پولیس ٹرینگ کالج پر حملے کی سپاری بھارت نے دی

پولیس ٹرینگ کالج پر حملے کی سپاری بھارت نے دی
پولیس ٹرینگ کالج پر حملے کی سپاری بھارت نے دی

  

نظام الدولہ

کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں کے حملے کی ذمہ داری داعش قبول کررہی ہے لیکن اسکا ذمہ دار اس ادارے کو بھی ٹھہرانا چاہئے جواپنی سکیورٹی برقراررکھنے میں غفلت برت رہا تھا۔کالج ہذا کی سکیورٹی انتہائی کمزور تھی،حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کوئٹہ میں جہاں پولیس کیڈٹس کو تربیت دی جارہی ہے ایک ایسے خطہ میں واقع ہے جہاں دہشت گردتنظیموںکا حملے کرنا معمول رہاہے۔اس حملے سے ایک روز پہلے گوادر میں نامعلوم حملہ آوروں نے سکیورٹی افیسرز کو بھرے بازار میں نشانہ بنایا کر بلوچستان میں یہ پیغام چھوڑ دیا تھا کہ ”ہم لوٹ آئے ہیں“ اسکے بعد تو سکیورٹی اداروں کو الرٹ ہوجانا چاہئے تھا کہ دشمن اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنچانے کے لئے پھرمیدان میں اُتر چکا ہے۔موجودہ حملہ میں ساٹھ سے زاید کیڈٹس شہید ہوگئے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران انتہائی بہادری سے لڑتے ہوئے کپٹن روح اللہ شہیدہوگئے جنہیں نشان جرات دیا گیا ہے ۔ایف سی کی بروقت کارروائی سے آپریشن مکمل کرلیا گیاہے اور اس دوران یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ حملہ آوروں کا افغانستان میں مسلسل رابطہ تھا،انہوں نے خودکش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔حملہ آوروں کی گفتگو اور رابطے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یا تو وہ افغانستان سے آئے تھے یا وہ مقامی تھے تاہم انکے ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود تھے جو آپریشن کو لیڈ کررہے تھے۔

ان اشاروں سے واضح طور پر نظریں افغانستان کے اندر تک جاتی ہیں .... اور یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ افغانستان کے اندر کیا ہورہا ہے اور کون کررہا ہے۔افغانستان میں بھارت کا سکّہ چل رہا ہے،کالعدم طالبان تنظیموں اور داعش کے ساتھ بھارت کے گہرے تعلقات منظر عام پر آچکے ہیں ۔بھارتی ایجنسی رااور افغان خفیہ ایجنسی میں باہمی رابطے بہت مضبوط ہیں اور بھارت ہی افغان پولیس و فوج کو تربیت دے رہا ہے ۔دوسری جانب بھارتی فنڈز سے دہشت گرد تنظیموں کا نیٹ ورک چلایا جارہا ہے۔ پاکستان پر حملے کرانے کے لئے بھارت داعش اورطالبان کو سپاری دیتا ہے اور پاکستان کے خلاف پراکسی وار برپا کرکے جہاں افغانستان اور پاکستان کے درمیان نفرت اور انتقام کا بیج بورہا ہے وہاں مقبوضہ کشمیر کی تحریک اور اپنی فوجی چھاو¿نیوں پر حملوں کا بدلہ بھی چکارہا ہے۔پاکستان کے خلاف بھارت سرجیکل سٹرائیک تو نہیں کرسکا لیکن گزشتہ دوماہ سے بھارت نے پاکستان کے اندر شورش برپا کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا اور پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کو متحرک کرکے اقتصادی منصوبے سی پیک کو ”رول بیک“ کرانے کی کوششیں کرارہا ہے۔بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی قابل مذمت تحریک جاری رکھنے کے لئے بھارت کے پاس افغان طالبان و داعش اور براہمداغ بگٹی جیسے مہرے موجود ہیں جن کو فنڈنگ کرکے وہ پاکستان میں امن عامہ تباہ کرانے کی جرآت کرسکتا ہے۔اندیشہ ہے سی پیک کے منصوبے کو سبوتاژ کرانے کے لئے بھارت تعمیراتی کاموں پر مامور عملے کے خلاف کارروائیاں کرسکتا ہے۔اس سے قبل بھی بلوچستان میں چین کے متعدد انجینرز اغوا اور قتل کئے جاچکے ہیں اور یہ طریقہ خدانخواستہ دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے تو سی پیک کی بروقت تعمیر کسی بڑے چیلنج سے کم ثابت نہیں ہوگی۔بلوچستان میں بھارت کی مداخلت تسلیم شدہ ہے اور اس بارے میں آئی بی کے سربراہ نے حال ہی میں متنبہ بھی کیا ہے کہ بھارت افغانوں کی مدد سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کرے گااور سی پیک کو زد پہنچائے گا۔

پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کے پس منظر میں بعض ناعاقبت اندیش فوج اور حکمران جماعت کے درمیان تناو¿ کی کڑیاں بھی تلاش کررہے ہیں ۔ان کافاسدانہ خیال یہ ہے کہ بلوچستان میں شورش برپا ہونے سے فوج کو بڑے آپریشن میں مصروف کردیا جائے گاتو اسے کرپشن کا گند صاف کرنے کے لئے فرصت نہیں ملے گی اور کومبنگ آپریشن میں تحفظات رکھنے والوں کو بھی عافیت کی سانس ملے گی۔اسطرح کی پراگندہ خیالی کا شکار ہمارے دانشور نہ جانے کیوں یہ بھول رہے ہیں کہ انکی کچی سوچوں سے ملک میں فساد پھیلتا اور قوم کو اپنے اداروں سے متنفر کرنے میں تقویت ملتی ہے۔اس وقت ملک نہایت نازک اور اہم دور سے گزررہا ہے ،اسے بیرونی سازشوں سے بچانا ہے اور اندر کے دشمنوں سے بھی جان چھڑوانی ہے جس کے لئے قوم میں یک جہتی اور قومی سوچ کا قوی ہونا ضروری ہے۔اس قوت کے بل پر فوج ہر محاذ پر کامیاب ہوگی۔ملک میں سیاسی اداروں پر بلاوجہ شک و شبہ کرنا جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔دشمن تو یہی چاہتا ہے کہ سول اور ملٹری اداروں میں افہام و تفہیم ختم ہوجائے اور انہیں اپنے مقاصد پورے کرانے میں آسانی ہوجائے۔خدا کرے کبھی ایسا نہ ہو۔پاکستان کو سول اور ملٹری اتحاد برسوں کی قربانیوں کے بعد نصیب ہوا ہے۔اس میں بلاوجہ شک و شبہ ابھار کر رخنے ڈالنے والوں کو چھری تلے دم لینا چاہئے اور پاکستان کے ازلی دشمنوں کے عزائم پر نظریں رکھ کر بات کرنی چاہئے۔

مزید : بلاگ