قیصر احمد شیخ کا دورہ برطانیہ،اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات

قیصر احمد شیخ کا دورہ برطانیہ،اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات

لندن(نیٹ نیوز) وزیر اعظم کے خصوصی نمائندہ برائے کشمیر و چیئر مین فنانس کمیٹی ایم این اے قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور خطے میں امن و سلامتی، استحکام اور غربت کے خاتمے کی خواہش رکھتا ہے ۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر سمیت پورے خطے میں بھارت ریاستی دہشت گردی کو مسلسل سپانسر کررہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ، تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مختلف ملاقاتوں کے دوران گزشتہ روز خطاب کرتے ہوئے کیا۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اشتعال انگیز اقدامات کے باوجودپاکستان امن چاہتا ہے اور مسئلہ کشمیر کواقوام متحدہ کی قراردادوں کی مطابق حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ پرامن مظاہروں اور جلوسوں کا اہتمام کرنا کسی بھی شہری کا قانونی اور جمہوری حق ہوتا ہے لیکن دنیاکے سب سے بڑے جمہوری ملک کی پولیس ایساکرنے کی پاداش میں کشمیریوں کو جیلوں میں پہنچا دیتی ہے اور شہریوں کے گھروں پر چھاپے ڈال کر مکینوں کو ہراساں اور گھریلوں اشیا کی توڑ پھوڑ کی جاتی ہے۔110دن گزر گئے ہیں مگر مقبوضہ کشمیر میں ابھی تک کرفیو جاری ہے اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوج 111معصوم کشمیریوں کو ہلاک اور بچوں کی آنکھوں کی روشنیوں کو نقصان پہنچا گیا ہے ۔ وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی نے کہا کہ برطانیہ فوری طور پر وادی کشمیر کا دورہ کرنے کیلئے اپنا فیکٹ فائننڈنگ مشن بھیجے اور جمہوری حقوق کا دعوی کرنے والے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر کئے جانے والے ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو خودجا کر دیکھیں۔جموں کشمیر ایک متنازعہ سر زمین ہے جس کو حل کئے بغیرخطے میں مستقل امن و استحکام ممکن نہیں ہوسکتا ۔وزیر اعظم پاکستان کے احکامات پرقیصر احمد شیخ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کرنے کے لئے برطانیہ کے دورے پر ہیں۔سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم بھی انکے ہمراہ ہیں۔مختلف ملاقاتوں کے دوران لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر، پاکستانی برطانوی تاجروں، پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما، کارکن اور برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔

انھوں نے کہاکہ میں ایک مرتبہ پھر اس بات پر زوردوں گا کہ ہم کوئی اعداد وشمار دینے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ مشاورت کا عمل جاری ہے اور پیداواری سطح کا انحصار اوپیک کے حتمی سمجھوتے پر ہوگا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا روس اپنی تیل کی پیداوار کو موجودہ سطح پر منجمد کردے گا یا اس سے بھی کم کرے گا؟ تو اس کے جواب میں مسٹر نوواک نے کہا کہ ''ہم مختلف آپشنز پر غور کررہے ہیں۔میں حتمی فیصلہ نہیں دینا چاہتا لیکن ہم فی الوقت چند ایک آپشنز پر غور کررہے ہیں

مزید : عالمی منظر