ترقی پذیر معیشت کے قیام کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی نا گزیر ہے، ڈاکٹر عمر سیف

ترقی پذیر معیشت کے قیام کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی نا گزیر ہے، ڈاکٹر عمر سیف

لاہور(پ ر)پنجاب آئی ٹی پالیسی کا پہلا ڈرافٹ عوامی رائے کے لئے پیش ، پی آئی ٹی بی کی تیسری گول میز کانفرنس میں حتمی شکل دی جائے گی۔ حکومت پنجاب صوبے کو ایک علمی مرکز، معاشی طور پر متحرک اور جمہوری معاشرہ بنانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بہترین ذریعہ سمجھتی ہے۔ حکومت پنجاب کا عزم ہے کہ پنجاب کو خطے میں سب سے زیادہ ای گورننس، آئی ٹی اور اس کی تعلیم سے استفادہ کرنے والا صوبہ بنایا جائے جو پوری دنیا میں آئی ٹی بزنس کے لئے پر کشش مقام رکھتا ہو اور آئی ٹی کی بہترین افرادی قوت فراہم کر سکے۔ اس پس منظر کے ساتھ ، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے پنجاب آئی ٹی پالیسی 2016 کے پہلے ڈرافٹ کو آن لائن مہیا کر دیا ہے۔ اکتوبر 2016 میں منعقدہ دوسری PITB گول میز کانفرنس میں ڈاکٹر عمر سیف نے پنجاب میں آئی ٹی پالیسی وضع کئے جانے کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اس سلسلے میں پیشرفت کر کے پالیسی متعارف کروائی جائے گی۔ حکومت پنجاب نے ہمیشہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے موزوں معاشی اور معاشرتی ماحول بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پنجاب پہلا صوبہ تھا جس نے براڈ بینڈ پر ٹیکس ختم کیا۔ پارٹنر یونی ورسٹیوں اور آٹی انڈسٹری کے تعاون سے Plan 9 اور Plan X کا اجراء کیا۔ حکومت پنجاب نے صوبے میں ای گورننس اور سہولتی مراکز کے قیام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں ۔ پی آئی ٹی بی کے چئیر مین ڈاکٹر عمر سیف نے کہا، ’’ دیرپا اور ترقی پذیر معیشتوں کے قیام کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی نا گزیر ہے۔ IT Policy 2016 کے زریعے حکومت پنجاب نے تسلیم کیا ہے کہ معاشی و معاشرتی ترقی کے لئے آئی ٹی ریڑھ کی ہڈیکی حیثیت رکھتی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس پالیسی کو زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ کیا جائے گا۔ ہم نے ڈرافٹ کو عوامی مشاورت کے لئے پیش کیا ہے تا کہ اس عمل کو ممکنہ حد تک واضح اور شفاف بنایا جا سکے ۔ میں تمام لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اس ڈرافٹ کو پڑھیں اور ہمیں اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں۔ ‘‘پنجاب آئی ٹی پالیسی2016 کے پہلے ڈرافٹ کو اس لنک پر پڑھا جا سکتا ہے۔ http://www.policy.pitv.gob.pkآج 25 اکتوبر 2016 کو تیسری PITB گول میز کانفرنس میں تمام اہم شراکت دار اس ڈرافٹ پر بات کریں گے۔ ڈاکٹر عمر سیف نے آئی ٹی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے 200 سے زیادہ اہم نمائندوں کو مدعو کیا ہے جو پالیسی کو حتمی شکل دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

مزید : صفحہ آخر