نوشہرہ میں خاتون کو بچانے والے ملاح پر بدترین تشدد

نوشہرہ میں خاتون کو بچانے والے ملاح پر بدترین تشدد

نوشہرہ(بیوروپورٹ)نوشہرہ پولیس اہلکاروں کا دریائے کابل سے اپنے 2شیرخوار بچیوں سمیت خودکشی کر نے والی خاتون کو نکالنے والے ملاح پربدترین تشدد ملاحوں کاشدید احتجاج نوشہرہ پولیس حکام اپنے پولیس اہلکاروں کو بچانے کیلئے ملاحوں کی منت سماجت کرتے رہے پولیس کے اہلکار کے خلاف کاروائی کامطالبہ ہم انسانی ہمدردی کے تحت دریائے کابل میں لوگوں کو بچانے اور لاشوں کو نکالتے ہیں لیکن نوشہرہ پولیس ہمیں نیکی کاصلہ دینے کی بجائے ہمیں تشدد کانشانہ بناتے ہیں آئندہ ہم کسی بھی لاش یا فرد کو بچانے کی کوشش نہیں کریں گے ملاح کا میڈیا سے گفتگو تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات ملاکنڈ سے آئی ہوئی ایک خاتون جنہوں نے دریائے کابل میں اپنے دو شیرخوار بچیوں کو دریائے کابل میں پھینک دئیے اور بعد میں خود بھی دریائے کابل میں چھلانگ لگا دی موقع پر موجود ملاح شاہد نے خاتون کو بچا لیا اور ان کے بچیوں کی لاشیں نکال دی خاتون اور بچوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچا دئیے لیکن وہاں پر نوشہرہ پولیس اہلکار نے ملاح کو گریبان سے پکڑکر تشدد کا نشانہ بنایا کہ تم نے کیوں لاشیں نکال دی جس کے خلاف ملاحوں اور علاقہ کشتی پل کے عوام نے پولیس اہلکار وں کے اس اقدام کے خلاف شدید احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی انہوں نے کہا کہ ہم انسانی ہمدردی کے تحت لوگوں کی خدمت کررہے ہیں لیکن نوشہرہ پولیس اہلکار ہمیں نیکی کرنے نہیں دیتی ہم نہ تو لاشیں نکالنے اور لوگوں کو بچانے کے پیسے لیتے ہیں اور نہ ہمیں تنخواہ ملتی ہے لیکن اس کے باوجود نوشہرہ پولیس ہمیں بے جا تنگ کررہے ہیں آئندہ کیلئے ہم دریائے کابل میں ڈوبنے والے لاش یا خود کشی کرنے والے انسان کے قریب بھی نہیں جائیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر