سرینگر ،بھارتی فوجیوں نے گھروں سے زیورات اور نقدی لوٹ لی ،گاڑیوں کی توڑ پھوڑ

سرینگر ،بھارتی فوجیوں نے گھروں سے زیورات اور نقدی لوٹ لی ،گاڑیوں کی توڑ پھوڑ

سرینگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر میں 108روزبھی پرتشدد احتجاج جاری رہا، قابض فورسز کے ساتھ تصادم میں مزید20افرادزخمی،15گرفتار،وادی کے مختلف علاقوں میں قابض فورسز کا شبانہ کریک ڈاؤن سوئے لوگوں کو اٹھا کر تلاشی،خواتین اور بچوں پر تشدد، گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ،کشمیری عوام کا بھارتی مظالم اور حریت قائدین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج،فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ،ایک ٹرک نذر آتش،بھارتی فوجیوں نے غصہ نجی گاڑیوں کو توڑ کر نکالا،6دکانوں کو بھی آگ لگا دی ،بھارتی فوجی ظالم ہی نہیں چور بھی نکلے، پلہالن، بڈگام ، شوپیاں اور سرینگر میں چھاپوں کے دوران شہریوں کے طلائی زیورات اور نقدی بھی لے اڑے،حریت کانفرنس کی مذمت۔تفصیلات کے مطابق مقبوضۃ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جاری ہونے والی احتجاج کی لہر108ویں روز میں داخل ہو گئی ہے ۔اس دوران سرینگر کے سیول لائنز علاقوں بشمول صنعت نگر ، جواہر نگر ، راجباغ ، کرنگر ، بٹہ مالو اڈہ ، لالچوک ، ڈلگیٹ سمیت کئی دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی آمد و رفت اتوار کو بھی جاری رہی جبکہ سنڈے مارکیٹ بھی سج گیا ۔ٹی آر سی کراسنگ سے لے کر لالچوک تک سینکڑوں چھاپڑی فروشوں نے سنڈے مارکیٹ میں مختلف اشیا کو سجایا اور اس دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد خرید و فروخت میں نظر آرہی تھی ۔ شہر کی سڑکوں پر سینکڑوں ریڈی والوں کو بھی دیکھا گیا جو سبزی اور پھل فروخت کر رہے تھے جبکہ سیول لائنز علاقوں میں نجی گاڑیوں کے علاوہ آٹو رکشا بھی سڑکوں پر دوڑتے ہوئے نظر آئے ۔ ادھر پائین شہر میں ہڑتال کا اچھا خاصا اثر نظر آیا اور اکا دکا پرائیویٹ گاڑی کی سڑکوں پر نقل و حمل کرتی ہوئی نظر آرہی تھی جبکہ دکان مکمل طور پر بند تھے اور چھاپڑی فروشوں کا بھی کئی نام و نشان نہیں تھا ۔ شہر خاص کے متعدد علاقوں سے اگرچہ کرفیو اور بندشوں کا سلسلہ ہٹایا گیا تھا تاہم گلی کوچوں اور سڑکوں کے علاوہ حساس جگہوں پر اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور وہ متحرک تھے ۔ شہر کے کئی حساس علاقوں میں فورسز اور پولیس کی بکتر بند گاڑیاں بھی گشت کرتی ہوئی نظر آئی ۔سرینگر کے اولڈ برزلہ علاقے میں شبانہ توڑ پھوڑ اور گرفتاریوں کے خلاف لوگوں نے مقامی عیدگاہ میں جمع ہوکر زبردست نعرہ بازی کی اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شبانہ کریک ڈاؤن کے بعد لوگوں نے مساجد میں تحریکی نغمے اور ترانے بجائے جس کے بعد لوگوں کو گھروں سے باہر آنے اور احتجاج کرنے سے متعلق اعلان کیا گیا ۔

مزید : علاقائی