سی پی این ای کے زیر اہتمام ،قومی یکجہتی کا نفرنس جمہوری ڈھانچے کو غیر مستحکم کرنیکی کوشش روکنے پر اتفاق

سی پی این ای کے زیر اہتمام ،قومی یکجہتی کا نفرنس جمہوری ڈھانچے کو غیر مستحکم ...

اسلام آباد(تجزیہ نگار خصوصی)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کمیشن احسن اقبال نے کہا ہے کہ طاقت کے ذریعے نظام کو ہائی جیک کرنے کی اجازت نہیں دینگے ، گزشتہ روز سی پی این ای کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تمام شریک سیاستدانوں نے سی پی این کی قراردا د ملک کے جمہوری ڈھانچے کو غیرمستحکم کرنے کی ،آئینی نظام کے بریک ڈاؤن کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے سمیت دیگر قراردادوں پر اتفاق کیا ہے، احسن اقبال نے کہا کہ طاقت کے ذریعے اپنا ایجنڈا مسلط کرنا فسطائیت ہے ،اگر آج عمران خان چند ہزار لوگوں کو جمع کرکے غیر جمہوری طریقے سے اپنا ایجنڈا مسلط کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو آئندہ کوئی بھی حکومت چھ مہینے سے زیادہ نہیں چل سکے گی ، وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کہ وہ اپنا اور خاندان کا عدالت میں دفاع کرینگے، پانامہ لیکس پر عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے ، کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی ترقی اور انسانی حقوق کی پاسداری امن کی ضمانت ہے ، تبدیلی کیلئے ائندہ عام انتخابات کا انتظار کیاجائے، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ ملک کے مسائل قیادت کے بحران کی وجہ سے ہیں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کی بجائے صحیح اور غلط کی سیاست کی جائے، پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شہری رحمن نے کہا کہ جمہوریت وفاق اور اکائیوں میں شراکت داری سے مضبوط ہوگی ، حکومت نے آج تک اقصادی رابطہ کمیٹی اور نیشنل فنانس کمیشن کے اجلاس تک نہیں بلائے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے فاروق ستار نے کہ آج ملک کو جس قدر یکجہتی کی ضرورت ہے شائد تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھی، روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان میں حکومتیں ووٹ کی طاقت سے بننی اور رخصت ہونی چاہیے،دستور پاکستان کی حفاظت سی پی این ای کے منشور کا حصہ ہے جبکہ سی پی این ای کے جنرل سیکرٹری اعجاز الحق نے کہا کہ کانفرنس کا انعقاد سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کیلئے کیا گیا ہے ، احسن اقبال نے کہا کہ مظاہرہ کرنا ہر شخص کا حق ہے لیکن ریاست کو جام کرنے کی دھمکی کا کسی کو حق نہیں ریاست کو طاقت کے ذریعے غیر فعال کرنے کی دھمکی فاشزم ہے ، انہوں نے کہا کہ آف شور کمپنی رکھنا جرم نہیں اگر یہ جرم ہے تو پھر عمران خان اور ان کے ساتھی بھی مجرم ہیں آف شور کمپنیوں میں بڑی رقم کہاں سے آئی اصل معاملہ یہی ہے ، دنیا کا ہردولتمند شخص آف شور کمپنی رکھتا ہے ،احسن اقبال نے کہا کہ پانامہ لیکس کا معاملہ عدالت میں ہے عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے طاقت سے فیصلے مسلط نہ کرے ،انہوں نے کہا 2018ء تک دس ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ سٹیشن شامل ہوجائیگی ، عمران خان کو خوف ہے کہ اگر حکومت اپنی ٹرم مکمل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ کبھی بھی اقتدار میں نہیں آسکتا اس لئے وہ دیگر دروازے تلاش کررہے ہیں ، بینکاک میں پیلی قمیضوں کو والوں کو پتہ تھا کہ ان کے احتجاج سے انہیں اقتدار نہیں لے گا لیکن وہ مارشل لاء لگا کر چلے گئے احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے اقتصادی ترقی اور سیاسی استحکام کا موقع ملا ہے اگر اس موقع پر ضائع کیا گیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی ، ایک طرف کشمیر میں عوامی تحریک اٹھی ہے جو پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے اور ددوسری طرف دہشت گردوں کو ایک حصار میں بند کردیا گیا ہے ان حالات میں دالخلافہ بند کرنے کی دھمکیوں سے منفی پیغام جائیگا ، ملک کی سیکورتی معیشت سے جڑی وہئی ہے اور معیشت کی ترقی سیاسی استحکام اور پالیسیوں کی تسلسل سے جڑی ہوئی ہے،ڈگڈگیاں بجانے اور کھیل کھیلنے سے قیامت تک ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے ،مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قومی یکجہتی کی ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہاہے ، طاقت کے ذریعے فیصلے مسلط کیئے جارہے ہیں ایک شخص کشمیر پر یکجہتی کیلئے منعقدہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں نہیں آیا انہوں نے قومی یکجہتی کو سبوتاژ کیا ،سی پی این ای کے صدر ضیاء شاہد نے کہا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں سیاستدانوں سے ایک سوال پوچھتا ہوں کہ اگر ایک پندرہ ہزار کا ملازم دس ہزار بجلی کا بل کیسے ادا کرے اور ایک کمرے کے سکول میں ایک استاد کیسے پانچ کلاسوں کو تعلیم دے سکتا ہے۔آپ پانچ سال کی بجائے پچاس سال حکومت کریں جو چاہے کریں لیکن قائد کے خواب کے مطابق مظلو م کو انصاف فراہم کریں اور غریب کو روٹی دیں ۔ آپ کس کیلئے سیاست کررہے ہیں اور آپ نے عوام کو کیا سہولت دی ہے۔انہوں نے کہا ہم نے اس ملک میں جمہوریت سے تنگ لوگ بھی دیکھے اور سیاسی جماعتوں کا سہار ا لیتے ڈکٹیٹر بھی دیکھے اور مسلم لیگ سے تو ہر ڈکٹیٹر نے تحفظ لیا۔ انہوں نے سیاستدانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ عوام کو سہولت دیں آج تو نلکے کی ٹوٹی اور بجلی کا میٹر پیسے دئیے بغیر ٹھیک نہیں ہوتا۔ اگر میڈیا آپ پر تنقید کرتا ہے تو آپ نے عوام کو کیا دیا۔ قبل ازیں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور بعض سیاستدانوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا ملک میں سیاسی جماعتوں کے اندر اتحاد پیدا نہیں ہونے دیتا ۔روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ اگرچہ جمہوری اداروں کی کارکردگی مثالی نہیں، بلدیاتی ادارے دستور کے مطابق کام نہیں کررہے ،حکمران اپنی ہی جماعت کو حکومتی اختیارات میں شامل نہیں کررہے،پانامہ لیکس پر بھی تحفظات ہیں لیکن دستور پاکستان کی حفاظت سی پی این ای کے منشور کا حصہ ہے اوردستور کی حفاظت ہمارا فرض ہے کسی جواز پر سی پی این ای وہ تاریخ کے باب دہرانے کی اجازت نہیں دے گی جن کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا اور رسوا ہوا،پاکستان کے دستور کی حفاظت ہونی چاہیے،انہوں نے کہا کہ آج کشمیر جل رہا ہے پوری قوم کو متفق ہوکر کشمیریوں کی آواز میں آواز ملانی چاہیے،انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت کو کسی یلغار پر رخصت نہیں ہونا چاہیے، پاکستان میں حکومتیں ووٹ کی طاقت سے بننی اور رخصت ہونی چاہیے،انہوں نے کہا کہ یہ امرافسوس ناک ہے کہ ایک خبر کے لیک ہونے سے پورا نظام کانپ رہا ہے،ایک خبر بس ایک خبر ہے ایک خبر کو بنیاد بنا کر ہماری تقدیر سے کھیلنا یا اسے بگاڑنا چاہتے ہیں،پاکستان میں تمام اداروں میں کئی نہ کہیں کوئی خامیاں ہیں کوئی یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ تمام خامیوں سے مبرا ہے ہمیں ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظرانداز کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک میں عدالتیں ،پارلیمنٹ اور حکومت موجو دہے لیکن یکجہتی نہیں یکجہتی نہ ہونے کیلئے وہ لوگ ذمہدار ہیں جنہیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہندوستان کے مسلمانوں کو قیادت ملی تو پاکستان بنا قیادت نہیں تھی تو ملک دولخت ہوگیا آج ملک میں قیادت کا بحران ہے وسائل موجود ہیں لیکن وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے سے مسائل پیدا ہوئے صوبوں میں احساس محرومی ہے مالی کرپشن کے علاوہ نظریاتی کرپشن بھی ہے یہی وجہ ہے کہ سندھ سے ہزاروں ہندو بھارت منتقل ہوگئے ،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے حکومت اوراسمبلیوں کی مدت پانچ سال کی جگہ چارسال کرنے اور الیکشن کمیشن کی نگرانی میں پارٹی الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا،ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستارنے ٹیکسوں کا ظالمانہ نظام ختم کرنے اور کراچی کو سیاسی اونر شپ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مردم شماری آج تک کیوں نہیں ہوسکی مردم شماری نہ ہونے کا ملک کو نقصان ہوا ہے،پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن کا کہنا تھا کہ جن قوموں میں اتحاد نہیں ہوتا وہ اندھیروں میں چلی جاتی ہیں ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کاسامنا ہے ملک کا دفاع کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ،اے این پی کے افراسیاب خٹک نے پڑوسیوں کیساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے سی پیک کے مغربی روٹ کو نظرانداز نہ کرنے کا مطالبہ کیا،تقریب سے سی پی این ای کے نائب صدر مہتاب خان عباسی،جمیل اطہر،امتیازعالم،ڈاکٹر جبار خٹک،سابق ڈپٹی سیکرٹری بلوچستان نذیرجوگزئی اور اکرام سہگل نے بھی خطاب کیا۔

مزید : صفحہ اول