”میں کہاں سے آیا؟“

”میں کہاں سے آیا؟“
”میں کہاں سے آیا؟“

  


ہوٹل انڈسٹری کے ٹائیکون صدر الدین ہاشوانی اپنی سربستہ راز زندگی سے پردہ اٹھاتے ہیں

تبصرہ۔شاہدنذیرچودھری

ہوٹل انڈسٹری میں ٹائیکون کی حیثیت رکھنے والے صدر الدین ہاشوانی کی زندگی کی کہانی نہایت دلچسپ اور حیران کن ہے۔پرل کانیٹینل ،میریٹ جیسے ہوٹل وریزارٹ،کاٹن فارماسیوٹیکل اور دیگر صنعتی و کارباری اداروں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والے ہاشوانی صاحب نے ان تھک محنت اور غربت سے نکل کر یہ مقام حاصل کیا،آج وہ محلات میں سو رہے اور سونے کے چمچہ سے کھاتے ہوں گے،لیکن ایک وقت تھا جب انہیں جھونپڑیوں میں سونا پڑا،سڑک ہوٹلوں سے کھانا پڑا،کھٹارا بسوں میں سفر کرنا پڑا....جلاوطنی بھی کاٹنی پڑی۔ میریٹ ہوٹل میں بم دھماکوں کے دوران انہیں قتل اور اغوا جبکہ انکی جائیدادوں اور کاروبار پر قبضہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی لیکن انہیں جو بھی ملا ،انکی روحانی اور پیشہ وارانہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔وہ اسماعیلی ہیں ۔انکے خاندان نے اسماعیلی امام کے ساتھ ہندوستان ہجرت کی اوربے پناہ مشکلات اٹھانے کے باوجود ہاشوانی خاندان اپنے مذہب کی ترویج کرتا رہا،دکھی انسانیت کی خدمت اور محتاجوں کو انکے پیروں پر کھڑا کرنے کے جذبے نے ہاشوانی خاندان کو بے پناہ عزت اور مقام عطا کیا۔انکے خاندان کے بہت سے بڑے نام ایسے ہیں جنہوں نے بعد ازاں نوبل انعام بھی حاصل کئے لیکن ہر ایک فرد نے جن حالات میں جنم لیا،اسکا پس منظر انتہائی حیران کن اور دلچسپ ہے جسے صدر الدین ہوشوانی نے اپنی آپ بیتی” سچ کا سفر“ میں رقم کیا ہے تاہم یہ داستان حیات زیادہ تر انکی اپنی کشمش حیات و نظریات پر مبنی ہے۔ایک سچے پاکستانی کی حیثیت سے وہ پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور شکر گزار انسان ہیں۔ہاشوانی صاحب کی داستان حیات کا مطالعہ کرنے کے بعد جہاںکسی بڑے کاروباری انسان کی روح تک جھانکنے کا موقع ملتا ہے وہاں انہیں ریاستی اور سیاسی طور پر پیش آنے والے واقعات کو ترازو کرنے کا موقع ملتا ہے کہ انہیں کیسے کیسے صبر آزما مراحل سے اپنی خود ارادی اور ایمانی قوت کے تحت گزرنا پڑااور انہوں نے ہمت نہیں ہاری،اس ملک کا نام سربلند کیااور ترقی کی بنیاد رکھی۔ہاشوانی صاحب نے آپ بیتی میں اپناجو خاندانی پس منظر بیان کیاہے،یہ بذات خود ایک تاریخ ہے اور پاکستان کے ابتدائی حالات سے بھی آگاہ کرتی ہے،انکے خاندانی پس منظر کو جانے بغیر انکی شخصیت اور غیر معمولی جدوجہد کے بھید نہیں جانے جاسکتے ۔وہ لکھتے ہیں۔

”جن لوگوں نے ایران سے برطانوی ہند تک امام حسن علی شاہ کے قافلے کے ساتھ سفرکیا ان میں ایک مکھی تھارو بھی تھے جو میرے پر دادا کے والد تھے۔ جب اسماعیلی 46ویں امام کی قیادت میں جنوبی ایشیا مین داخل ہوئے تو ان کے مصاحبین اور پیروکار راستے میں آباد ہوتے گئے۔ اس طرح اسماعیلی مسلک کے افراد کی ایک موثر تعداد بلوچستان اور سندھ میں آباد ہوگئی۔ ایران سے آنے والے اسماعیلیوں نے گودار، پسنی ، اوڑمارا اور جیوانی میں رہائش اختیار کی۔ کچھ مسقط چلے گئے کیوں کہ گوادر کی بندرگاہ شہر سشہر سمیت آج کے بلوچستان کاایک حصہ تھی جو عمان کے حکمران کے تسلط میں تھا۔ میرے نانا قاسم کے خاندان نے گوادر میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا اور میری والدہ زیور بائی تین برس بعد پیدا ہوئیں۔ جب میں بڑا ہوا اور اپنا کاروبار شروع کیا تب سے میں کئی مرتبہ گوادر گیا اور یہ آمد و رفت میری پیشہ وارانہ زندگی کا ایک اہم سنگ میل بن گئی۔

جب بھی میں گوادر جاتا، اس کے مجھ پر جذباتی اثرات مرتب ہوتے کیوں کہ یہ میری پیاری اور عزیزہ والدہ کا پہلا گھر تھا۔ لسبیلہ ایک ایسا شاندار شہر ہے جس کا ذکر تاریخ کی کتابوں کے مختلف ابواب میں موجود رہا اور صدیوں پر صدیاں گزرتی چلی گئیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم کے دورمیں جب وہ پنجاب (پاکستان اورہندوستان) سے بابل واپسی کے سفر پر تھا تو وہ لسبیلہ سے گزرا اور انیسویں صدی میں ایک برطانوی افسرکی حیثیت سے کسی یورپی نے لسبیلہ کو نہیں دیکھاتھا۔ آٹھویں صدی میں عربی جرنیل محمد بن قاسم سندھ میں اپنی اسلامی فتح کے لیے لسبیلہ سے گزرا۔ لسبیلہ وہ شہر ہے جو تقریباً 150برس قبل ہی متحرک اسماعیلیوں کا مرکز بن گیا تھا۔

”مکھی تھارو“ لسبیلہ یا پھر سونمیانی میں قیام پذیر ہوگئے جو کراچی سے تقریباًً150میل کے فاصلے پر جنوبی بلوچستان کاایک ساحلی شہر ہے۔ ان کے خاندان کے متعلق تو یقینی طور پرکچھ نہیں کہا جا سکتالیکن ممکنہ طور پر مکھی تھارو سونمیانی میں دفن ہیں جو اس وقت پاکستان کی نوزائیدہ خلائی صنعت کا مرکز ہے۔ ہمیں اس بارے میں بہت کم علم ہے کہ مکھی تھارو نے زندگی گزارنے کے لیے کون سا پیشہ اختیار کیا اور اپنی زندگی کہاں بسر کی۔ ہمیں توصرف انہی باتوں کا علم ہے جو مختلف خاندانوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہو کرسامنے آئیں۔ میں نے لسبیلہ اور سونمیانی میںمکھی تھارو اور ان کے گھرانے کے متعلق مزید معلومات کے حصول کی خاطر مقامی مورخین اوربڑے بوڑھے اسماعیلیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن میری یہ کوششیں بے سود رہیں۔ ہم محض قیاس آرائی ہی کر سکتے ہیں کہ انہیں اسماعیلیوں میں انتہائی قابل عزت مقام حاصل تھا۔

معزز مکھی نمازوں کی امامت کرتے اور جماعت خانہ میں صدارت کے فرائض سر انجام دیتے۔ جہاں اسماعیلی عبادت کے لیے جمع ہوتے تھے۔ ان کے بیٹے مکھی ہاشو جو اپنے والد کے جانشین مقرر ہوئے تھے وہ بھی یہ مذہبی فرض بجا لاتے تھے۔ بعدازاں مکھی ہاشو کراچی چلے آئے جہاں انہوں نے اون اور جانوروں کی کھالوں کی تجارت کا ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔

ایک دن ان کی قسمت نے پلٹا کھایا۔ ایک برطانوی جو کاروباری دورہ پر ہندوستان آباد ہوا تھا مکھی ہاشو کے دفترمیں داخل ہوا۔ اس کا تعلق رالی برادرز (Ralli Brothers)سے تھا۔ یہ ایک ایسی کمپنی تھی جو مکھی ہاشو کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کاروباری سودے کرتی رہی تھی اور اس برطانوی نے مکھی ہاشو کو ایک ایماندار شخص اور وعدے کا پکا پایا۔ اس ملاقاتی نے مکھی ہاشوکو کمیشن کی بنیاد پر رالی برادرزکا سول سپلائیر(Sole Supplier)بننے کی پیشکش کی۔ وہ ایک ایجنٹ کی مانندکام کر رہا تھا جواپنی برطانوی کمپنیوں کے لیے مصنوعات خریدتا تھا۔ یہ ایک اہم کامیابی تھی۔ اس دور میں ”رالی برادرز“ ایک وسیع بین البراعظمی تجارتی کمپنی اور دنیا بھر میں مصنوعات کی تجارت میں قائدانہ حیثیت کی مالک تھی۔ اسکی بنیاد پانچ یونانی بھائیوں نے رکھی تھی جو اپنے وطن سے ہجرت کرکے لندن پہنچے اور وہاں ایک نیا کاروبار قائم کیا۔انہوں نے کراچی میں اون اور جانوروں کی کھالوں سمیت بہت سی مصنوعات متعارف کروائیں اور انہیں یورپ برآمدکرنا شروع کردیا۔

اب مکھی ہاشو جومیرے والد کے دادا تھے اس کمپنی کے واحد نمائندہ بننے والے تھے۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ پیش کش قبول کرلی اور ان کے لیے انتہائی محنت، حکیمانہ اور دانشمندانہ انداز میں کام کیا۔ بالآخر انہوں نے کراچی میں لی مارکیٹ کے علاقے میں ایک گھر تعمیر کرلیا جسے میں نے اب ہاشو میوزیم میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک بڑا جماعت خانہ ہے۔ یہ مکھی ہاشو کے لےے بہت اہم تھا کیوں کہ اللہ کے لیے اجتماعی عبادت اور نماز ان کی شخصیت کی جبلت بھی تھی۔ اور یہ ان کے روز مرہ پیشہ ورانہ فرائض میں اہم حیثیت رکھتی تھی۔

درحقیقت جیسے جیسے کاروبار بڑھتا گیا ان کی خیراتی اور برادری کو فروغ دینے پر مبنی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ لسبیلہ سے جماعت کے ساتھیوں نے ایک بہتر زندگی اختیارکرنے کے لیے کراچی کی طرف ہجرت کی جوایک بڑا شہر اور ابھرتی ہوئی سمندری بندرگاہ تھی۔ جب 1911ءمیں ان کا انتقال ہوا مکھی ہاشو دنیاوی اورمذہبی ذمہ داریوں کے حسین امتزاج کی صورت میں بہت کچھ حاصل کر چکے تھے اور وہ اپنی زندگی کے آخری دن تک ”مکھی“ کی حیثیت سے اپنے فرائض کی انجام دہی پرفخرمحسوس کرتے رہے۔

اپنی تمام تر کاروباری ذہانت کے باوجود مکھی ہاشو ایک سادہ، خدا ترس اورنیک انسان تھے۔ ان کے چھے بیٹے (سات بھی ہو سکتے تھے، اس کے متعلق ہم پر یقین نہیں) اور ایک بیٹی شرفی تھی جو ان کی آنکھ کا تارا تھی۔ اسکی آواز انتہائی سریلی تھی اور وہ تلاوت کرنے، نظمیں پڑھنے اور گیت گانے میں شہرت رکھتی تھی۔ اسکے لیے بہت سے رشتے آئے لیکن بوجوہ مکھی ان میں سے کسی بھی رشتے کے لیے راضی نہ ہوئے۔ شاید ایک ذمہ دار اور معاملہ فہم باپ کی حیثیت سے انہوں نے یہ سوچا ہو کہ ان کی بیٹی دستیاب رشتوں سے کہیں بہتر رشتہ کی مستحق ہے۔ ایک روایت کے مطابق ایک دن مکھی ہاشو، آغا خان کی تکریم کے اظہار کے لیے حاضر ہوئے۔ یہ ان کا روزانہ کا معمول تھا کہ جب بھی آغا خان بمبئی سے کراچی آتے، مکھی ہاشو ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ مکھی ہاشو، آغا خان کے بہت قریب تھے۔ یہ اعزاز شایدمکھی ہاشوکے لیے ہی مخصوص تھا کہ وہ آغا خان کے پہاڑی گھر جس کا نہایت ہی پرکشش نام ہنی مون لاج رکھا گیا تھا میں ملنے جاتے۔ اپنی گھوڑا گاڑی میں واپسی کے سفرکے دوران مکھی ہاشو آنسو بہانے لگے۔

ایک جماعت بھائی وظیفہ خوار تھا اور جماعت خانہ کی دیکھ بھال کرتا تھا ۔اس نے ان کے چہرے کو آنسوﺅں سے تر دیکھ کر استفسار کیا کہ کیامسئلہ ہے۔ معلوم ہوا کہ آغا خان نے ان کی سرزنش کی اور پوچھا کہ انکی بیٹی کی ابھی تک شادی کیوں نہیں ہوئی۔ لب و لہجہ نرم تھالیکن ناراضیہویدا تھی۔ مکھی ہاشو نے کہا تھا ”یہ پہلی دفعہ تھا کہ آغا خان مجھ سے ناراض ہوئے اب جو رشتہ پہلے آیا میں اسے قبول کرلوں گا۔“ اس وقت جماعت بھائی جو ایک نہایت ہی غریب رنڈوا تھا اس نے اپنے بیٹے کے لیے شرفی کا رشتہ مانگا۔ مکھی ہاشو فوراً ہی رضا مندہوگئے۔ جب وہ واپس گھر پہنچے اور اپنے فیصلے کا اعلان کیا توان کے بیٹوں یعنی شرفی کے بھائیوں نے احتجاج کیا لیکن والد نے ان کی ایک نہ سنی۔ اگلی صبح وہ امام کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے اور انہیں بتایا”میں نے کل اپنی بیٹی کی شادی طے کر دی ہے۔“

آغا خان مسکرائے اورکہا”اللہ تم پر اپنا فضل و کرم فرمائے، شرفی گلابوں کی مانند مہکے گی۔“ ان الفاظ کے باوجود شرفی کی شادی کے متعلق شکوک موجود تھے کیوں کہ شرفی کے خاوند اور مستقبل بارے کچھ زیادہ امید نہ تھی۔ تاہم شرفی کے ہاں خوبصورت ، پرکشش اور شائستہ بچے پیداہوئے۔ ان میں سے ایک غلام علی الانہ 1906-85مصنف اور شاعر ، عالم اورسفارتکار قائداعظم کے ایک قریبی دوست تھے۔ جنہوں نے پاکستان اور اقوام متحدہ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ 1977ءمیں اپنی زندگی کے آخری ایام میں الانہ کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق میں خدمات کے اعتراف میں نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔ وہ انتہائی مشہور اور پسندیدہ شخصیت کے مالک انسان تھے اور ایک دفعہ الانہ کے متعلق کہا گیا”وہ گلابوں کی مانند مہکتے تھے۔ “

بہرحال شرفی کے متعلق آغا خان کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور میرا خیال ہے کہ یہی منزل اور قسمت ہے۔

میرے اہل خانہ کا اس عقیدہ پرپختہ ایمان ہے کہ پروردگاردنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ہمارا مقدر لکھ دیتا ہے۔ میں نہایت ہی نیک اور پاکباز والدین کے گھر پیداہوا ور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور شکر کا اظہارمیری شخصیت کا لازمی حصہ ہے۔ میرے والدین عملی لیکن اکتسابی مذہبی لوگ تھے۔ یہی کچھ انہوں نے اپنے والدین سے سیکھاتھا۔ چوں کہ وہ مومن اور سچے مسلمان تھے اس لیے میرے والدین نے اسی برداشت اور جامعیت کوحرزجاں بنا لیا جو کہ نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کا خاصہ تھی۔ جب نبی اکرم ﷺنے مکہ فتح کیا اور خانہ کعبہ کا انتظام سنبھال لیا تو آپ ﷺنے غیر مسلموں کو اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے سے نہیں روکا۔ قرآن پاک کسی کو اسلام قبول کرنے کے لیے مجبور نہیں کرتا بلکہ قبول اسلام کا عمل، ذاتی یقین اور آگہی کا نتیجہ ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے والدین نے یہ محسوس کیا کہ ان کے بچوں کواپنے دل میں محض اس لیے اسلام کو جگہ نہیں دینی چاہئے کہ وہ ایک مسلم گھرانے میں پیداہوئے بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور رضامندی سے اسلام کی تعلیمات کو سمجھا اور اپنے دل میں سمو لیا۔

مجھے اعتراف کرلینا چاہئے کہ یہی کچھ میرے ساتھ بھی پیش آیا۔ میں نے جدوجہد کی، محنت و مشقت کی، مشکلات بھری زندگی بسرکی۔ ایمانداری کواپنا وتیرہ بنایا۔ ہمیشہ سچ بولا اور ہمیشہ شفافیت و صاف گوئی ہی کی تلاش میں رہا۔ اس ضمن میں رہنمائی کے حصول اور انتہائی تسکین و طمانیت کی خاطر میں نے خودکو زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کی طرف متوجہ پایا۔ میں نے اپنی زندگی کے ہر گوشے میں مکھی ہاشو کی تعلیمات ہی کو سایہ فگن پایا۔ جنہوں نے انتہائی طلسمی اندازمیں اپنی پاکباز اور پیشہ وارانہ زندگی میں خوبصورت امتزاج پیدا کیا۔ ایک چیز جس سے میں بخوبی آگاہ ہوں کہ اسلام میں حسد حرام ہے۔ بدقسمتی سے میں نے اپنی زندگی اور پاکستان میں حسد کا مشاہدہ کیا ہے۔ مجھے اس کاعملی تجربہ ہوا ہے اور اس کے نتائج بھی میںنے بھگتے ہیں۔ صاف بات تویہ ہے کہ حسد سے زیادہ کوئی غیر اسلامی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے خاندان کا ذکر طویل ہوگیا ہے لیکن سابقہ احوال اس قدر اہم ہیں کہ انکااظہارکر ہی دیا جائے کہ جسے عام زبان میں کہتے ہیں ”میں کہاں سے آیا“ اور پھر میں نے اپنے والدین خصوصاً اپنی والدہ سے روز مرہ زندگی اور روحانیت سے متعلق کیاسبق سیکھے۔

مکھی ہاشو کی وفات کے بعد ان کے بیٹے عبداللہ نے ان کے کاروبار کا انتظام و انصرام سنبھال لیا اوررالی برادرز کے لیے کمیشن ایجنٹ کی حیثیت سے بدستور کام کرتے رہے۔ 1927ءمیں میرے دادا عبداللہ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے اورمیرے والد حسین ہاشوانی نے خاندانی کاروبار سنبھال لیا۔ چندہی برسوں میں میرے بڑے بھائی اکبر بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ ابھی تک ان کے کاروبار کااصل شعبہ کپاس تھا جس سے وہ کافی منافع حاصل کرتے رہے۔ یہ کاروبار مزید نصف صدی تک جاری رہا اور 1968ءمیں رالی برادرز نے پاکستان میں اپنا کاروبار بند کردیا۔ اکبر ان کے ساتھ آخر تک کام کرتے رہے۔ میرے والد محترم1977ءمیں انتقال کر گئے ۔وہ عملی زندگی سے 1968ءمیں ہی سبک دوش ہو گئے تھے۔ میرے والد میرے لیے ابتدائی مثال کی حیثیت رکھتے تھے۔ میرے والد حسین ہاشوانی ہمیشہ مصروف رہتے اور یہ وہی تھے جنہوں نے کاروبا رکو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا46ویں امام آغا خان اوّل بمبئی میں آباد ہو گئے تھے۔ وہ فوت ہوگئے اوروہیں انہیں دفن کیا گیا۔ چوں کہ میرے والد کا خاندان ان اوران کے جانشینوں کے انتہائی قریب تھا اوران کی تکریم یا ان سے مشاورت کے لیے ان کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتے اس لیے وہ کراچی اور بمبئی کے درمیان مستقبل سفرکرتے رہتے ۔ ایک ایسے ہی سفر کے دوران میرے والد حسین ہاشوانی پیداہوئے۔ جب ان کے والدین کشتی کے ذریعے بمبئی سے واپس آرہے تھے۔ ہمارے خاندان میں اکثرمذاق کیا جاتا تھا کہ میرے والد محترم کو کشتیاں بہت پسند تھیں وہ انہیں دیکھ کر سحر زدہ ہو جاتے اورپھر سمندری سفر اور سامان لے جاتے ہوئے بحری جہاز ان کوانتہائی بھاتے تھے۔ ان کایہ جذبہ و شوق اس قدر بڑھ گیاکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ان کی پیدائش بھی کشتی میں ہی ہوئی۔

میرے والد حسین ہاشوانی کا گھرانہ سات بچوں، چار لڑکیوں اور تین لڑکوں پر مشتمل ایک بڑا گھرانہ تھا۔ میرا نمبر چھٹا تھا جس کے بعد میری چھوٹی بہن تھی۔ 1939میں میری پیدائش سے ایک برس پہلے میرے والد نے کراچی میں ایک مکان تعمیر کیاجسے ”گرین بنگلہ“ کہا جاتا ہے۔ یہ مٹھرا کے علاقے میں اپنی نوعیت کا واحد اور گردونواح میں ایک شاندارنمونے کاحامل گھر تھا۔ چوں کہ اس علاقے میں دیگر اکثر افراد فلیٹوں میں رہتے تھے اس لیے میرے والد نے یہاں مکان تعمیر کیا جو رالی برادرز کے ساتھ شراکت داری کے بعد نسبتاً خاندانی خوشحالی کی علامت تھا۔ اسے اسماعیلیوں میں کامیابی اور قابل فخرکارنامہ سمجھا گیا۔ سر سلطان محمد شاہ عزت مآب (ہزہائی نس) آغا خان سوم 48ویں امام موجودہ49ویں امام کے دادابنگلہ کا افتتاح کرنے کے لیے کراچی تشریف لائے۔ اگلے سال میں جان ہائی میٹرنٹی ہوم میں پیداہوا جسے آج آغا خان ہسپتال فار ویمن اینڈ چلڈرن کہاجاتا ہے جو گرین بنگلہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پرکھارادر جماعت خانہ کے قریب واقع تھا۔ ہمارے ملحقہ علاقے میں ایک ایسی مثالی برادری موجود تھی جس میں یگانگت، سخاوت، دریا دلی اور خدمت خلق کے جذبے کو کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔ یہ ایک خوشگوار اور سادہ دنیا تھی جس میں پیدائش ایک قابل فخرامر تھاکیوں کہ1948ءکی دہائی ایک روشن دہائی تھی۔ میرے والدین کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آئندہ دہائی ان کی زندگیوں کے علاوہ ان کی برادری کی تاریخ اور ملک کوہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے گی۔

مزید : بلاگ


loading...