نیلی آنکھوں کے پیچھے چھپا اثاثہ!

نیلی آنکھوں کے پیچھے چھپا اثاثہ!
 نیلی آنکھوں کے پیچھے چھپا اثاثہ!

  


چائے والے کی نیلی آنکھوں کی بات ہو رہی تھی ا وریہ بات کہ کیا کوئی جانتا بھی ہے کہ ان جھیل جیسی نیلی آنکھوں کے پیچھے کئی درد چھپے ہیں؟ دراصل ان کے پیچھے ایک پوری قوم کی بے بسی کی داستان سو رہی ہے اور ا ن سمندر آنکھوں کے پیچھے ایک پوری قوم کی بے حسی جاگ رہی ہے۔ ان دل فریب نیلی آنکھوں کے پیچھے کرب بھرے کچھ نوحے ہیں او ردل چیر دینے والے لہو میں ڈوبے کچھ دوہے ہیں۔ لوگ مگر چہرہ دیکھتے ہیں اوربیبیوں نے ان آنکھوں کی بس خیرہ کن چمک دیکھی ہے۔ اس چہرے کے پیچھے اجڑی بستئ دل کی خستگی اوران آنکھوں کی جھیل میں ڈوبی حسرت بھری کہانیاں کب دیکھتے ہیں۔

جو تار سے نکلی وہ دھن سب نے سنی ہے

جو ساز پہ گزری وہ کس دل کو پتا ہے

آئیے اک نظر ان دلفریب نظاروں اور من موہ لیتی بہاروں کے پیچھے انسانیت کو شرما اور صاحبان دل کو لرزا دینے والی کچھ تلخ حقیقتیں بھی جھانک کے دیکھ لیں۔ میر اخیال ہے اس سے آشنائی کے لیے ہمیں جمال عبداللہ عثمان سے ملاقات کر نی چاہئے۔ جمال عبداللہ عثمان ایک نوجوان قلم کار ہے ۔ سوات سے آئے اس نوجوان کا لہجہ کشمیری سیبوں کی طرح رسیلااور اس کا قلم اہل زبان کی طرح البیلا ہے۔ جمال عبداللہ عثمان نے اپنا کرئیرکراچی کے مختلف اخبارات میں لکھنے سے شروع کیا۔ پھر جسارت نے اس کاکالم چھاپا اور پھر یہ کراچی کے جرات منداخبار امت کا حصہ بن گئے۔ امت میں انھوں نے کالم نگاری اور فیچر رائٹنگ میں اپنا لوہا منوایا ۔ انھی دنوں سوات میں ہمیں اپنی بقا کی جنگ لڑنا پڑی اور رفیق افغان صاحب کو اس نوجوان کے سواتی ہونے کا پتا چلا توانھوں نے اسے فیلڈ میں بھیج دیا۔ ایک تو اپنے علاقے کی خانہ ویرانی اور پھرسوات کاجنت نظیرخطہ بندوق کی آگ سے جھلسااور بارود کی بو سے متعفن ہوااس سے دیکھا نہ گیا۔ خیرایک صحافی کے لئے آنکھوں کی بندش کے کیا معنی ؟ وہی مثل کہ گھوڑا گھاس سے محبت کرے گا توکھائے گا کیا؟ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے وہ نوحے لائیو دیکھے۔ وہ سب جبر دل پہ سہے ۔ انسانوں کو چند بے دردوں کے کئے کی پاداش میں اپنے پیارے گھر گلیارے اور باغ و بازار چھوڑ کے مفلسانہ و مہاجرانہ نکلتے دیکھا۔ اس نے ہنستے بستے گھروں سے انجانی مسافتوں کو نکلتے مسافروں کے اشک بھی گنے اور ان کے پاؤں میں چبھے کانٹے بھی شمار کیے ۔ اس نے بعض کم اندیشوں کی اٹھائی گرد کی اس دھول میں کئی نیلی آنکھوں اور کئی شہابی گالوں کی سندرتا اور مستقبل کو گم ہوتے بھی دیکھا۔ اس نے خیموں جیسے برقعوں میں جینے کو سعادت اور عادت سمجھنے والی کئی مہ رخوں کو تپتے سورجوں تلے بے پردہ جھلستے ، نانِ جویں کو بلکتے اور اپنوں کی بے بسی کی تڑپ سے تڑپتے اور مچلتے دیکھا۔ یہ دیکھتا رہا ، خود سے الجھتا رہا ،گاہ روتا اورگاہ دور دیس والوں کے لئے آنکھوں دیکھے احوال لکھتا رہا۔ستم کی سنگلاخ چکی کے پاٹوں میں آئے انسانوں کی سیاہ بختی پر یہاں کبھی یہ خود رو دیا اور کبھی اس کے قلم نے کچھ آنسو جذب کرکے دور بستے انسانوں کو رلایا۔ پھر ایک رات جب یہ نوجوان سو کے اٹھا تو اس کے چشم دید وہ سارے درد ، وہ سارے کرب ، وہ سارے نوحے اور وہ سارے جگر خراش کردار ایک کتاب ہو گئے تھے اور یہ کتاب ’’جو ہم پہ گزری ‘‘ کے نام سے آج تک میری دراز میں پڑی ہے اور میں اسے کبھی کامل پڑھنے کی جرات نہیں کر سکا۔ کاش کبھی مجھے اتنا حوصلہ ارزاں ہو کہ میں ایک قوم کے اشک سہہ سکنے کا ارادہ باندھ سکوں تاکہ اس نوجوان کو اس کتاب کی رسید دے سکو ں۔بہرحال یہ تاریخ کے ایک حساس عہد کی امانت تھی جو اس شخص نے عہد آئندہ کے مورخ کے لئے عین چوراہے پر رکھ دی ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ اسلام آبادی چائے والا ، سواتی ہے، قبائلی ہے یا وزیرستانی یا کسی اور علاقے کا ۔ مجھے نہیں معلوم وہ کسی درسگاہ کے اجڑنے سے چائے والا بنا ہے یا اپنے گھرکے لٹنے سے اتوار بازار میں آ بساہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس جیسے اور کتنے اپنے لٹے مستقبلوں کے سہانے سپنے ، اپنے چکنا چور ہو گئے خوابوں کے ریزے اور اپنے گم ہو گئے سکولوں میں بکھرے بستے تلاش کرتے کرتے کہاں کہاں کاغذ چننے والے ، بوٹ پالش والے ، چائے والے ، ورکشاپ والے چھوٹے بنے ہماری بے حسی کاا گلا ثبوت ہوا کرتے ہیں۔ میں کچھ بھی نہیں جانتا،لیکن شعر و اد ب سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھنے کے حوالے سے اپنوں سے اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ صاحبو! ناصحو، پند گرو، مقتدرو! حکمرانو! اپنے عشاق سے کوئی یوں بھی کرتا ہے؟

اے میری تقدیر کے بننے اور بگڑنے کے قلمدان تھامنے والو! یہ ایک چائے والا کہ جس کی گالوں اور جس کی آنکھوں نے مصرکے بازار تمھارے فٹ پاتھوں پر سجا دیئے ہیں۔سچ کہوں تو تم نے ان نیلی آنکھوں سے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ یہ نہیں کہ انھیں گھروں سے نکال دیا ، بلکہ یہ کہ پھر گھروں کو جانے نہیں دیا۔ یعنی جانے دیا؟ مگرریزہ ہوگئی زمیں پر گھرمگر کہاں ؟ وہ سڑکیں اور وہ باغ کہاں تھے ؟ وہ سکول اور وہ مدرسے کہاں تھے ؟ وہ تتلیاں ، وہ پھول اور وہ جگنو وہاں کہاں تھے؟ وہ تو اک ایسی اجڑی دلی ہے جسے نوحہ کہنے کو کوئی غالب اورجسے المیہ کہنے کو کوئی شیکسپئرنہیں ملا۔ آئیے اسی نوجوان کے چند روز پہلے کے ایک فیس بک سٹیٹس سے نیلی آنکھوں کا تازہ نوحہ دیکھتے ہیں کہ شاید کسی بنجردل میں ان کے لئے امید کا کوئی گلاب کھل اٹھے۔

’’ابھی ایک وزیرستانی دوست آئے۔چہرے سے شدید تھکاوٹ عیاں تھی ۔ میں نے حال احوال پوچھا تو کہنے لگے۔ ’’ چار سال بعد اس نیت سے گئے تھے کہ بہتری آئی ہوگی ، لیکن سب خواب اور سراب ہے۔سب کچھ ختم ہو چکاہے ۔ ہمارے آباء و اجداد نے جو مکان بنائے تھے ، ہماری نئی نسل بیس سال محنت مزدوری کرکے بھی انھیں دوبارہ تعمیر نہیں کر سکتی ۔ مٹی کے یہ گھر تو جیسے تیسے بن جائیں گے۔نہ بھی بنیں گے تواچھی بُری گزر ہی جائے گی، مگر سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہماری پوری کی پوری نسل ان پڑھ پل رہی ہے۔جہاں پندرہ سال سے گولہ بارودبرسا او ر شیلنگ کے سوا کچھ نہ برساہو وہاں ہو تعلیم کیسی؟ علم کیسا؟ ‘‘

مزید : کالم


loading...