ملازمتوں میں مہاجروں کو 40فیصد کوٹہ دیاجائے: ڈاکٹر سلیم حیدر

ملازمتوں میں مہاجروں کو 40فیصد کوٹہ دیاجائے: ڈاکٹر سلیم حیدر

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی اعلان کردہ ملازمتوں میں سے 40فیصد ملازمتیں مہاجر نوجوانوں کو فراہم کرے۔ ماضی کی طرح اگر اس بار بھی اقربا پروری اور جیالا نوازی کا مظاہرہ کیا گیا تو MIT اس ناانصافی کیخلاف ہر فورم پر احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ کوٹہ سسٹم اور حکومت کے متعصبانہ طرز عمل کے باعث اب تک لاکھوں مہاجر نوجوان بیروزگاری کے جہنم میں دھکیلے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملازمتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ لیکن پیپلزپارٹی جب بھی برسراقتدار آتی ہے ملازمتیں صرف اور صرف جیالوں کو یا پھر سندھی النسل افراد کو دی جاتی ہیں۔ شہر کے پڑھے لکھے ، اعلیٰ تعلیم یافتہ مہاجر نوجوان ملازمتوں کے حصول کیلئے برسوں سے دھکے کھارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اپنے دور میں پانچ فیصد مہاجروں کو بھی سرکاری ملازمتیں نہیں دیں ۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم ، صحت ، پولیس ، ریونیو ، زراعت ، آبپاشی ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، بلدیات اور دیگر محکموں میں مہاجر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں یہ معاہدہ طے کیا گیا تھا کہ 40فیصد شہری علاقوں اور 60فیصد دیہی علاقوں کے لوگوں کو ملازمت اور تعلیم کا کوٹہ دیا جائے گا لیکن اس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا اور اگر اب بھی پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو پھر سندھ کے مہاجر سراپا احتجاج بن جائیں گے۔ انہوں نے تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں اور سماجی تنظیموں سمیت بااثر مہاجر افراد سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے پر MIT کے ہاتھ مضبوط کریں اور حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ مہاجر نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کریں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر