غیر مسلموں کے نام سے شراب کی فراہمی قابل مذمت ہے :علماء مشائخ

غیر مسلموں کے نام سے شراب کی فراہمی قابل مذمت ہے :علماء مشائخ

کراچی(اسٹاف رپورٹر ) بین المذاہب امن اتحاد پاکستان و مشائخ عظام پاکستان کے ترجمان نے جاری اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے ، سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شراب کی فروخت پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے پورے پاکستان میں شراب کی کشید و فروخت پر پابندی عائد کی جائے ، ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست و حکمران جماعت کے قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار کی جانب سے بھی شراب پر پابندی کا خیر مقدم کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اسلام سمیت دیگر مذاہب میں بھی شراب کی اجازت نہیں ہے ۔ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں شراب نوشی ، کیلئے غیر مسلم کے نام سے شراب خانوں کو پرمٹ دینے قابل مذمت عمل ہے۔گذشتہ سال قومی اسمبلی میں شراب خانوں کے خلاف بل پیش کیا گیا تھا لیکن نام نہاد جمہوری و اسلامی حکومت کے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے یہ کہہ کر بل مسترد کردیا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ ، یہ ہمارے لئے فکریہ لمحہ ہے کہ بھارتی ریاست بہار نے شراب نوشی و فروخت پر پابندی کا اعلان کیا اور بھارتی ہائی کورٹ نے توثیق کی اور حال ہی میں عراقی پارلیمنٹ نے شراب پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے ، شراب نوشی ، درآمد و برآمد پر مکمل پابندی کے علاوہ بھاری جرمانے کی سزا بھی مقرر کردی ہے۔بین المذاہب امن اتحاد پاکستان و مشائخ عظام پاکستان کے ترجمان نے مزید کہا کہ شراب جہاں اسلامی و مذہبی نقطہ نظر سے قابل ممانعت ہے وہاں ، صحت کے لئے بھی انتہائی مضرہے، غیر مسلموں کے نام پر مسلم آبادیوں میں شراب خانے ایک مکروہ دھندہ ہے ، جس سے معاشرے میں بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط پذیری کے رجحان کے ساتھ معاشرتی برائیاں بڑھتی ہیں ۔بین المذاہب امن اتحاد پاکستان و مشائخ عظام پاکستان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ پورے پاکستان میں شراب نوشی ، درآمد ، کشید پر مکمل پابندی عائد کی جائے ، کیونکہ ایک اسلامی ملک کے علاوہ پاکستان میں رہنے والی غیر مسلم برادری کے مذاہب میں بھی شراب نوشی کی اجازت نہیں ہے ۔ ہمیں عراقی پارلیمنٹ کی طرح فوری طور پر شراب پر پابندی کے علاوہ اس پر سخت جرمانے بھی عائد کرنے چاہیے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...