اوسٹیو پوروسس سے ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں،ڈاکٹر امل

اوسٹیو پوروسس سے ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں،ڈاکٹر امل

لاہور(سٹی رپورٹر)اوسٹیو پوروسس کی وجہ سے دنیا بھر میں پچاس سال کی عمر سے اوپر پانچ میں سے ایک مرد اور تین میں سے ایک عورت کی ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں کم علمی اور محدود وسائل کی کمی کی وجہ سے اس بیماری کی بروقت تشخیص ہی نہیں ہوپاتی، یہ بات شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کی کنسلٹنٹ اینڈوکرونولوجسٹ ڈاکٹر امل عظمت نے ورلڈ اوسٹیوپروسس ڈے کے موقع پر ایک انٹرویو میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ آسٹیوپوروسس زندگی کے معیار پر اثر انداز ہونے والی ایک عام بیماری ہے۔ اس بیماری سے ہڈیاں بہت کمزور ہوجاتی ہیں اور ان کے فریکچر ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ دیگر خطرات میں خاندان میں آسٹیوپروسس کا ہونا، بار بار گرنا،جسم کا وزن کم ہونا، سٹیرائڈ جیسی ادویات کا طویل مدت تک استعمال، خوراک میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کا کم ہونا، تمباکونوشی اور خاندان میں دیگر دائمی عوارض کا ہونا شامل ہیں۔ ڈاکٹر امل نے کہا کہ ہڈیوں کی کثافت کو قائم رکھنے یا بہتر بنانے کیلئے اور فریکچر ہونے کا خطرہ کم کرنے کیلئے بہت سے طریقہ علاج موجود ہیں۔ عام طور پر مریض کو بائی فاسفونیٹ ادویات دی جاتی ہیں اور ان ادویات کے اثر کو بڑھانے کیلئے کیلشیم اور وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ استعمال کروائے جاتے ہیں۔ورلڈ آسٹیوپروسس ڈے کے موقع پر انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں اپنے مستقبل کی حفاظت کیلئے اپنی ہڈیوں سے محبت کرنی چاہئے۔

مزید : صفحہ آخر