جسٹس اقبال حمید الرحمٰن کا استعفیٰ کس کس کا ضمیر جھنجھوڑے گا ؟

جسٹس اقبال حمید الرحمٰن کا استعفیٰ کس کس کا ضمیر جھنجھوڑے گا ؟

تجزیہ : سعید چودھری

سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمن نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔چند روز قبل سپریم کورٹ کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ملازمین کی تقرریوں کے حوالے سے دیا گیا فیصلہ ان کے استعفے کا سبب بنا ہے(اگرچہ استعفے میں اس کا ذکر کہیں نہیں)۔سپریم کورٹ کی طرف سے خلاف قانون قرار دی گئی تعیناتیاں زیادہ تر اس دور میں ہوئی تھیں جب مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمن اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے ۔18ویں ترمیم کے تحت 2010ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تو مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمن کو اس کا پہلا چیف جسٹس مقرر کیا گیا ۔اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں رجسٹرار سمیت کوئی مستقل افسر موجود نہیں تھا جس کے باعث چاروں صوبوں کی عدلیہ سے افسروں کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعیناتیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمن کے پاس کوئی انتظامی تجربہ نہیں تھا ،ان کی ہائی کورٹ کے افسر بھی نا تجربہ کار تھے جس کے باعث جسٹس اقبال حمید الرحمن نے اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری سمیت مختلف ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور ججوں سے غیر رسمی مشاورت کی ۔یہی" مشاورت "تقرریوں کے ڈھیلے ڈھالے میکنزم کا سبب بنی ۔جسٹس اقبال حمید الرحمن نے اپنے کسی عزیز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات کیا اور نہ ہی ان تقرریوں کے حوالے سے ان کی نیت پر کوئی شک کرنے کے لئے تیار ہے ۔وہ پاکستان کے انتہائی نیک نام چیف جسٹس حمود الرحمن مرحوم کے صاحبزادے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اپنے والد کی نیک نامی کو ملحوظ خاطر رکھا ہے ۔وکلاء جو ججوں پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے وہ بھی جسٹس اقبال حمید الرحمن کی دیانت ،امانت اور خلوص نیت کا دم بھرتے نظر آرہے ہیں ۔لاہور ہائی کورٹ بار نے تو صدر مملکت سے ان کا استعفیٰ نامنظور کرنے کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ اقبال حمید الرحمن سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا استعفیٰ واپس لیں ۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں افسروں اور ملازمین کی تعیناتیوں میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے قطع نظر کوئی بھی جسٹس اقبال حمید الرحمن پر کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا ۔سپریم کورٹ اگر خلاف ضابطہ بھرتی ہونے والے ملازمین کے کوائف اور ان کی ملازمت کے ریکارڈ کی تفصیلات حاصل کرتی تو یہ پتہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ان تقرریوں کے پیچھے کن عدالتی شخصیات کا ہاتھ تھا ۔ان تقرریوں کے پیچھے انصاف کے ایوانوں میں عصائے تکریم کے ساتھ سفر کرنے والی کئی شخصیات کا ہاتھ تلاش کرنا مشکل نہیں ہے ۔اقبال حمید الرحمن ان ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے 2007ء میں پیش کش اور دباؤ کے باوجود جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکارکردیا تھا ،جسٹس اقبال حمید الرحمن نے اپنی ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے محض ایک عدالتی آبزرویشن کی بنیاد پر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے ،کیا ان کا استعفیٰ ان لوگوں کا ضمیر بھی جھنجھوڑنے میں معاون ہوسکتا ہے جن کے "مشوروں "پر یہ تعیناتیاں کی گئی تھیں ۔ان ججوں (جن میں اب کچھ سابق ہوچکے ہیں)ان ججوں کے بارے میں مورخ کیا کہے گا جو جسٹس اقبال حمید الرحمن کو مشاورت کے نام پر سفارشیں کرتے رہے ۔وہ چیف جسٹس کیا کریں گے جن کا بھائی خلاف ضابطہ بھرتی کے بعد ان ہی کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر کام کرتا رہا ۔اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری اس استعفے پر کیا کہیں گے جن کی مبینہ سفارش پر کوئٹہ ہائی کورٹ سے جونیئر افسروں کو اسلام آباد ہائی کورٹ لا کر اعلیٰ عہدوں پر تعینا ت کیا گیا ۔جسٹس اقبال حمید الرحمن کے دور میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جن افسروں کی تعیناتیاں عمل میں لائی گئیں ان میں سے کتنے اس وقت کے بعض ججوں اورچیف جسٹس صاحبان کے رشتہ دار اور تعلق دار تھے اس کی تفصیلات بھی سامنے آنی چاہئیں ۔

مزید : تجزیہ