کشمیریوں کے عوامی احتجاج میں شامل سرکاری ملازمین کے خلاف کا رروائی تیز

کشمیریوں کے عوامی احتجاج میں شامل سرکاری ملازمین کے خلاف کا رروائی تیز

سری نگر(کے پی آئی) کشمیریوں کے عوامی احتجاج میں شامل ہونے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کا ررائی تیز کر دی گئی ہے ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر عبدالقیوم وانی سمیت 7 رہنماوں کو سات دن کی جوڈیشل ریمانڈ پر ایک بار پھر بارہمولہ اور کپوارہ سب جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔وانی سمیت ان رہنماوں کو گزشتہ روز ایکسچینج روڑ پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کے موقعہ پر حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں پولیس سٹیشن کوٹھی باغ میں رات بھر زیر حراست رکھا گیا۔حکومت کی طرف سے ایک درجن کے قریب سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کرنے خلاف ملازمین اتحاد نے احتجاج کا لائحہ عمل مرتب کر نے کیلئے اجلاس طلب کیا تھا جس کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا۔تاہم بعد میں ملازمین اتحاد نے پہلے مرحلے میں حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کرنے کیلئے25اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا اور اس روز تمام سرکاری دفاتر مین بر طرف ملازمین کی بحالی کے حق میں احتجاج کیا جارہا ہے۔اتوار کو پولیس نے گرفتار ایجیک لیڈران کی سات روزہ جوڈیشل ریمانڈ حاصل کی اور انہیں جیلوں میں بند کرنے کا فیصلہ کیا۔صدرعبدالقیوم وانی، اعجاز احمد خان اور سجاد احمد پرے کو کپوارہ سب جیل منتقل کیا گیا جبکہ جنرل سیکریٹری اور ترجمان اعلی فاروق احمد ترالی،فیاض شبنم ،لطیف کرمانی،لطیف احمد ملک کو بارہمولہ سب جیل منتقل کیا گیا۔بارہمولہ منتقل ہونے سے قبل فاروق احمد ترالی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ غکومت کے یہ حربے ملازمین کو مرعوب کرنے کی منصوبہ بندی ہے لیکن ملازمین نے ہمیشہ اپنے جائز حقوق کے لئے قربانیاں دی ہیں اور قربانیاں دیتے رہیں گے۔انکا کہنا تھا کہ جب تک نہ برطرف ملازمین کو دوبارہ بحال کیا جائے گا ملازمین کسی بھی قیمت پر سرنڈر نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو غلط مشورے دئے جارہے ہیں لیکن بہر حال انہیں اپنی غلطی کو سدھارنا پڑے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایجیک کے ان لیڈران کو پہلے بھی 20دن تک بارہمولہ اور کپوارہ سب جیلوں میں بند رکھا گیا تھا۔

مزید : عالمی منظر