قائد ایم کیو ایم کیخلاف کارروائی ،بلا خوف و خطر پاکستانی ہو کر اقدامات کریں ،عدالت کا سیکرٹری داخلہ کو حکم

قائد ایم کیو ایم کیخلاف کارروائی ،بلا خوف و خطر پاکستانی ہو کر اقدامات کریں ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی ، جسٹس مظہراقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پرمشتمل فل بنچ کے روبرو ایم کیو ایم پر پابندی اورالطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواستوں پروفاقی سیکرٹری داخلہ نے بیان دیا ہے کہ اب سمجھ آ گئی ہے کہ ریاست کو اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل لازمی نکالنا پڑے گا۔، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مان لیا کہ یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے لیکن ریاست نے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے نا، سیکرٹری داخلہ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں کہ کیا ہونا چاہیے، آئین کے آرٹیکل 17کی ضمنی دفعہ 2کہتی ہے کہ وفاقی حکومت 15دن کے اندر اندر ریاست کے خلاف کارروائی کرنے والی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخی کا ریفرنس دائر کرنے کی پابند ہے لیکن حکومت کا ٹریک ریکارڈ کہتا ہے کہ ایسے معاملات میں حکومت نے کچھ نہیں کیا، عدالت کوآئندہ تاریخ سماعت پرعملی اقدامات بارے آگاہ کرنے کی یقین دھانی پر عدالت نے مزید سماعت10نومبر تک ملتوی کر دی ۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے آفتاب ورک سمیت دیگر کی طرف سے ایم کیو ایم پر پابندی عائد کرنے اوراسکے سربراہ کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی تو وزارت داخلہ کے سیکرٹری عارف خان نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ متحدہ کے سربراہ کی متنازع تقریر کے بعد صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو چکی ہے ،سندھ سمیت تمام صوبائی حکومتوں اور وزارت قانون سے مشاورت مانگی ہے، جواب آنے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کریں گے ،سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سندھ میں ماننے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے، دیکھنا ہو گا کہ ایم کیو ایم پابندی کے اثرات کیا ہوں گے ، ایم کیو ایم کے سربراہ کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرانے کے لئے بھی مشاورت جاری ہے، وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ نے موقف اختیار کیا کہ یہ سیاسی مسئلہ ہے، صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ جس پر فل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا میں خبریں آ رہی ہیں کہ ایم کیو ایم تین حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے، عدالت کو آگاہ کریں کہ اس تقسیم کے بعد لندن ایم کیو ایم کے خلاف کیا عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ملک کے خلاف تقریریں ہوں اور سب خاموش رہیں ، عدالتی استفسار کا جواب دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ خاموش نہیں ہیں بلکہ کارروائی کرنے کے لئے مشاورت جاری ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مان لیا کہ یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے لیکن ریاست نے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے نا، سیکرٹری داخلہ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں کہ کیا ہونا چاہیے، ججز بھی معاشرے کا حصہ ہیں اور وہ قوم کی تکلیف محسوس کرتے ہیں، پاکستان ہے تو سب کچھ ہے، جج شپ، سیکرٹری شپ اور میڈیا شپ سب کچھ پاکستان کی بدولت ہے، آئین کے آرٹیکل سترہ کی ضمنی دفعہ دو کہتی ہے کہ وفاقی حکومت 15دن کے اندر اندر ریاست کے خلاف کارروائی کرنے والی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخی کا ریفرنس دائر کرنے کی پابند ہے لیکن حکومت کا ٹریک ریکارڈ کہتا ہے کہ ایسا معاملات میں حکومت نے کچھ نہیں کیا،سیکرٹری داخلہ بتائیں کہ اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں،ایم کیو ایم کے خلاف جو اقدامات کیے ہیں انکے بارے میں بتائیں، تاکہ عدالت انکا جائزہ لے سکے، لگتا ہے کہ ابھی تک وفاقی حکومت نے اس معاملے پر کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے، سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ وزارت قانون سے 14 اکتوبر کو مشاورت مانگی، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت دو ماہ کی تاخیر سے کیوں وزارت قانون سے مشاورت کررہی ہے، وزارت داخلہ دو ماہ کی خاموشی کی وجہ بتائیں،ہر دوسرا شخص جاننا چاہتا ہے کہ ملک مخالف تقریر کرنے والوں کے خلاف کیا کاروائی کی گئی،۔ بلوچستان کی صورتحال آپ کے سامنے ہے، اس ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اگر اس کے خلاف سخت اقدامات نہ کئے گئے تو آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوگا،۔آپ نے پاکستانی ہونے کے ناطے سے سوچنا ہے، ہم آپ کو ریاست کا نمائندہ سمجھتے ہیں، ۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید ریمارکس دیئے کہ آپ بلا خوف و خطر پاکستانی ہو کر اقدامات کریں، عدالت کو اس بات سے کوئی پرواہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے یا کس کی نہیں، جس پر سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ پندرہ دن کی مہلت دیدیں، عدالت کو اگلی تاریخی پر آگاہ کر دینگے کہ اس معاملے پر کیا عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ، عدالت نے سیکرٹری داخلہ کی استدعا منظور کرتے ہوئے مزید سماعت 10نومبر تک ملتوی کر دی ۔

سیکرٹری داخلہ

مزید : صفحہ آخر