تنخواہ کی عدم ادائیگی پر محکمہ مال کے اراضی ریکارڈ سینٹر کا سروس سینٹر آفیشل انتقال کر گیا

تنخواہ کی عدم ادائیگی پر محکمہ مال کے اراضی ریکارڈ سینٹر کا سروس سینٹر آفیشل ...
تنخواہ کی عدم ادائیگی پر محکمہ مال کے اراضی ریکارڈ سینٹر کا سروس سینٹر آفیشل انتقال کر گیا

  

لاہور(اپنے نمائندے سے)محکمہ مال کی مبینہ غفلت اور افسران کی عدم توجہ کے باعث پی ایم یو کے اراضی ریکارڈ سینٹر میں تعینات سروس سینٹر آفیشل 4ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے باعث انتقال کر گیا ،متوفی تنخواہ کے حصول کیلئے 4ماہ سے بورڈ آف ریونیو دفاتر کے چکر لگاتا رہا ،گزشتہ روز شدید پریشانی ،ذہنی دباؤ اور مالی و معاشی معاملات میں تنگی کی وجہ سے حرکت قلب بند ہونے کے باعث جہان فانی سے رخصت ہو گیا ،محکمہ افسران کی پھرتیاں موت کی خبر سنتے ہی اہلکاروں کو 4ماہ کی تنخواہ دے کر جنازے میں بھیج دیا لواحقین کا وصول کرنے سے انکار جبکہ قریبی دوستوں اور ساتھی ملازمین نے مالی امداد دے کر تدفین اور آخری رسومات ادا کی گئیں ،افسران اختیارات سے تجاوز اور دیگر غفلتوں میں پردہ ڈالنے کیلئے لواحقین کو امداد کی یقین دہانی کرواتے رہے اور موت کی خبر کو چھپانے کا کہتے رہے ،تنخواہ نہ دینے پر صوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سینٹر میں تعینات سٹاف و افسران سراپا حتجاج بن گئے تفصیلات کے مطابق بورڈ آ ف ریونیو کے افسران کی مبینہ غفلت اور عدم توجہ کے باعث پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے زیرنگرانی چلنے والے اراضی ریکارڈ سینٹر میں تعینات سروس سینٹر آفیشل کلیم اللہ اوور ٹائم اور 4ماہ سے زائد کی تنخواہ انتظامیہ کی جانب سے روکنے کے باعث دوران ڈیوٹی ہی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے فوت ہو گیا ۔ متوفی کلیم اللہ اپنی 4ماہ کی تنخواہ اور اوور ٹائم کی مد میں بننے والی رقم کے حصول کیلئے 4ماہ سے زائد عرصہ تک بورڈ آف ریونیوافسران کے دفاتر کے چکر لگاتا رہا لیکن افسران بالا کی جانب سے کوئی شنوائی نہ ہوئی ،مالی بدحالی اور نان نفقہ میں شدید تنگی اور پریشانی کے باعث گزشتہ روز اسے اپنے سینٹر میں ہی ڈیوٹی کے دوران ہی ہارٹ اٹیک ہو گیا ،سٹا ف اہلکاروں نے متوفی کو فوری ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس سے قبل ہی جہان فانی سے رخصت ہو چکا تھا، موت کی خبر سنتے ہی محکمہ مال کے افسران میں صلہ رحمی کا جذبہ جاگ اٹھا اور انہوں نے فوری طور پر فوت شدہ ملازم کی چار مہینے کی تنخواہ اور اوورٹائم کی مد میں بننے والی ٹوٹل رقم دے کر اہلکاروں کو جنازے میں بھیج دیا،پی ایم یو انتظامیہ کی بے حسی اورمسلسل چشم پوشی کے باعث لواحقین نے مذکورہ رقم وصول کرنے سے انکار کر دیا جبکہ متوفی کے قریبی دوستوں اور ساتھی ملازمین نے اپنی مدد آپ کے تحت حسب توفیق مالی امداد دے کر غسل، تدفین کی آخری رسومات ادا کیں افسران کی بے حسی کی انتہایہ ہے کہ محکمہ مال اور پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے افسران اختیارات سے تجاوز اور دیگر غفلتوں میں پردہ ڈالنے کی کوشش اور اپنی جان چھڑانے کے چکر میں لواحقین کو امداد کی یقین دہانی کرواتے رہے اور موت کی خبر اور اس کی وجہ کو چھپانے کا کہتے رہے ۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی ایم یو ملازمین کی کثیرتعداد کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھی ملازم کی موت کی وجہ بلا شبہ محکمہ مال اور پی ایم یو افسران کی بے حسی اور لاپرواہی ہے ۔حق دار کو اس کا حق ادا نہ کیا جائے گا تو پھر اس کا نتیجہ بھی کچھ ایسا ہی ہو گا۔متوفی کلیم اللہ افسران کے دفاتر کے چکر کسی مالی امداد یا خیرات کے لئے نہیں لگا رہا تھا بلکہ اپنی تنخواہ اور شب و روز کی محنت کا معاوضہ لینے جاتا تھا۔ہم اس بے حسی اور مظلومانہ موت پر شدید احتجاج کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس غفلت اور لاپرواہی میں جو جو ملوث ہے اس کے خلاف بھرپور کارروائی کرکے لواحقین کے ذخموں پر مرحم رکھا جائے ۔

مزید : صفحہ آخر