صوبائی حکومت کا شانگلہ سیلاب ایمر جنسی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے12کروڑ کی تحقیقات کا فیصلہ

صوبائی حکومت کا شانگلہ سیلاب ایمر جنسی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے12کروڑ کی ...

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوانے شانگلہ میں سیلاب ایمرجنسی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے 12کروڑ روپے کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کردیا، صوبائی ٹیم سے دو ہفتوں کے اندر اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کردی، ملوث افسران کے خلاف سخت کاروائی ہوگی، ذرائع نے ہمارے نمائندے کو بتایا ہے کہ ضلع شانگلہ میں رواں سال کے اپریل کے مہینہ میں ایا ہوا تباہ کن سیلاب میں ضلعی انتظامیہ شانگلہ نے ایمرجنسی میں سڑکوں کی صفائی سمیت دیگر ایمرجنسی میں 12کروڑ روپے کا فنڈ استعمال کیا تھا جس کے بعد عوامی شکایات پر تحریک انصاف کے رہنماء شوکت علی یوسف زی نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے صاف کئے گئے سڑکوں کا معائینہ کیا ، جس پر انہوں نے موقع پر شدید مایوسی اور عدم اعتماد کا اظہارکیا اور پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو شکایت کردی، جس پر وزیر اعلیٰ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے شانگلہ میں سیلاب کے مد میں لگائے گئے 12کروڑ روپے کے فنڈز کے استعمال میں خرد برد کرنے کی شکایت پر صوبائی ٹیم کو شانگلہ میں تحقیقات کرکے رپورٹ دو ہفتوں کے اندر اندر پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے، ضلعی اسمبلی میں بھی مختلف یونین کونسلوں سے منتخب اراکین اسمبلی نے بھی فنڈز میں خرد برد کرنے کا الزام لگایاتھا،اور اکثر نے تو واضح کیا کہ سیلاب میں ان کے یونین کونسلوں میں سرکاری مشینری تونظر ہی نہیں ائی تو پھرکیسے ان کے یونین کونسلوں کے ناموں فنڈز نکالے گئے، ان یونین کونسلوں کے نام نکالنے والے فنڈز کے حساب دیا جائے، شانگلہ میں تحریک انصاف کے رہنماء شوکت علی یوسف زی نے بھی جب ان سڑکوں کا معائنہ کیا تو شدید رد عمل ظاہر کیا، انہوں نے بھی اس موقع پر انتظامیہ پر واضح کیا تھا کہ سڑکوں کی اصل صفائی نہیں ہوئی ، سڑکوں پر ملبے کے ڈھیر پڑے ہیں اور صرف گاڑی کے ٹائر کیلئے جگہ خالی کی گئی ہے جو کہ مایوس کن ہے، شانگلہ کے عوامی حلقوں نے شوکت علی یوسف زی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے حکومت سے ملوث افسران کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...