محض حکمرانوں کی لفاظی بدحالی کوخوشحالی میں تبدیل نہیں کرسکتی،ناصراقبال

محض حکمرانوں کی لفاظی بدحالی کوخوشحالی میں تبدیل نہیں کرسکتی،ناصراقبال

لاہور(جنرل رپورٹر) ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی صدرمحمدناصراقبال خان ، چیف آرگنائزر میاں محمدسعیدکھوکھر،مرکزی آرگنائزررابعہ رحمن ، سیکرٹری جنرل محمدرضاایڈووکیٹ ،سینئر نائب صدور ندیم اشرف،سلمان پرویز ،میاں زاہد لطیف ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات نسیم الحق زاہدی،صدرمدینہ منورہ سرفرازخان نیازی ،صدرکراچی یونس میمن ،صدرپنجاب محمدیونس ملک،،صدرچنیوٹ راناشہزادٹیپو ،صدرفیصل آبادندیم مصطفی ،صدرٹیکسلا سردارمنیراختر اور صدر قصور میاں اویس علی نے کہا ہے کہ خالی باتوں سے زخم مندمل نہیں ہوتے،عوام کومایوسی کے پاتال سے نکالناہوگا۔ محض حکمرانوں کی لفاظی بدحالی کوخوشحالی میں تبدیل نہیں کرسکتی۔حکمرانوں کے مطابق اگر ملک میں ریکارڈ ترقی ہوئی ہے توپھرعام آدمی کے دامن اورآنگن میں بدحالی کے انگارے کیوں بھرے ہوئے ہیں ۔

حکمران جس تعمیروترقی کامژداسناتے ہیں اس کے ثمرات سے عام آدمی محروم کیوں ہے۔پاکستان میں جمہوریت کے نام پرہردورمیں جمہورکابدترین استحصال کیا گیا ۔پاکستان میں وردی پوش آمریت ہویاشیروانی پوش جمہوریت ،کسی دورحکومت میں عوام کی حالت زارنہیں بدلی ۔

کسی باوردی اوربغیروردی آمر کااحتساب نہیں ہواجبکہ روٹی چوری کرنیوالے کال کوٹھڑیوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کرمرجاتے ہیں جبکہ کچھ بدنصیب قیدیوں کے مرجانے کے بعدان کی رہائی حکم سنایاجاتا ہے۔وہ ایک اجلا س سے خطاب کررہے تھے ۔محمدناصراقبال خان ،میاں محمد سعیدکھوکھراوررابعہ رحمن نے مزید کہا کہ جہاں شہری بنیادی سہولیات سے محرومی کے سبب مررہے ہوں وہاں شاہراہیں بنانے کاجنون ناقابل فہم اورناقابل برداشت ہے۔ جہاں کروڑوں انسانوں کو صحتمند پانی ،روٹی،صحت ،روزگاراوربروقت انصاف نہ ملے وہاں شاہراہوں کی کیااہمیت رہ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی وسائل پرعام پاکستانیوں کاحق ہے مگراس پر حکمران اوران کے حواری پل رہے ہیں۔ملک میں دوردورتک جمہوریت کانام ونشان ہے اورنہ حکمرانوں کے رویے جمہوری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دورمیں نوازشریف کے حامیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا گیا جبکہ آج نوازشریف کے دوراقتدارمیں پی ٹی آئی کیخلاف کریک ڈاؤن کیاجائے گا توپھر آمریت اورجمہوریت میں کیا فرق رہ گیا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...