بھارتی فائرنگ افسوسناک، کلبھوشن سے متعلق شواہد جلد اقوام متحدہ میں پیش کر دینگے، سیکر ٹری خارجہ

بھارتی فائرنگ افسوسناک، کلبھوشن سے متعلق شواہد جلد اقوام متحدہ میں پیش کر ...

اسلام آباد(اے این این) سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کے معاملے پر ڈوزیئر تیار ،شواہد جلد اقوام متحدہ میں پیش کر دینگے،کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ افسوسناک ہے ،مسئلہ کشمیر وعدوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ،اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل نہ ہونا دنیا کے لئے نقصان دہ ہے،اسی وجہ سے عراق میں جنگ ہوئی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے، مستحکم افغانستان ہم سب کی ضرورت ہے۔ افغانستان مفاہمتی عمل میں دیگر ممالک سے مل کر کوششیں جاری رہیں گی۔ مفاہمتی عمل چاروں ممالک اپنے اپنے طور پرچلا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ آج سے 71 برس پہلے اقوام متحدہ کی تشکیل ہوئی، اقوام متحدہ عالمی پولیس یا حکومت نہیں لیکن یہاں سے مضبوط آواز بلند ہوتی ہے اور پاکستان کی اقوام متحدہ کے ساتھ کمٹمنٹ پر کوئی دوسری رائے نہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر پرعمل نہیں ہو رہا جس کا دنیا کو نقصان ہو رہا ہے،اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل نہیں ہوا توعراق جنگ کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن پسند اور عدم مداخلت کے چارٹر پریقین رکھتا ہے، اس عالمی ادارے کا سب سے نمایاں اصول عدم مداخلت ہے اور پاکستان عدم مداخلت کے اصول پرعمل درآمد نہ ہونے سے متاثر ہوا۔ کل بھوشن یادیو کے معاملے پر پر ڈوزئیر تیار ہو رہے ہیں جو جلد اقوام متحدہ کو دیں گے۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ مسئلہ ہے، اس کا حل اقوام متحدہ کیاصولوں اور دستور پر عمل سے ممکن ہے، پاکستانی عوام کی توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل ہو۔ مسئلہ کشمیرکی اخلاقی اساس اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہی آتی ہے۔ سرحد پر بھارتی اشتعال انگیزی پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 2003 کے جنگ بندی معاہدے پر سختی سے کاربند اور اس کا احترام کرتا ہے، ایل اوسی اور ورکنگ بانڈری پر بھارتی گولہ باری افسوس ناک ہے، ہم بھارتی گولہ باری اور فائرنگ پر بھرپور احتجاج کرتے ہیں۔افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمتی عمل سے متعلق اعزاز چوہدری نے کہا کہ مستحکم افغانستان ہم سب کی ضرورت ہے۔ افغانستان مفاہمتی عمل میں دیگر ممالک سے مل کر کوششیں جاری رہیں گی۔ مفاہمتی عمل چاروں ممالک اپنے اپنے طور پرچلا رہے ہیں۔

سیکریٹری خارجہ

مزید : پشاورصفحہ اول