لاپتہ افراد کیس ،بازیابی کیلئے موثر اقدامات نہ کرنے عدالت کا اظہار برہمی

لاپتہ افراد کیس ،بازیابی کیلئے موثر اقدامات نہ کرنے عدالت کا اظہار برہمی

کراچی(اسٹاف رپورٹر )سندھ ہائی کورٹ میں پیرکو لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی ۔عدالت نے شہریوں کی بازیابی سے متعلق موثر اقدامات نہ کرنے شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 10 جے آئی ٹیز کریں، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ، بندہ بازیاب کرائیں ۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گذار نے موقف اختیار کیا کہ عبدالقادر 2013 میں گارڈن کے علاقے سے سرکاری اہلکار لے گئے تھے ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تین سال گزر جانے کے باوجود گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی ۔ عدالت نے شہریوں کی بازیابی سے متعلق موثر اقدامات نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اورایس ایس پی ساؤتھ کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ۔جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کی ڈیوٹی ہے وہ بتائے کہ لاپتہ شہری کہاں ہیں ۔ متعلقہ ایس ایس پیز گمشدہ شہریوں کی بازیابی کے لیے سنجیدہ کوشش کریں ۔ ایک اور گمشدہ شہری جہانگیر بابو سے متعلق تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جہانگیر بابو کی بازیابی کے لیے چار جے آئی ٹیز ہو چکی ہیں جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 10 جے آئی ٹیز کریں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، بندہ بازیاب کرائیں ۔ عدالت نے شہری عباس اور دیگر کی بازیابی کی درخواستوں پر ڈی جی رینجرز ، آئی جی سندھ اور دیگر سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی ۔

مزید : کراچی صفحہ اول