے مقاصد میں کامیاب رہتے ہوں مگر میں نے انہیں بارہا ناکام ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ پہلے الف بارے کیا کہوں، جب عمران خان اپنا پہلا مشہور زمانہ دھرنا دینے جا رہے تھے تو وزیراعظم محمد نواز شریف عمرے کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب چلے گئے تھے، یہ ایک معمول سے طویل دورہ تھا، یار دوستوں نے گرہ لگائی کہ وہ سعودی حکمرانوں سے مدد مانگنے گئے ہیں، وضاحت یہ تھی کہ عمران خان تو سعودی حکمرانوں کی نہیں مانتے مگر ہماری اسٹیبلشمنٹ ان کی ہدایا ت کو نظر انداز نہیں کر سکتی ۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ عمران خان اس وقت بھی انتخابی نظام کی اصلاح کے اعلیٰ ترین مقصد کے لئے نہیں بلکہ صرف حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بعض اشاروں پر احتجاج کر رہے تھے ۔ اپنے اپنے اعتقاد اور ایمان کی بات ہے ،انہی دنوں میرا کالم شائع ہوا جس کاپہلاپیراگراف ہی یہ تھا کہ اگرمیاں نوازشریف سعودی حکمرانوں سے مدد مانگنے گئے ہیں تو دھرنوں کے نتیجے میں ان کی حکومت برقرار رہنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی لیکن اگر وہ اس دنیا کے حقیقی اور سچے مالک سے مدد مانگنے گئے ہیں، مدد کی یہ درخواست قبول ہوجاتی ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کی حکومت ختم نہیں کر سکتی۔

میں اس تقریب میں موجود تھا جہاں وزیراعلیٰ پنجاب ڈیلر وہیکل رجسٹریشن سسٹم کا افتتاح کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ قانون دانوں کے مطابق حکومت کے پاس آپشن موجو د تھاکہ پانامہ لیکس پر اپوزیشن کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کو چیلنج کر دے کہ ایک مرتبہ پہلے بھی یہ درخواست غیر سنجیدہ قرار دے کر واپس کی جا چکی ہے مگر وزیراعظم نوازشریف نے اپنے اس اختیار کو سرنڈر کر دیا، انہوں نے اس رعایت کو بھی اپنے لئے ختم کر لیا کہ اگر یہ معاملہ کسی ہائی کورٹ یا کسی کمیشن کے پاس ہو تو وہ ان کے پاس اس کی رپورٹ کو چیلنج کرنے کا ایک فورم سپریم کورٹ کی صورت میں موجود ہو،اس سے ان کو دو فائدے ملتے پہلا یہ کہ وہ مخالفت میں آنے والے فیصلے کی تبدیلی کی طرف جا سکتے اور دوسرا یہ کہ حکومت کو مزید وقت مل جاتاجوعام انتخابات کی مدت تک پہنچنے کیلئے بہت قیمتی ہو چکا۔ وزیراعظم نواز شریف موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اعلان یا نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان نہ کرکے ایک خطرناک سیاسی کھیل ، کھیل رہے ہیں جو ان کے غیر معمولی سیاسی اعتماد کو ظاہر کر رہا ہے۔ وہ پریشان یا خوفزدہ ہوتے تواب تک ان دونوں میں سے ایک کام کر نے کے علاوہ معمول کی سرگرمیاں معطل کرچکے ہوتے مگر انہوں نے ابھی تک تین نومبر کو کرغیزستان کے معمول کے غیر اہم دورے تک کو ملتوی نہیں کیا جو یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ اسلام آباد سیل ہونے کے باوجود انہیں کہیں آنے جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ بنیادی طور پر ان کے اعتماد کا سب سے بڑا مظہر اس سپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار ہے جس کے چیف جسٹس آج کل حکومت کے خلاف معمول سے زیادہ آبزرویشنز دے رہے ہیں۔ یوں بھی حکومت کی طرف سے سب سے پہلے ایک کمیشن قائم کرنے کی ہی بات کی گئی تھی ، اب تحریک انصاف کے سربراہ جس عدالتی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں وہ قدم تو آج سے کئی ماہ پہلے بھی باہمی رضامندی سے اٹھا یا جا سکتا تھا، نجانے مجھے یہاں ان کی انتخابی دھاندلی بارے تحریک یاد آ رہی ہے، وزیراعظم نواز شریف نے جس عدالتی کمیشن کی پیش کش دھرنا مارچ شروع ہونے سے پہلے کی تھی، عمران خان اسی عدالتی کمیشن پرایک سو چھبیس دن کی مشقت کے بعد مانے تھے۔

عمران خان ، نواز شریف کی تلاشی لینا چاہتے ہیں، مجھے نہیں علم کہ یہ لفظ خود ان کے ذہن میں آیا ہے یا ان کے کسی سپیچ رائٹر نے تجویزکیا ہے مگر وہ یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے ایک اہم ترین بات بھول گئے کہ تلاشی ہمیشہ قانونی طور بااختیار لوگ ہی لے سکتے ہیں، جب سڑکوں پر بغیر کسی قانونی اختیار کے کوئی تلاشی لینے کے لئے ناکہ لگاتا ہے تو اسے ڈاکو ناکہ کہا جاتا ہے۔

یہ خواہش تو امریکہ کی بھی ہو سکتی ہے کہ وہ چین کی طرف غیر معمولی جھکاؤ کے بعد پاکستان کی سیاسی حکومت کو اسی طرح سبق سکھائے جس طرح وہ ماضی میں پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پارٹنر شپ کرتا رہا ہے مگراس مرتبہ ایک مشکل ہے کہ اگر وہ سیاسی حکومت کو فارغ بھی کر وادیتا ہے تو اس کے بعد بھی وہ سی پیک کا راستہ نہیں روک سکے گا کیونکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر صرف ایک ملک گیر جماعت اپنے تحفظات رکھتی ہے جس کا نام تحریک انصاف ہے اور وہ تحفظات بھی اب مخالفت سے یوٹرن لیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فوائد کے حصول کی طرف اپنا رخ موڑ چکے ہیں۔ سی پیک ایک حقیقت بن چکا ہے اور اب اس حقیقت کی نفی نہیں کی جا سکتی۔ یہ وہ منصوبہ ہے جس پر پاکستان کی سیاسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ہی ایک پیج پر ہیں۔ دوستوں نے کہا، امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ ناکام نہیں ہوتے، میرا کہنا ہے کہ اگر ناکام نہیں ہوتا تو صرف میرا رب نہیں ہوتا ورنہ امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ناکامیوں کی ایک طویل فہرست لگی ہوئی ہے۔ اگر محض تباہی پھیلانا امریکہ کا مقصد ہے تو وہ اس میں کامیاب رہتا ہے لیکن اگر اپنے ایجنڈے کا نفاذ ہے تواس کے عراق، ایران اور افغانستان میں مقاصد تو ایک طرف رہے وہ پاکستان جیسے دوستوں کوبھی اس پر رضامند نہیں کر سکتا کہ وہ ایٹمی طاقت نہ بنیں۔میر ی اسٹیبلشمنٹ اگرناکام نہ ہوتی تو ایوب خان کبھی اقتدار نہ چھوڑتے، مشرقی پاکستان میں ہمیں شکست نہ ہوتی، آئی جے آئی بنانے والے کبھی بے نظیر بھٹو کو وزیراعظم نہ بننے دیتے،نوازشریف کے ساتھ کبھی غلام اسحاق خان رخصت نہ ہوتے، پرویز مشرف کبھی کالی پٹیاں باندھے مسلم لیگ نون کے وزراء سے حلف نہ لیتے، وہ نہ پیپلزپارٹی کو اقتدار دیتے اور نہ ہی ایوان صدر سے رخصت ہوتے۔امریکہ کبھی اتنی آسانی کے ساتھ اسامہ بن لادن کو اٹھا کر نہ لے جاتا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ تو معدودے چند مثالیں ہیں۔ یہ دونوں دوسرے الف بھی بہت طاقت ور ہیں مگر میں جاننے کے حق سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ سب سے طاقت ور ایک ہی الف ہے جو صرف ایک لفظ کُن کہتا ہے تو وہ سب کچھ ہوجاتا ہے جو اس کی مرضی اور منشا ہوتی ہے۔کیا یہ تیسرے الف کی مرضی تھی کہ وہ نواز شریف جسے اقتدار سے الگ کیا گیا، پھانسی پر لٹکانے کی کوشش کی گئی، جلاوطن کیا گیا، وہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کا وزیراعظم بن جائے، چلیں، وزیر اعظم تو بعد میں بنے ، پرویز مشرف کی موجودگی میں ہی اس کا چھوٹا بھائی آدھے سے زیادہ پاکستان کی حکمرانی سنبھال لے۔

معاملات سپریم کورٹ آف پاکستان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جانے کے بعد یقینی طور پرسٹریم لائن ہونے لگے ہیں۔ ایک گمان یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعے اس ڈیزائن کا سویٹر بنا جانے لگا ہے جس ڈیزائن بارے جناب افتخار محمد چودھری کے دور سے ہی باتیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے حق میں اب بھی دلائل دئیے جا سکتے ہیں مگر غیب کا علم تو صرف اسی الف کے پاس ہے جو تمام فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ہمیں کسی کی نیت پر شک کرنے سے گریز کرنا چاہئے، عمران خان کی نیت پر بھی نہیں جو ملک میں کرپشن کے خاتمے اور احتساب کے عمل کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں، کیا خبر ان کی جدوجہد واقعی انہی مقاصد کے لئے ہومگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ انتخابی نظام کی اصلاح کے جس مقدس کام کے لئے انہوں نے ایک سو چھبیس دن دھرنا دیا، قوم کا وقت، توجہ اور وسائل خرچ کروائے، اس کی بھی کبھی بات کرلیتے۔امریکہ اور اسٹیلشمنٹ ، یہ دونوں الف مل بھی جائیں تو پھر بھی ہو گا جوہمارا پہلا اور واحد الف چاہے گا۔’ ’کہہ دو کہ وہ اللہ ایک ہے،اللہ بے نیاز ہے،نہ اس کی کوئی اولاد ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ہے اوراس کے برابر کا کوئی نہیں‘‘۔

مزید : کالم


loading...