پنجاب اسمبلی ،اپوزیشن کی عدم موجودگی میں بچوں کی ملازمت پر پابندی سمیت 3بل منظور

پنجاب اسمبلی ،اپوزیشن کی عدم موجودگی میں بچوں کی ملازمت پر پابندی سمیت 3بل ...

لاہور( نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن کی عدم موجودگی میں بچوں کی ملازمت پر پابندی سمیت تین بلوں کی منظوری جبکہ حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی پنجاب کا مسودہ ایوان میں پیش کر دیا گیا ،اپوزیشن کورم کی نشاندہی کر کے ایوان سے باہر چلی گئی جس کے باعث ان کی تمام ترامیم سرنڈر تصور کی گئیں۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز مقررہ وقت تین بجے کی ایک گھنٹہ 25منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہو ا۔ اجلاس میں محکمہ داخلہ کے بارے میں سوالات کے جوابات دئیے گئے۔ پارلیمانی سیکرٹری مہر اعجاز اچلانہ کی طرف سے متعدد سوالات کے غلط جوابات پر سپیکر کو سوال موخر اور متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنا پڑے ۔ ڈاکٹر عالیہ آفتاب کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ بچوں کی حفاظت کیلئے حکومت نے موثر قانونی سازی کی ہے اور تعزیرات پاکستان میں نئی دفعات A292(بچوںں کو بہکانا)B292(بچوں کی فحش نگار)، A328(بچوں پر ظلم ) شامل کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک بچوں پر تشدد کے حوالے سے 24ایف آئی آر ز درج کی گئیں جن میں سے چار پر سزائیں جبکہ باقی کا زیر تفتیش ہیں۔ عائشہ جاوید کے سوال کے جواب میں کہا کہ سنٹرل جیل راولپنڈی میں اے کلاس وارڈ میں 12اسیران رکھنے کی گنجائش ہے اور پاکستان پریژن رولز 1978کے قاعدہ نمبر 242کے تحت اچھے چال چلن ، اتفاقیہ اسیران ،سماجی رہن سہن کی وجہ سے ،تعلیم اور زندگی کے معمول میں اعلیٰ معیار کی زندگی گزارنے والے سمیت تین کیٹگریز کو دی جاتی ہے ۔ ڈاکٹر وسیم اختر کے سوال پر پارلیمانی سیکرٹری نے بار بار ایوا ن کو غلط جواب بتایا جس پر سپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری سے کہا کہ آپ تیاری کر کے آئیں۔ اور ڈاکٹر وسیم اخترکے دو سوال ، احسن ریاض فتیانہ کے دو اور امجد علی جاوید کا ایک سوال متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔ امجد علی جاوید نے ایوان میں متعلقہ پارلیمانی سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے سالانہ بجٹ کی رقم جو اردو رسم الخط میں لکھی گئی ہے یہ پڑھ کر سنا دیں تو پارلیمانی سیکرٹری پانچ مرتبہ کوشش کے باوجود اسے درست نہ پکڑ سکے جس پر ایوان میں ان پر قہقے لگے اور سپیکر بھی مسکراہتے رہے ۔ ایوان کو بتایا گیا کہ جیل مینوئل میں فی قیدی ایک روز کے اخراجات میں 4روپے 87پیسے اضافہ کر دیا گیا جو اب بڑھ کر 79روپے 87پیسے ہو گئے ہیں۔ طارق محمود باجوہ کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ سال 2015ء کے دوران 14مقدمات درج کئے گئے جن میں سے 10مقدمات جھوٹے ہونے کی بناء پر خارج کر دئیے گئے ۔8 ملزمان گرفتار ہوئے ایک ملزم ابھی تک فرار ہے اسے بھی ’’دو نو مبر ‘‘سے پہلے پہلے گرفتار کر لیا جائے گاجس پر ڈاکٹر مراد راس نے کہا کہ دو نومبر کے بعد آپ بھی گرفتار ہو جائیں گے۔وقفہ سوالات کے بعد قائد حزب میاں محمود الرشید نے نقطہ اعتراض پر کہا کہ وزارت داخلہ، قانون اور ہوم سیکرٹری وقفہ سوالات کے موقع پر ایوان میں موجود نہیں وہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے کارکنوں کی گرفتاریوں کے لئے فہرستیں مرتب کر رہے ہیں۔ 2نومبر سے قبل یہ ہمیں گرفتار کرنے کی کوشش کرینگے لیکن 2نومبر کے بعد خود ہو جائیں گے ۔ حکومتی رویے سے جو فضا پیدا کی جارہی ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اگر ہمیں گرفتار کیا گیا یاکارکنوں کوروکا گیا اور رکاوٹیں ڈالی گئیں تو حالات کی ذمہ دار حکومت خود ہو گی ۔ پور ے ملک سے کارکنان تمام رکاوٹیں توڑ کر اسلام آباد پہنچیں گے ۔ اور اس کے ساتھ انہوں نے حکومت کے خلاف تلاشی دو ، تلاشی دو ،گو نواز گو جبکہ حکومتی بنچوں سے بھی مخالفانہ نعرے لگائے گئے ۔ اس دوران احسن ریاض فتیانہ نے کورم کی نشاندہی کر دی اور اپوزیشن اراکین ایوان سے باہر چلے گئے۔ سپیکر نے گنتی کرنے کی ہدایت کی اور تعداد پوری ہونے پر کارروائی جاری رہی ۔ اس دوران اپوزیشن واپس نہ آئی اور حکومت نے اپوزیشن کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری کارروائی شروع کر دی ۔ وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان کی عدم موجودگی میں صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے مسودہ قانون ( ترمیم ) صوبائی موٹر گاڑیاں 2016،مسودہ قانون ( ترمیم ) موٹر گاریاں2016اور مسودہ قانون بچوں کی ملازمت پر پابندی پنجاب 2016ء ایوان میں پیش کئے جن کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دیدی ۔ اس موقع پر اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی تمام ترامیم سرنڈر تصور کی گئیں۔مسودہ قانون کی منطوری کے بعد چودہ سال سے کم عمر کے بچے سے مشقت لینا جرم تصور کیا جائے گا ۔ایوان میں مسودہ قانون حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی پنجاب 2016ء ایوان میں پیش کیا گیا جسے بعد ازاں متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر کے دو ماہ میں رپورٹ طلب کر لی گئی ۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر