کیپیٹل گین ٹیکس ،رئیل سٹیٹ کے کاروبار کو دھچکا ،ماہرین معاشیات نے خوش آئند قرار دیدیا

کیپیٹل گین ٹیکس ،رئیل سٹیٹ کے کاروبار کو دھچکا ،ماہرین معاشیات نے خوش آئند ...

لاہور(رپورٹ : اسد اقبال) حکومت کی رئیل سٹیٹ کا کاروبار کرنیوالوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش سے جہاں ایک طرف کاروبار کو شدید دھچکا لگا ہے وہیں ماہرین معاشیات نے اسے خوش آئند قراردیدیاہے ۔ذرائع کے مطابق رئیل سٹیٹ کا کاروبار کر نے والوں پر کیپیٹل گین ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہو نے سے سرمایہ کاروں نے نہ صرف سرمایہ کاری سے ہاتھ روک لیا بلکہ سرمایہ نکال کر بیرون ملک منتقل کرنا شروع کردیا اوریومیہ اربوں روپے منتقل کئے جا رہے ہیں جبکہ یہ رقوم غیر قانونی طریقے سے فارن کرنسی کی شکل میں باہر بھیجی جا رہی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق ملک میں رئیل سٹیٹ میں ہر سال 4500ارب کا کاروبار ہوتا ہے جس میں سے تقریبا 3000 ارب روپے کالا دھن ہوتا ہے ۔دوسری طرف ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ رئیل سٹیٹ کے کاروبار میں بیشتر پیسہ ٹیکس کو بچاتے ہوئے کئی طریقوں سے کالے دھن میں تبدیل کیا جاتا ہے جس کی وجہ خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہاہے اور اسکی ممکنہ وجوہات میں ایک وجہ ایف بی آر کی ناقص پالیسیاں بھی ہیں جس میں ریفارمز کی اشد ضرورت ہے تاکہ حکومتی ریونیو میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے رواں سال کے بجٹ میں جائیداد فروخت کرنے والوں کے لئے کیپیٹل گین ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرتے ہوئے نان فائلرز کے لئے شرح چار فیصد جبکہ فائلر کے لئے شرح دو فیصد کر دی ہے پلاٹ فروخت کی مدت بڑھا کر پانچ سال کر دی ہے یعنی کہ جو جائیداد بھی خریدنے کے پانچ سال کے عرصے میں فروخت کی جائے گی تو فروخت کرنے والا کیپیٹل گین ٹیکس ادا کرے گا ۔دوسری جانب جائیداد کے مالکان سے انکم ٹیکس کی وصولی کے لئے جائیداد کی ویلوایشن کا طریقہ کار مزید سخت کردیا گیا ہے اور ویلوایشن کے لئے انکم ٹیکس آرڈینس 2001 کی مجریہ سیکشن 68 میں ترمیم کی گئی ہے ۔ حکومت کی کوشش ہے رئیل سٹیٹ کا روبار کرنے والے ٹیکس نیٹ میں آئیں دوسری جانب کالا دھن کی اس سیکٹر میں سرمایہ کاری نہ ہواور سرمایہ کار رئیل سٹیٹ کے بجائے صنعت میں سرمایہ کاری کریں ۔ ملک میں توانائی کے بحران کے باعث سرمایہ کار صنعت میں سرمایہ کاری کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ملک میں رئیل سٹیٹ کا کاروبار سب سے بڑا کاروبار ہے اس میں ہر سال تقریبا 4500 ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے یہ وہ سیکٹر ہے جس میں سب سے زیادہ کالا دھن لگایا جاتا ہے ہر سال کرپشن کے 3000 ارب روپے اس میں انویسٹ کئے جاتے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے نئے قوانین کے باعث سرمایہ کاروں نے رئیل سٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ لگانے سے ہاتھ روک لیا ہے اور کاروبار سے اپنا سرمایہ بھی نکالنا شروع کر دیا ہے ۔ ہر روز اربوں روپے رئیل سٹیٹ کے کاروبار سے نکالے جا رہے ہیں ۔اس سلسلے میں ماہرین معیشت ڈاکٹر قیس اسلم نے "روزنامہ پاکستان"سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ رئیل سٹیٹ کا کاروبار کر نے والوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانا اچھا اقدام ہے اس سے حکومتی ریونیو میں اضافہ ہوگاتاہم اس کیلئے ایف بی آر کو بھی ریونیوپالیسیوں میں تبدیلی کر تے ہوئے اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کر نے کی ضرورت ہے جس سے حکومتی ریونیو میں اضافہ ممکن ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ پر لگنے والا ٹیکس ابھی بھی صنعتکاروں اور تاجروں پر عائد کر دہ ٹیکسوں سے بہت کم ہے۔ ڈاکٹر قیس اسلم کامزید کہنا تھا کہ رئیل سٹیٹ کا بیشتر سرمایہ مختلف طریقوں سے چھپایا جاتا ہے جو ٹیکس نیٹ میں نہ ہونے سے حکومتی ریونیوکوخسارے کا باعث ٹھہرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ رئیل سٹیٹ کا کاروبار اتنا مہنگا کر دیا گیا ہے کہ مڈل طبقہ اپنا گھر بنانے کا صرف خواب کر سکتا ہے ۔رئیل اسٹیٹ پر بو م آنے سے زرعی زمین کو ہاؤسنگ سکیموں میں تبدیل کیا گیا جس سے نہ صر ف ملکی زراعت پر منفی اثرات پڑے بلکہ کاشتکاروں سے اونے پونے داموں اراضی خرید کر ان کا استحصال کیا گیا ۔

مزید : صفحہ آخر