پرا پرٹی بحران اور ایجنٹس کا حتجاج ، کوئی توجہ نہیں دے رہا

پرا پرٹی بحران اور ایجنٹس کا حتجاج ، کوئی توجہ نہیں دے رہا
پرا پرٹی بحران اور ایجنٹس کا حتجاج ، کوئی توجہ نہیں دے رہا

  

ملک میں احتجاج کا موسم ہے۔ جیسے خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اسی طرح احتجاج کو دیکھ کر احتجاج رنگ پکڑ رہا ہے۔ مجھے تحریک انصاف کے احتجاج پر کوئی تعجب نہیں۔ تحریک انصاف اور عمران خان اگر احتجاج نہ کریں تو تعجب اور پریشانی کی بات ہے۔ اسی لئے جب کسی نے سابق گورنر چودھری سرور سے پوچھا کہ تحریک انصاف میں شامل ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا ہے تو انہوں نے کہا ہو اتو سال سے زیادہ ہی ہے لیکن آدھے سے زیادہ وقت سڑکوں پر گزر گیا ہے۔

اسی طرح ڈاکٹرز نے بھی احتجاج کو اپنا زندگی کا بنیادی جزو بنا لیا ہے۔ پروفیسرز اور سینئر ڈاکٹرز کو تو پیسے بنانے سے فرصت نہیں اس لئے وہ تو احتجاج وغیر ہ پر کوئی خاص یقین نہیں رکھتے۔ اس لئے وہ کبھی کسی بھی احتجاج کا حصہ نہیں بنتے۔ لیکن ینگ ڈاکٹرز اب صرف احتجاج احتجاج ہی کھیلتے ہیں۔ ایسا کوئی موسم نہیں جب یہ احتجاج نہ کر رہے ہوں۔ ان کے مطالبات نہ پورے ہوئے ہیں اور نہ پورے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وکلا کی ہڑتال بھی روز مرہ کا معمول ہے۔چھوٹے وکلا جن کی آمدن کم ہوتی ہے وہ ہڑتال کا مزہ لیتے رہتے ہیں جبکہ جن کی پریکٹس اچھی ہے وہ اعلیٰ عدالتوں میں کام کرتے رہتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی خبر نہیں رہی ہے۔ اسمبلیوں میں بائیکاٹ بھی اب خبر نہیں رہا۔ بلکہ احتجاج کی اس سیاست کا ایک بنیادی اصول یہی ہے کہ جو طبقہ اچھا پیسہ بنا رہا ہے۔ وہ کسی بھی قسم کے احتجاج پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اسکی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح کام چلتا رہے۔ یہ تاجر بھی کسی احتجاج میں تب تک شامل نہیں ہوتے جب تک ان کے اپنے پیٹ پر حملہ نہ ہو۔ اگر تاجروں پر کوئی ٹیکس لگ جائے تو یہ فوری ہڑتال پر آجاتے ہیں۔ لیکن اگر حکومت تاجروں سے ٹیکس کے معاملے میں چھیڑ چھاڑ نہ کرے تب یہ کسی بھی احتجاج میں شامل نہیں ہوتے۔ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پھر بھی تاجروں کی ہڑتالوں کی مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن ایک طبقہ جو آجکل احتجاج کر رہا ہے ۔ اس کے احتجاج اور ہڑتال کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔

رئیل سٹیٹ ایجنٹس یعنی پراپرٹی ڈیلرز کا یہ طبقہ کبھی بھی کسی سیاسی تحریک کا حصہ نہیں رہا۔ یہ تو مکمل غیر سیاسی لوگ ہیں جو ہروقت پیسہ بنانے میں یقین رکھتے ہیں۔پاکستان میں پراپرٹی کا شعبہ بھی ایسا ہے جس میں بحران کا نام ونشان نہیں۔یہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں پراپرٹی کی قیمت ہمیشہ اوپر ہی جاتی ہے۔ نیچے آنے کا تو رواج کم ہی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ پراپرٹی کے شعبہ میں بے پناہ فراڈ ہوئے ہیں لیکن ان بڑے بڑے فراڈ اور سکینڈلز نے بھی اس شعبہ کو کسی بڑ ے بحران کا شکار نہیں کیا ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کسی نہ کسی طرح گاڑی چلتی رہی ہے۔

لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں لوگ اس شعبہ کو اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اس لئے حکومت نے اس ضمن میں ٹیکس ریفارمز کا اعلان کیا ہے۔ جس پر رئیل سٹیٹ کا شعبہ اس وقت شدید احتجاج کر رہا ہے۔ لاہور کے ایجنٹس نے بھی ریلی نکالی ہے جس کی بھی پہلے کوئی مثال نہیں ہے۔ اس ضمن میں صورتحال کو سمجھنے کے لئے اسلام آباد ڈی ایچ اے کے رئیل سٹیٹ ایجنٹس کے جنرل سیکرٹری احسن ملک سے بات ہوئی۔احسن ملک کا کہنا ہے کہ حکو مت کے ایسے غیر منصفا نہ اقدا مات سے کرپشن اور اقرباء پر وری کو فروغ ملے گا۔ اس وقت پراپرٹی کی خرید و فروخت میں جمود کی کیفیت طاری ہوئی ہے جس سے نہ صرف ملک کی معیشت کو نقصا ن ہو رہا ہے بلکہ قیمتی زرِمبادلہ کا بیرون ملک بالخصوص دبئی انخلاء ہو رہا ہے ۔پراپرٹی ٹیکس میں غیر منصفا نہ اضا فے سے ملک میں ہونے والی اربوں روپے کی سرما یہ کا ری بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے جس سے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگو ں کے بے روز گار ہونے کا خطرہ لا حق ہے۔ اگر حکومت نے اس غیر منصفا نہ نظا م کو فوری معطل نہ کیا تو کئی پراپرٹی ڈیلرز خود کشی پر مجبور ہو جائینگے۔

احسن ملک خود مانتے ہیں کہ ہم کوئی سیاسی جماعت نہیں نہ کو ئی سیا سی عزائم ہیں لیکن ہمیں احتجا ج کر نے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے صرف دو مطالبات ہیں کہ یکم جولائی سے نا فذ کر دہ پراپرٹی نظام کو فوری معطل کیا جا ئے اور پر اپرٹی ڈیلرز سے مشا ورت کیے بغیر کو ئی نظام نافذ نہ کیا جا ئے ۔ہم ٹیکس کے خلاف نہیں لیکن ٹیکس کا نظام منصفا نہ اور شفا ف ہونا چاہیئے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ اگر گورنمنٹ ان سے فوری مذاکرت نہیں شروع کر تی تو 27 اکتوبر کو جڑوا ں شہروں کے تمام پراپرٹی ڈیلرز شٹر ڈاؤن ہڑتال کر ینگے اور یوم سیاہ منا یا جا ئے گا۔روات ٹی چوک سے اسلام آباد پریس کلب تک پر امن ریلی بھی نکا لی جا ئے گی ۔

میری رائے میں حکومت نے پہلے بھی رئیل سٹیٹ ایجنٹس کے ساتھ مذاکرات کئے تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں معاملات نہیں چل سکے ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ ہم رئیل سٹیٹ کے شعبہ کو بحران کا شکار نہیں کرنا چاہتے لیکن اس کے ساتھ ٹیکس ریفارمز بھی کرنا لازمی ہیں۔ ایسے میں حکومت اور رئیل سٹیٹ ایجنٹس کے درمیان ایک بڑے اور وسیع ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ لیکن شاید محترم اسحاق ڈار بھی مصروف ہیں۔ ایک طرف اسلام آباد پر چڑھائی کا موسم ہے۔ اور دوسری طرف یہ رئیل سٹیٹ ایجنٹس کا شور ہے۔ ایسے میں کون ان رئیل سٹیٹ ایجنٹس کے لئے وقت نکالے۔ حکومت کو یہ بے وقت کی راگنی لگ رہی ہے اور شاید رئیل سٹیٹ ایجنٹس سمجھ رہے ہیں کہ یہی بہترین وقت ہے حکومت دباؤ میں ہے اس لئے دباؤ ڈالنا چاہئے۔

مزید : کالم