نئی موبائل سم خریدنے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے افسوسناک خبر آ گئی

نئی موبائل سم خریدنے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے افسوسناک خبر آ گئی
نئی موبائل سم خریدنے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے افسوسناک خبر آ گئی

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) ملک بھر میں موبائل کمپنیوں کی جانب سے مفت سموں کی فروخت بند کرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

وارد صارفین کیلئے بڑی خوشخبری، کمپنی نے وہ اعلان کر دیا جس کا سب کو انتظار تھا

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسماعیل شاہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کو بتایا کہ پی ٹی اے نے موبائل کمپنیوں کی جانب سے مفت سموں کی فروخت کو بند کرنے کیلئے لائحہ عمل کی تیاری شروع کر دی ہے۔

چیئرمین نے کمیٹی کو برائے بتایا کہ اب تمام سموں کی فروخت بائیو میٹرک تصدیق کے ذریعے کی جا رہی ہے اوراس کے باوجود مارکیٹ میں مفت سمیں فروخت ہو رہی ہیں۔ مکمل طور پر مفت فروخت کی جانے والی سموں میں 50 سے 75روپے کا بیلنس بھی دیا جاتا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے اس سارے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیسے اور کیوں کمپنیاں مفت سموں کی فروخت جاری رکھے ہوئے ہیںجس پر چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ موبائل کمپنیاں اپنے صارفین کی تعداد میں اضافے کیلئے مفت سمیں فروخت کرتی ہیں۔

موبی لنک صارفین کیلئے بڑی خوشخبری، خرچہ بے حد کم ہو گیا

ڈاکٹر اسماعیل نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کمپنیاں ایک مفت سم بیچنے پر 200 روپے کا نقصان بھی برداشت کرتی ہیں جبکہ انہیں خریدنے والے زیادہ تر افراد مفت بیلنس ختم ہونے کے بعد ان سموں کو ضائع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایسی سم ضائع کرنے کے بعد صارف کو اس کے مالکانہ حقوق سے بھی دستبردار ہونا پڑتا ہے کیونکہ ایک ہی شناختی کارڈ پر ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 5 سمیں ہی رجسٹرڈ کی جا سکتی ہیں۔

سیلولر کمپنیاں اپنے صارفین کی تعداد کو برقرار رکھنے اور نقصان کو پورا کرنے کیلئے مالکانہ حقوق کے خاتمے کیلئے فیس کی کٹوتی بھی کرتی ہے۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی